Daily Mashriq


معاہدہ کہیں گلے نہ پڑ جائے

معاہدہ کہیں گلے نہ پڑ جائے

انتظامی و مالی بحرانوں کے بھنور میں پھنسی صوبے کی واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنیوں کو سہارا دینے کیلئے صوبائی حکومت کے صفائی کا نظام غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے کرنے کے فیصلے پر حیرت کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس اقدام سے موجودہ حکومت نے ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام کے فیصلے اور کمپنی کو چلانے میں ناکامی کا بھی عملی اظہار ہوتا ہے۔ ہمارے رپورٹر کے مطابق پشاور اور کوہاٹ میں کچرا ٹھکانے لگانے اور اس سے بجلی پیدا کرنے کیلئے غیر ملکی کمپنیوں سے معاملات بھی طے پا گئے۔ ترکی اور ہسپانوی کمپنیاں آئندہ سات سال تک واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی جبکہ تمام ملازمین غیر ملکی کمپنیوں کو جواب دہ ہوں گے۔ معاہدے کے تحت صوبائی حکومت ترکی کی کمپنی کو سالانہ ایک ارب 80کروڑ روپے کی ادائیگی کرے گی۔ پشاور میں ترکی کی کمپنی کا کام صرف شہر کا کچرا اٹھا کر اسے ڈمپنگ سائٹ تک پہنچانا ہو گا جس کے بعد اس سے بجلی کی پیداوار کیلئے ایک اور کمپنی سے معاہدہ کیا جائے گا ۔کوہاٹ میں کچرے سے بجلی کی پیداوار کیلئے بھی اسی کمپنی سے بات کی گئی ہے اور یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بجلی پیدا کر کے اس سے آمدن بھی حاصل کی جائے گی ۔ڈبلیو ایس ایس پی قائم کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمپنی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے پشاور کو کوڑا کرکٹ سے صاف کرے گی مگر اس کی کارکردگی کا حال سب کے سامنے ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ بلدیات کا محکمہ جتنی رقم خرچ کرکے کمپنی ہی جتنا صفائی کا کام ممکن بناتا تھا کمپنی کو کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی ادائیگی کے بعد بھی صورتحال وہی رہی۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے ملازمین جو تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں اس کا سرکاری ملازمین تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس طرح کمپنیوں کے قیام کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی اٹھایا جا چکا ہے جس کے بارے میں عدالت کے ریمارکس آچکے ہیں کہ اس کا مقصد بد عنوانی کو شفافیت کے جامے میں لانے کی سعی اور رولز کی خلاف ورزی کا راستہ نکالنا ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام اور کارکردگی بھی پنجاب اور دیگر صوبوں میں قائم اس طرح کی کمپنیوں ہی کی نقل ثابت ہوئی۔ حالانکہ اگر سعی کی جاتی اور اہل افراد بھرتی کئے جاتے تو شہر سے کچرا اٹھانا اتنا مشکل کام نہ تھا۔ اس کمپنی پر خود وزیر اعلیٰ نے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حیات آباد کو دوبارہ پی ڈی اے کے حوالے کردیا۔ بہر حال ان تمام معاملات سے قطع نظر اب جبکہ ناکامی کا عملی اعتراف کیا جانے لگا ہے تو بجائے اس کے کہ اس کمپنی کی نگرانی اور شراکت کے لئے ایک اور غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ کیا جائے بہتر یہ ہوگا کہ اس کمپنی ہی کو تحلیل کردیا جائے تاکہ اس کی ناکامی کے جراثیم غیر ملکی کمپنی میں سرایت نہ کر جائیں۔ صوبائی حکومت اب تک ڈمپنگ سائٹ کا بھی بندوبست نہ کرسکی ہے اور معاہدے کچرے کو سائنسی بنیادوں اور بجلی کی پیداوار کے کئے جا رہے ہیں۔ دم رخصت ایسی عجلت کامظاہرہ نہ کیا جائے کہ غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدہ آئندہ کی حکومت کے گلے پڑ جائے۔

سرحدی کشیدگی سے گریز کیا جائے

پاکستان اور افغانستان سیکورٹی حکام کا گزشتہ روز طورخم کی سرحدی گزر گاہ پر ملاقات میں بارڈر مینجمنٹ پالیسی اور دونوں جانب خاردار باڑ سے متعلق تبادلہ خیال کشیدگی میں کمی لانے کا باعث ثابت ہوگا۔افغان حکام کو پاکستانی حدود میں لگائی گئی باڑ کی مرمت اور دیکھ بھال کے حوالے سے افغانستان کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان اگر اپنی سرحدوں کو محفوظ نہیں کرنا چاہتا یا پھر حفاظتی اقدامات کے لئے ان کے پاس وسائل نہیں تو کم از کم وہ پاکستان کو اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے۔ افغانستان کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی لکیر کو بین الاقوامی سرحد اور دونوں ملکوں کے درمیان حد بندی قبول کرنے اور اس کے احترام کی بجائے طاقت کے استعمال کی غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ بہر حال اب جبکہ دونوں ملکوں کے سرحدی حکام میں بعد کی جگہ مذاکرات کی میز نے لے لی ہے تو توقع کی جانی چاہئے کہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں