Daily Mashriq


شوکازو تحفظات

شوکازو تحفظات

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے مردان کے جلسہ عام میں اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے جو اقدام کیا ہے اس پر مختلف زاویوں سے بات کی گنجائش ہے لیکن ان کے اس اقدام کو ملکی سیاست میں جرأت مندانہ فیصلہ قرار نہ دینا زیادتی ہوگی۔ اس بارے انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ضمیر فروشوں کو پارٹی سے نکالیں گے بے شک تحریک انصاف الیکشن ہار ہی کیوں نہ جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کسی جماعت میں واقعی ضمیر فروشی ہوجائے اور تحقیقات کے بعدالزام ثابت ہوتو اس قسم کا اقدام ناگزیر بن جاتا ہے مگر ہماری روایتی سیاست میں اس قسم کے تکلفات کا مظاہرہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا بڑا واقعہ سامنے آیا تھا جس کا قیادت نے سختی سے نوٹس لے کر دیگر جماعتوں پر اخلاقی سبقت حاصل کرلی ہے۔گوکہ فی الحال مشکوک اراکین اسمبلی کو صرف شوکاز نوٹس ہی جاری ہوا ہے اس لئے ان کے پاس وضاحت اور بے گناہی ثابت کرنے کا کافی موقع موجود ہے لیکن اس کے باوجود بھی تحریک انصاف کی قیادت کا یہ اقدام اس لئے خاصا سنجیدہ گردانا چاہئے کہ پارٹی قیادت نے اپنے ہی ارکان اسمبلی کو شوکاز نوٹس دے کر گویا اپنے ہاتھوں ایک طرح سے خود ہی بدنامی بھی مول لی ہے۔ہم سمجھتے ہیںکہ پاکستان تحریک انصاف اس ضمن میں نووارد اسلئے ہے کہ اس جماعت کے اقتدار کا ایک ہی دور مکمل ہوا ہے اس کے باوجود مدت اقتدار کے آخری سال سینیٹ کے انتخابات میں جن لوگوں نے اسے دغا دیا ان کے حوالے سے تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے جذباتی اعلان پر عملدرآمد کرکے حقیقی معنوں میں مثال قائم کی ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے ارکان اسمبلی کا اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان کی جانب سے لگائے گئے ہارس ٹریڈنگ کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پارٹی چیئرمین سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ ان کا حق ہے۔ ایک رکن نے پیشکش کی ہے کہ عمران خان ان کو عدالت بلوائیں ورنہ وہ خود عدالت جاکر اپنا موقف پیش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے آج جو کچھ کیا، اس سے ثابت ہوگیا کہ اپنے لوگ ان کی نظر میں چور ہیں اور جو باہر سے آتے ہیں انہیں عزت دی جاتی ہے ۔ہارس ٹریڈنگ سے متعلق اس طرح کا الزام عائد کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں، لہٰذا عمران خان نے جو باتیں کیں وہ بے بنیاد تھیں۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنمائوں کااس اقدام کو سراہنا فطری امر ہے جن کا کہنا ہے کہ اس طرح سے دوسری جماعتوں کے لیے بھی مثال قائم ہوگی۔ان کا موقف ہے کہ ان کی جماعت کی اخلاقی قدر کمزور ہونے کا تاثر دیا جارہا تھا اور ایسے میں عمران خان نے پارٹی کا ساتھ چھوڑ جانے والوں کے ناموں کو بے نقاب کرکے اس تاثر کو ختم کردیا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ قانونی طور پر الزامات کا شکار ممبران اسمبلی کے خلاف ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے کو ثابت کرنا شاید ہی ممکن ہو لیکن دوسری جانب بے گناہی ثابت کرنا بھی آسان کام نہیں اس لئے معاملہ الزامات اور صفائی پیش کرنے کا ایک سلسلہ چلے گا۔ ممکن ہے معاملہ عدالت میں بھی لے جایا جائے جہاں ثبوتوں اور ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوگی جس کی فریقین کے پاس موجودگی فی الوقت یقینی نہیں۔ عمران خان کے اس فیصلے کو ایک جانب سراہنے کی جہاں بڑی گنجائش ہے وہاں اسے دو عملی قرار دینے کی بھی کم گنجائش نہیں۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اس اصول کے تحت پھر پنجاب سے منتخب ہونے والے چوہدری سرور سے بھی پوچھا جائے کہ ان کی کامیابی کیسے ممکن ہوئی جبکہ یہ سوال بھی اٹھے گا کہ جن سینیٹروں کا انتخاب ہی مشکوک ہے ان کے ووٹوں سے منتخب چیئرمین و ڈپٹی چیئر مین کی کیا حیثیت ہوگی مستزاد تحریک انصاف کے سینیٹروں نے کس نظریاتی اور اصولی فارمولے کے تحت ووٹ دیا۔ بہر حال ان اعتراضات کے باوجود تحریک انصاف نے ان تمام سیاسی جماعتوں جن کے اراکین اسمبلی نے جماعتی نظم و ضبط سے انحراف کرتے ہوئے ووٹ دیا ایک اخلاقی برتری حاصل کرلی ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام(ف) کے اراکین کا اپنے ہی صوبائی امیر کو ووٹ نہ دینا اور پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے اراکین کی پی ٹی آئی کے امیدوار کو کامیاب بنانے میں کردار کی ادائیگی کے بعد ان جماعتوں کے قائدین ان کے خلاف کارروائی سے اب تک گریزاں کیوں ہیں۔ گو کہ فی الوقت سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے 20اراکین پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے پر شو کاز نوٹس دیاگیا ہے۔ ان کے ناموں کے مشتہر کئے جانے کے بعد ان کو پارٹی سے نکالنا اور نہ نکالنا برابر ہے۔ دیکھا جائے تو ان کے ناموں کی فہرست کا اجراء ان کا بالواسطہ اخراج ہی ہے۔ اس فہرست میں کئی نام ایسے ہیں جو بہت پہلے سے ببانگ دہل حزب اختلاف کا طرز عمل اپنا چکے تھے جبکہ کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جن کے خلاف قبل ازیں حکمران قیادت کارروائی کا اعلان کرکے بعد ازاں رجوع کر چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کے پیچھے کچھ سیاسی نوعیت کے اثر انداز ہونے والے فیصلے بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی نا ممکن نہیں کہ بعض بے گناہ سیاست کی بھینٹ چڑھائے گئے ہوں اور بعض یقینی مشکوک عناصر کو بچالیاگیا ہو۔ معاملات جوں جوں آگے بڑھیں گے تفصیلات اور حقائق کھلتے جائیں گے۔ جو باب تحریک انصاف کی قیادت نے کھولا ہے اب اس باب کی بندش ان کے ہاتھ میں نہیں ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے اسے بھاری پتھر سمجھ کر نہ اٹھانے ہی کو عافیت جانا۔ یہ اقدام اصولی طور پر احسن ضرور ہے لیکن اس اصولی فیصلے کے نتائج کے حوالے سے پی ٹی آئی کی کیا منصوبہ بندی ہے آمدہ انتخابات کے تناظر میں اس کی اپنی اہمیت ہے۔ ان اراکین کو اگر اب حکمران جماعت کا حصہ نہ گردانا جائے تو پھر اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے پاس اکثریت کا سوال اٹھتا ہے اور یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اس سوال کا کیا جواب دیا جائے اور اس کے تقاضوں کو کیسے پورا کیا جائے۔

متعلقہ خبریں