Daily Mashriq

تاریخ کو مسخ کرنے کا ظلم نہ کریں

تاریخ کو مسخ کرنے کا ظلم نہ کریں

ریکارڈ کی درستی اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم من حیث القوم بھلکڑ لوگ ہیں اور ہماری اسی کمزوری کی وجہ سے ہمارے ساتھ ہمیشہ ہاتھ بھی ہو جاتا ہے۔اب یہی دیکھ لیں کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں کروڑوں لے کر خود کو فروخت کرنے والے ممبران صوبائی اسمبلی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے اور تسلی بخش جواب نہ ملنے پر انہیں پارٹی سے خارج کرنے کا جو اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا اس کے بعد تو جیسے سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا کرکے موصوف کے اس فیصلے کو ملکی سیاسی پارلیمانی تاریخ کا ایک ایسا کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے اور خان صاحب پر تعریفوں کے واہ واہ ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں کہ رہے نام اللہ کا۔ حالانکہ جو لوگ خوشامد پسندی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں وہ اگر ماضی میں جھانکیں تو انہیں معلوم ہو کہ ملکی تاریخ میں نہ یہ کوئی پہلی کوشش ہے نہ ہی پی ٹی آئی وہ پہلی جماعت ہے جس نے یہ اقدام اٹھا کر تاریخ رقم کی ہے۔ ہاں ریکارڈ کی درستی کے حوالے سے حقائق تحریر کرنے سے پہلے‘ عمران خان کے اس اقدام کو قابل تعریف تو قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس پر بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پھر بھی یہ ایک لحاظ سے جرأت مندانہ اقدام ضرور قرار دیا جانا چاہئے۔ تاہم سوالات اٹھانے سے پہلے ذرا ماضی میں جھانک لیتے ہیں اور اس حوالے سے فیس بک اور ٹویٹر پر بھی کئی پوسٹیں موجود ہیں جن میں اصل حقائق کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا جاسکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ اے این پی وہ پہلی جماعت ہے جس نے 1990ء‘ 1993ء‘ 1998ء اور2000ء میں اپنے منحرف ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی کی اور انہیں پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں سے فارغ کیا۔ یہاں تک کہ ولی خان کے ایک قریبی عزیزرحمت اللہ خان اور ایک اور ممبر منور خان کو جبکہ 2003ء میں عتیق الرحمن‘ قلب حسن اور سر فراز گدون نے جب اعظم سواتی کو ووٹ دیا تو انہیں پارٹی سے فارغ کردیاگیا۔ اسی طرح شہاب الدین خان نے پارلیمنٹ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا تو انہیں نکال باہر کیاگیا۔ اب اتنی ساری مثالوں کے بعد بھی اگر کوئی خان صاحب کے اقدام کو پاکستان کی تاریخ میں اولیت کے درجے پر فائز کرکے تاریخ کو مسخ کرنا چاہتاہے تو وہ اپنی آنکھوں سے تعصب کی عینک اتار دے اور حقیقت سے آنکھیں نہ چرائے۔مجھے معلوم ہے کہ حقائق سامنے لانے پر جو لوگ چیں بہ جبیں ہوں گے وہ سخت معترض ہوں گے اور گالم گلوچ پر اتر آئیں گے۔ مگر اس سے کیافرق پڑتاہے۔ ہم لوگ تو اس قسم کی صورتحال کے عادی ہیں۔ خیر جانے دیجئے‘ اب ذرا خان صاحب کے اس اقدام پر جسے میں اوپر کی سطور میں پہلے ہی سراہ چکا ہوں جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کی بات کی جائے مگر پہلے جن لوگوں کو شوکاز نوٹسز جاری ہوئے ہیں ان کے خیالات سے بھی رجوع کرلیا جائے اور وہ یہ کہ جمعرات کے اخبارات میں متعلقہ ایم پی ایز نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ نہیں کی‘ عمران فیصلے سے پہلے ہم سے بات کرلیتے۔ جاوید نسیم اور وجیہہ الرحمان نے یہاں تک کہا ہے کہ ہمارا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں اور انہوں نے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عبید اللہ مایار نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ایم پی ایز کو ٹارگٹ کرکے عمران خان پنجاب میں اپنا امیج بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح دیگر ممبران کے بیانات بھی شائع ہوئے ہیں جن میں ملا جلا تاثر ہے۔ اب ذرا صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ اور پہلو بھی سامنے لائے جائیں۔

جہاں تک عمران خان کے اس اقدام کا تعلق ہے اصولی طور پر اس سے عدم اتفاق کی کوئی گنجائش نہیں اور بقول عمران خان اب دوسری جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اپنے ’’گھوڑوں‘‘ کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف اقدام کریں۔ تاہم کیا یہ دوغلی پالیسی نہیں ہے؟ ( یہ سوال بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں) کہ ایک جانب تو عمران خان نے ضمیروں کا سودا کرنے والوں کو بے نقاب کیا مگر دوسری جانب چوہدری سرور کے خلاف کوئی اقدام سامنے نہیں آیا جنہوں نے کھلم کھلا ووٹ خریدے اور اس کا اعتراف بھی کیا۔ ایک سینئر صحافی کی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ انگور کھٹے ہیں‘ خان صاحب نے جن جن کا نام ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے لیا ہے ان میں سے کچھ پہلے ہی پارٹی چھوڑ چکے تھے جبکہ کچھ چھوڑنے والے ہیں ان اعتراضات کے باوصف اہم ترین سوال جو اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک جانب تو بکنے والوں کو پارٹی سے فارغ کرنے کی کارروائی ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان بھر سے دوسری جماعتوں کے مستند لوٹوں کو پی ٹی آئی میں Electables کے نام پر اکٹھا کیا جا رہا ہے اور اس پر فخر بھی کیا جا رہا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ یہ لوگ تو وقت پڑنے پر کل تحریک انصاف کو چھوڑ کر کسی اور درخت پر بسیرا کرنے کو بھی تیار ہوں گے۔ ان کا ماضی بھی اتنا شاندار نہیں بلکہ یہ تو لڑھکنے والے وہ لوٹے ہیں جو مفادات کے حصول کے لئے اپنا ضمیر‘ ایمان سب کچھ دائو پر لگا دیتے ہیں۔ اس لئے اگر خان صاحب اس بات پر بھی سوچیں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو۔

آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

متعلقہ خبریں