Daily Mashriq


ہارس ٹریڈنگ … عمران خان کا تاریخی اعلان

ہارس ٹریڈنگ … عمران خان کا تاریخی اعلان

پاکستان کی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عام انتخابات کے بعد دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن‘ اپنے اپنے حامی ارکان اسمبلی کی بعض پرفضا مقامات پر مہمانداری کرتی تھیں۔ یہ اس لیے کیا جاتا تھا کہ ان ارکان سے دوسری جماعت کے لوگ رابطہ نہ کر سکیں اور انہیں اپنے اپنے حق میں ’’توڑ‘‘ نہ سکیں۔ایسے ارکان کو جو وفاداریاں بدلیں لوٹے کہا جاتا تھا (مراد بے پیندے کا لوٹا ہے جو کسی طرف بھی لڑھک جاتا ہے) ۔ اس کا حل اٹھارہویں ترمیم میں یہ نکالا گیا کہ پارٹی کے سربراہ کو (خواہ وہ خود رکن اسمبلی ہو خواہ نہ ہو) ایسے اختیارات دے دیے گئے جن کی بنا پر وہ بعض اہم موضوعات پر پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے پر رکن اسمبلی کی رکنیت معطل کروا سکتا ہے۔ تاہم یہ اختیار محض تین موضوعات تک محدود ہے۔ ایک وزیر اعظم کا انتخاب‘ دوسرے تحریک عدم اعتماد اور تیسرے بجٹ کی منظوری۔ (اگر بجٹ کی منظوری کے لیے مطلوبہ اکثریت نہ ہو تو بجٹ منظور نہیں ہو سکتا اور اس طرح حکومت ختم ہو جاتی ہے۔ )اس کا ایک حل یہ نظر آیا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والوں کی تعداد بڑھ گئی ۔ آزاد منتخب ارکان پارٹی بدلنے کی بجائے کسی پارٹی میں شمولیت کے لیے اپنی شرائط منوا سکتے ہیں۔ اس قلم کیش کے خیال میں یہ ترمیم نہیں کی جانی چاہیے تھی ۔ دو تین مرتبہ وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد لوٹے خود ایکسپوز ہو جاتے اور ان کے ووٹر خود انہیں اپنے مینڈیٹ کے مطابق راہ راست پر لے آتے یا مسترد کر دیتے۔ لیکن دونوں مقتدر پارٹیوں نے ووٹروں کو یہ وقار اور اختیار دینا مناسب نہ سمجھا اور وفاداری تبدیل کرنے کے معاملے کو الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے دائرہ اختیار میں داخل کر دیا حالانکہ اب یہ دونوں پارٹیاں کہتی ہیں کہ سیاسی معاملات کو عدالتوں میں نہیں لے جانا چاہیے اور یہ معاملات سیاسی انداز میں ہی طے ہونے چاہئیں۔ تاہم اٹھارھویں ترمیم میں وفاداریاں بدلنے پر قدغن صرف تین موضوعات تک محدود ہے۔ اس سے وفاداریاں تبدیل ہونے کی راہ میں مکمل رکاوٹ کھڑی نہ کی جا سکی۔ ارکان کو اب ان موضوعات کے سوا اپنا ووٹ پارٹی کی مرضی کی بجائے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کا اظہار اس طرح سامنے آیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی بہت قلیل تعداد ہونے کے باوجود وہاں سے پیپلزپارٹی کے ایک کی بجائے دو ارکان منتخب ہو گئے۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد بہت کم تھی لیکن پی ٹی آئی کے چودھری محمدسرور سینیٹر منتخب ہو گئے۔

تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین عمران خان کرپشن کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے ، اقلیتی پیپلز پارٹی کے دو سینیٹر منتخب ہونا حیرت کی بات ہے۔ اس بات کو شہرت حاصل ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف کے بعض ارکان نے پارٹی لائن سے انحراف کرتے ہوئے ووٹ دیے۔ تحریک انصاف نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جس کی رپورٹ کے مطابق بیس ارکان نے تین تین یا چار چار کروڑ روپے لے کر ووٹ بیچے ۔ کرپشن کے خلاف صف آراء تحریک انصاف اس الزام کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ (ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس طرح پارٹی کی قومی انتخابی مہم کو نقصان پہنچے گا) عمران خان نے ایک تاریخی اقدام کیا کہ پارٹی کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ان بیس ارکان صوبائی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ووٹ فروخت کیے۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان ارکان کے ناموں کا بھی اعلان کر دیا ہے جس سے ان ارکان کی دل آزاری اور سبکی ہوئی ہے۔ شاید عمران خان نے ایک سوچا سمجھا رسک لیا ہے کہ پارٹی کی مقبولیت کے صوبہ خیبرپختونخوا میں اپنے ہی بیس ارکان کے اعتراضات تو مول لیے ہیں اس کے بدلے تحریک انصاف کو قومی انتخابات میں نیک نامی حاصل ہو جائے گی اور تحریک انصاف کے کارکن ووٹروں کو قائل کرنے کے لیے کرپشن کے خلاف تحریک انصاف مصم ارادوں کے ثبوت کے ساتھ جائیں گے۔ لیکن تحریک انصاف نے خود ہی تحقیقات کی ہیں ‘ خود ہی فرد جرم عائد کی ہے اور خود ہی اگرچہ فیصلہ نہیں سنایا ہے تاہم ان ارکان کو بدنام کر دیا ہے۔ اس بدنامی کو بھی سزا ہی سمجھا جانا چاہیے کہ اس سے آئندہ انتخابات میں ان ارکان کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔ شوکاز نوٹس کا فیصلہ تو جاری کر دیا لیکن تحقیقات کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی تاکہ ووٹراس کی روشنی میں خود پارٹی کے فیصلے کا جائزہ لیں۔ (یہاں بھی ووٹر کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے) تحریک انصاف کے بعض لیڈر اب کہہ رہے ہیں کہ ایک خاتون ایم پی اے کی گاڑی کی ڈگی میں ڈھائی کروڑ روپے دیکھے گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض لوگوں کو ہمسایہ ملک میں ادائیگی کی گئی۔ لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ وہ اڑھائی کروڑ روپے فلاں امیدوار نے ووٹ کی قیمت کے طور پر دیے تھے۔ یا یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ ادائیگی ہوئی تو کس امیدوار نے کی اور ووٹ دینے کے عوض کی۔ ایسے الزامات کے ثبوت سامنے نہیں آئے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان الزامات کے ساتھ نیب کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا لیکن نیب کے پاس بھی تو ٹھوس ثبوت پیش کرنے ہوں گے۔ بہتر ہوتا کہ ان ارکان اسمبلی کے شوکاز نوٹسز کے جوابات کا انتظار کر لیا جاتا اور بجائے الزامات کے فیصلوں کا اعلان کیا جاتا۔ مسلم لیگ ن والے اعتراضات اٹھا رہے ہیں کہ اس اقدام سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا اور چودھری سرور کے انتخاب کے بارے میں بھی شکوک کو شہ ملے گی۔ ان باتوں کا جواب بھی تحریک انصاف کے ذمے ہے۔

متعلقہ خبریں