Daily Mashriq


عالمی یوم چینی زبان

عالمی یوم چینی زبان

انسان اور کائنات پر گھر کے ماحول سے لے کر عالمی ماحول تک کے اثرات ہوتے ہیں۔ ماحول کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ جسمانی‘ نفسیاتی‘ اقتصادی اور سماجی ماحولیات کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے لیکن انسان بالخصوص غریب ممالک کے لوگ ماحولیات کی ان قسموں سے متاثر ہوتے ہوئے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔پاکستان‘ بھارت‘ بنگلہ دیش اور افریقی ممالک میں غریب لوگ بالخصوص چھوٹے بچے جس طرح شہروں کے کوڑا کرکٹ سے اور پھر ہسپتالوں کے فضلات سے پلاسٹک اور دھاتوں کے ٹکڑوں کو اکٹھا کرتے ہوئے روزی تلاش کرتے ہیں وہ جسمانی ماحولیات کیلئے متعدی امراض کی صورت میں بہت خطرناک صورت حال اختیار کر چکی ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس کا احساس ہے۔ خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کے اعداد وشمار سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس صوبے کے غریب عوام میں کینسر‘ کالا یرقان‘ ٹی بی اور دیگر کئی امراض بہت عام ہو رہے ہیں۔ معاشرتی اور سماجی رویوں اور معاملات سے نفسیاتی ماحولیات اس حد تک متاثر ہو چکے ہیں کہ ہر دوسرے تیسر ے گھر میں جنون‘ ذہنی ڈپریشن اورذہنی خلفشارکے مریضوں میں اضافہ کے سبب معاشرے میں عجیب پریشانیاں اور سماجی واخلاقی جرائم کا ارتکاب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔لیکن خیبر پختونخوا کے عام ماحول (فضا ومقام ‘ ہوا اور پانی) کو دہشت گردی نے جس بری طرح متاثر کیا ہے اس کا ذکر کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ پشاور میں کسی بھی دفتر اور ادارے میں جائیں تو اس کے اردگرد ریت کی بڑی بڑی بے ڈھنگی بوریاں نظر آئیں گی۔ پہلے سے موجود دیواروں کو بلند رکھنے کیلئے جلد بازی میں اینٹیں اور خاردار تار بغیر کسی ترتیب و تزئین کے باڑ کی صورت میں نظر آئیں گے۔ ویسے تو آج کل پشاور یونیورسٹی کی چار دیواری کے اندر تین یونیورسٹیاں اور بھی ہیں لیکن ماحولیات کے لحاظ سے سب ایک جیسی ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے گیٹمیں داخل ہوتے ہی ایسا احساس ہونے لگتا ہے کہ گویا کسی بڑے جیل میں داخل ہو رہا ہوں۔ داخلی سڑک کے دائیں اور بائیں دونوں طرف جنگلے اور خاردار باڑ ایسے ہی لگے نظر آتے ہیں جس طرح جیلوں میں ہوتے ہیں۔ جنگلے اور خاردار تاروں نے جامعات کی عمارتوں کی خوبصورتی کیساتھ ساتھ پارکوں اور لانوں میں داخلہ مشکل بنا دیا ہے۔ ایک ہاسٹل نمبر2 کا بڑا لان بچ پایا ہے جس میں کبھی عیدین کی نمازیں ادا کی جاتی تھیں لیکن اب وہاں بھی دہشت گردی کے خوف سے کئی سال سے یہ مقدس فریضہ ادا کرنا ممکن نہ رہا۔اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی سے اساتذہ‘ طلباء اور ملازمین کی حفاظت اور بچاؤ کیلئے ضروری اقدامات لازماً اٹھانا پڑتے ہیں لیکن بعض اداروں اور جگہوں پر غیر ضروری دیواروں اور خاردار باڑوں اور جنگلوں سے نہ صرف ان مقامات کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے بلکہ قومی خزانے کا بھی نقصان ہوا ہے۔زرعی یونیورسٹی پشاور کو شاید ایچ ای سی اور حکومت نے خوب نوازا ہے اسلئے یونیورسٹی سے باہر وسیع وعریض زمینوں (کھیتوں) کے گرد طویل دیواریں اور خاردار تاروں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ پوری زرعی یونیورسٹی جس کے لانوں میں خوبصورت کھلے پھولوں کیلئے اور آنکھوں کی تازگی کیلئے راہ چلتے لوگ بھی کھڑے ہو جایا کرتے تھے اب چاردیواری اور لوہے کے جنگلوں اور باڑوں کے اندر محصور ہو کر بینا دیدہ آوروں کیلئے ترسیں گے۔ اس تناظر میں گزشتہ ایک برس سے زیر تعمیر گیٹ قابل دید ہے جس کامجھے تو سمجھ نہیں آرہا کہ دہشت گردی کی روک تھام میں اس کا کیا کردار ہوگا۔زرعی یونیورسٹی کے مشرقی پہلو میں پختونخوا کا مشہور زمانہ فارسٹ کالج ہے۔ جہاں کسی زمانے میں مشرقی پاکستان مرحوم‘ سری لنکا اور نیپال تک کے طلبہ پڑھنے آیا کرتے تھے۔ وہ تو ایک الگ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر شے پر ایک عجیب انحطاط طاری ہے لیکن اس کالج کے درخت‘ پودے اور پھول خاص نباتاتی اور ادویات میں استعمال ہونے والے پودوں کی بہتات اور کڑی نگرانی اور پرورش خاص شعبے تھے اور مجھے ان کا یہ جملہ آج بھی اچھا لگتا ہے کہ ’’نباتاتی پودے درویش ہوتے ہیں‘ دعائیں دیتے ہیں‘‘ فارسٹ کالج کا گلاب باغ (روز گارڈن) دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ عصر کو لوگ وہاں سیر وتفریح کیلئے نکلتے تو مشام جاں تازہ ہو جاتی لیکن اب اس کے گرد بھی سریوں اور اینٹوں کی دیواریں چڑھنے لگی ہیں۔ برا ہو دہشت گردی کا۔ بیخ وبن سے اکھڑ جائے یہ بدنما دہشت گردی جس نے نہ صرف ہمیں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کے ضیاع سے دوچار کیا بلکہ ہماری خوبصورت یونیورسٹیوں اور پشاور شہر کے حسن کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا۔ ستم بالائے ستم پشاور یونیورسٹی میں روڈ بریکروں نے برا حال کر دیا ہے اور بریکر بھی ایسے کہ قدم قدم پر اور بغیر کسی ترتیب وضرورت کے۔ کیا کوئی رجل رشید جامعات میں غیر ضروری دیواروں اور بریکروں کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا پسند کرے گا؟ اور دہشت گردی تو انشاء اللہ اب اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ اللہ کرے۔

متعلقہ خبریں