Daily Mashriq


بھارت سے ہوش وخرد کی ایک آواز

بھارت سے ہوش وخرد کی ایک آواز

وادی کشمیر کے عوام کے جذبات ایک ایسے بحرِبیکراں کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں جس میں بھارت کا اقتدار اور حاکمیت ایک ڈولتی اور ڈوبتی ہوئی نائو کی مانند ہو کر رہ گیا ہے ۔وادی کے عوام اور بھارت کی ریاست دونوں ''اب یا کبھی نہیں'' کی سخت پوزیشنیں لیتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ۔بھارت اپنے عالمی امیج اور اپنے زندہ ضمیر انسانوں کے اعتراضات اور وادی کے عوام کے بڑھتے ہوئے غصے سمیت کسی بھی شے کی پرواہ کئے بغیر عوامی مزاحمت کو کچل رہا ہے اور وادی کے نوجوان قطار اندر قطار سوئے مقتل چل کر طاقت کی حاکمیت اور فلاسفی کے چیتھڑے اُڑا رہے ہیں ۔ ان دنوں روزانہ کشمیری نوجوانوں پر بھارت کے ظلم وتعدی کی کوئی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر جوش اور انتقام کی نئی لہریں اُبھارتی ہے ۔طاقت اور مزاحمت دونوں کی شدت نے کشمیر کو واقعی نوآبادیاتی دور میں پہنچا دیا ہے ۔جب قابض اپنی کسی نوآبادی پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے اپنے تمام کارڈز استعمال کرتا جاتا ہے تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کارڈز کے ختم ہونے سے وہ طاقت درحقیقت اپنے دستیاب آپشن محدود کرتی چلی جاتی ہے ۔بھارت کشمیر میں اسی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔بھارت میں اس ظلم کے خلاف موثر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔اس میں تازہ اضافہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج پریس کونسل آف انڈیا کے سابق چیئرمین ،قانون اور عدل کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام جسٹس مارکنڈے کاٹجو شامل ہیں۔جسٹس کاٹجو کا تعلق کشمیری پنڈت گھرانے سے ہے۔مسٹر کاٹجو نے ''A Full Blown Guerilla war Is Developing In Kashmir'' کے عنوان سے بھارت کے مشہور میگزین''آوٹ لُک''میں کشمیر کی صورت حال کی عکاسی کرنے والا ایک چونکا دینے والا مضمون لکھا ہے ۔مارکنڈے کاٹجو اپنے مضمون کا آغاز ہی کشمیر کی اس زمینی حقیقت سے یوں کرتے ہیںکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری نوجوانوں کی اکثریت خود کو بھارت سے الگ تھلگ کر چکی ہے۔ایک فوج دوسری فوج کے ساتھ تو لڑ سکتی ہے مگر وہ عوام کے ساتھ نہیں لڑ سکتی۔جسٹس لکھتے ہیں کہ میرے خیال میں حکومت اور فوج کو اس حقیقت کو جان لینا چاہئے کہ کشمیر میں ایک مکمل گویلا جنگ ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن ہمارا میڈیا جس کے اینکرز Dr Goebells, Lord Haw Haw,Don Quixoteبن چکے ہیں ہمیں اصل تصویر نہیں دکھاتا ۔ گویا کہ جسٹس کاٹجو نے بھارتی میڈیا اور اینکرز کو نازی جرمنی کے مشہور زمانہ جھوٹے اورپروپیگنڈہ باز کرداروں سے جا ملایا ہے.جسٹس کی اس گہری طنز کے کاٹ اور گہرائی کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو نازی جرمنی کے ان کرداروں اور ان کے کاموں سے واقف ہیں ۔ مثلاََLord Haw Haw ولیم جوئس نامی اینکر کاایک فرضی نام تھا جو دوسری جنگ عظیم میں اپرکلاس میں مستعمل اورنہایت شستہ انگریزی میں ریڈیو سے اپنی بات کا آغاز ہی اس جذباتی جملے کہ'' جرمنی بلا رہا جرمنی بلا رہا ہے'' سے کرتا تھا ۔اس کے بعد وہ نازی حکمرانوں کی حمایت میں بے پر کی اُڑاتا چلا جاتا۔جسٹس کاٹجو جیسا بہادر انسان ہی بھارت میں بیٹھ کر اپنے اینکروں کو لارڈ ہاہا اور اپنے حکمرانوں کو کشمیر کے تناظر میں نازی جرمنی سے تشبیہہ دے سکتاہے۔مسٹر کاٹجو لکھتے ہیں کہ گوریلا جنگ کی کامیابی کے لئے عوامی حمایت بہت ضروری ہوتی ہے ۔جیسا کہ چینی انقلاب میں ریڈ آرمی کے ایک مشہور کمانڈر نے کہا تھا کہ عوام سمندر ہوتے ہیں اور ہمیں اس میں مچھلی کی طرح تیرنا ہوتا ہے۔

