Daily Mashriq

شہباز ڈاکٹرائن کا آغاز؟

شہباز ڈاکٹرائن کا آغاز؟

ایک نجی ٹی وی چینل کی اس خبر نے بہت سوں کو چونکا کر رکھ دیا ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا کیساتھ ملاقات سے انکار کیا ہے۔ اجے بساریا نے اپنے تین روزہ دورہ لاہور کے دوران میاں شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی۔ ٹی وی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں ملاقات سے انکار کیا اور اس کے بعد بھارتی ہائی کمشنر کا دورہ لاہور بھی منسوخ ہوگیا۔ بھارتی ہائی کمشنر کے دورہ لاہور کی منسوخی کی وجہ یہی ہے یا پھر اس میں کسی اور نامعلوم وجہ کا دخل ہے، معاملہ کچھ بھی ہو مسلم لیگ ن کی نئی قیادت نے اس معاملے پر ’’کھیل‘‘ کا اچھا آغاز کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر نے کچھ ہی روز پہلے قومی سلامتی کے مشیر جنرل ناصر جنجوعہ سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات پر پہلا اور جاندار احتجاج شہباز شریف کے سیاسی رفیق اور ہم خیال چوہدری نثار علی خان کی طرف سے سامنے آیا تھا جن کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں ملاقات نہیں ہونی چاہئے تھی۔ اب شہباز شریف نے اسی فلاسفی کو آگے بڑھاتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات سے انکار کیا تو اسے مسلم لیگ ن میں ایک نئی یعنی شہباز لگیسی کا ظہور اور شہباز ڈاکٹرائن کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف اب پنجاب کے وزیراعلیٰ ہی نہیں ملک کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں۔ میاں نوازشریف کا گھرانہ سیاست کی جس بند گلی میں جا کھڑا ہو رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مشکل کے اس دور میں شہباز شریف ہی اس جماعت کی قیادت کرکے بند گلی میں راستے بنانے کی کوشش کریں گے۔ میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف جس طرح زہر میں بجھے ہوئے تیروں کی مانند جملے ادا کر رہے ہیں وہ ان کی سیاست کیلئے زیادہ اچھا شگون نہیں۔ اس کا ایک نتیجہ نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کی عدلیہ مخالف تقاریر پر پابندی کے مرحلہ وار آغاز کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ ان حالات میں ملک میں مسلم لیگ ن کا مستقبل شہباز شریف سے وابستہ نظر آرہا ہے۔ شہباز شریف کا امیج ملک کی ہیئت مقتدرہ کے موافق اور تزویراتی ضرورتوں سے آشنا سیاست کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گھرانے کو سیاست اور ملک سے بے دخل کرنے والے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف آج بھی ان کے مداح ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کیساتھ ان کے تعلق کی بنیاد ذہنی ہم آہنگی بھی ہے مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ ابھی تک مسلم لیگ ن کے اندر اس فکر وفلسفے کیلئے دستیاب سپیس بہت کم ہے۔ مسلم لیگ ن پر اس وقت میاں نواز شریف کی چھاپ گہری اور گرفت مضبوط ہے۔ میاں نوازشریف مدت ہوئی سوچ کی دوسری انتہا پر کھڑے ہیں۔ ان کی سیاست کی اُٹھان میں ہیئت مقتدرہ کا کردار بہت اہم رہا مگر اقتدار کی پہلی قلانچ بھرنے کے بعد ہی ان کی سوچ میں بنیادی تبدیلی آگئی تھی۔ ان کے خیال میں بھارت کیساتھ تعلقات بحال اور دوستی قائم ہوئے بغیر خطے کے حالات سدھر نہیں سکتے۔ یہ یورپی یونین کی طرز پر جنوبی ایشیا کے خدوخال اُبھارنے کا تصور تھا۔ میاں نوازشریف نے خود کو اس سوچ سے ہم آہنگ کرکے خود کو مقامی سیاسی ضرورتوں اور انتخابی بندھنوں سے آزاد کر لیا تھا۔

پہلے دور اقتدار میں وہ اپنی سمت درست اور قلعہ مضبوط کرتے رہے اور دوسرے دور اقتدار میں انہوں نے اس معاملے میں ٹھوس پیش رفت کی کوشش کی۔ بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد اورکشمیر پر ایک ’’کیمپ ڈیوڈ‘‘ طرز کے سمجھوتے کی طرف پیش قدمی اس کا نقطۂ عروج تھا۔ تیسرے دور اقتدار میں بھی وقت کم اور مقابلہ سخت کے اصول کے تحت وہ نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں جا پہنچے اور ایک بار پھر انہوں نے کھل کر کہا ان کا مینڈیٹ بھارت سے دوستی کا ہے۔ پھر جب وہ پانامہ کے شدید بحران میں گھر گئے تو بھارتی سرمایہ دار سجن جندال اچانک نمودار ہوکر ان کی رہائش گاہ مری پہنچے۔ اس آمدورفت سے میاں نوازشریف نے اپنے ملک کی ہیئت مقتدرہ کو محض چڑانے کی کوشش کی۔ یوں لگتا ہے کہ میاں نواز شریف نے بھارت سے دوستی کو غیر ضروری طور پر اپنے اعصاب پر سوارکیا۔ یہ ماحول صرف پاکستان میں ہی نہیں بھارت میں بھی پوری طرح قائم ہے جہاں جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کو نشان پاکستان سے نوازا مگر بھارتی سیاست میں مرار جی ڈیسائی قطعی اجنبی اور معتوب بن کر رہ گئے تھے۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی نے کراچی کا دورہ کرکے قائداعظم اور پاکستان کے حوالے سے چند تعریفی کلمات بیان کئے تو انہیں سیاست میں نشان عبرت بنا دیا گیا۔ کچھ یہی حال واجپائی کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ کا ہوا۔ یہ نام عملی طور پر تو زندہ ہیں مگر تاریخ کے عجائب خانے میں اپنی حسرتوں کا ماتم کر رہے ہیں۔ شہباز شریف ماڈل ٹاؤن اور دوسرے کیسز سے بچ نکلتے ہیں یا انہیں بھرپور اننگز کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو شہباز شریف کی طرف سے بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات سے انکار دور رس اثرات کا حامل فیصلہ ہے۔ یہ مسلم لیگ کے اندر شہباز ڈاکٹرائن کے ظہور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ شہباز شریف اپنی سیاست کے خدوخال تراشنے کے مرحلے میں ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہے کہ چند برس پہلے جہاں آصف زرداری کھڑے تھے جب انہیں بینظیر بھٹو کے سیاسی ورثے کو زرداری ورثے میں بدلنا تھا اور وہ کمال مہارت سے یہ معرکہ سر کر گئے تھے، شہباز شریف اس معرکہ کو کیسے سر کرتے ہیں؟ اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

متعلقہ خبریں