بولیویا میں چی گویر ا نے بھی تھوڑی دیر کے بعد ہی سہی مگر یہ حقیقت جان لی تھی ۔ہم اس حقیقت کی پردہ پوشی نہیں کرسکتے کہ کشمیر میں عسکری نوجوانوں کو مقبول عوامی حمایت حاصل ہے۔ کشمیری گوریلا جنگ ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس میں تیزی آتی چلی جائے گی۔جسٹس کاٹجو اپنی اس پیش گوئی کے حق میںبھارتی فوجیوں کی سرگرمیوں اور نفسیات سے دلیل ڈھونڈ لاتے ہوئے لکھتے ہیںکہ میرے بہت سے رشتہ دار بھارتی فوج میں کشمیر کے ان علاقوں میں تعینات رہ چکے ہیں جہاں عسکریت زورو ں پر ہے۔وہ مجھے بھارتی فوجیوں کی نفسیات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جب فوج کی کسی گشتی پارٹی پر حملہ ہوتا اور دو تین فوجی مارے جاتے تو باقی فوجی انتقام میں پاگل ہوکر کسی قریبی بستی میں داخل ہوجاتے اور وہاںمعصوم لوگوں پر اپنا غصہ اتارتے ۔غصے اور انتقام میں وہ اپنے افسروں کے حکم کی تعمیل کرنے سے بھی انکار کرتے تھے ۔جسٹس کاٹجو لکھتے ہیں کہ ہم پاکستان کو روک سکتے ہیں مگر چین کو نہیںجو ایک سپرپاور ہے اور بھارت کوغیر مستحکم کرنے پر تلا ہوا ہے ۔سرجیکل سٹرائیکس سے کچھ ہونے والا نہیں۔ویت نام میں امریکی یہ ناکام تجربہ کرچکے ہیں۔ایک شیر بڑے شکار پر حملہ کرسکتا ہے مگر وہ مچھروں کی بھیڑپر حملہ نہیں کر سکتا۔سرجیکل سٹرائیکس ہوتی رہیں گی مگر کشمیر کے گوریلے'' مارو اور بھاگو'' کے اصول کے تحت کارروائیاں جار ی رکھیں گے جیسے بارہ مولہ فوجی چھائونی پر حملے میں ہوا۔گوریلا اچانک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ حملے کے وقت جگہ اور دورانیے کا تعین بھی وہی کرتا ہے ۔جسٹس کاٹجو لکھتے ہیں کہ مجھے کشمیر کی یہ خوفناک تصویر کھینچنے پر افسوس ہورہا ہے مگر سچ تمام بھارتیوں پر آشکارا ہونا بھی ضروری ہے۔جسٹس کاٹجو کا یہ مضمون بھارت کا وہ بیدار ہوتا ضمیر ہے جو اہل وادی کے جذبے کے بعد امید کی دوسری کرن ہے۔

متعلقہ خبریں