Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

واقعہ ہے کہ جب مدائن کی فتح میں ایک مسلمان سپاہی کے ہاتھ کسریٰ کا تاج لگا تو وہ اس کو اپنے دامن میں چھپا کر امیر لشکر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے پاس لے آیا ، جیسے کوئی چوری کامال چھپا کر لاتا ہے ۔ حضرت سعد ؓ کو حیرت ہوئی کہ جواہرات سے مرصع اتنا قیمتی تاج اور اس غریب سپاہی کی نیت خراب نہیں ہوئی کہ چھپا کرخیمہ ہی میں رکھ لیتا ۔ آپ ؓ نے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے دروازہ کی طرف منہ کر کے اور پیٹھ پھیر کر کہا کہ ’’جس (کی رضا ) کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے ، وہ میرا نام جانتا ہے اور یہ کہہ کر وہ روانہ ہوگیا ‘‘۔

(بحوالہ : سخی لوگ)

حضرت شفیق بلخی ؒ فرماتے ہیں رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگ چار باتوں میں میری موافقت کرتے ہیں ، لیکن عمل میں میری مخالفت کرتے ہیں ۔ اول کہتے ہیں کہ خدا کے بندے ہیں لیکن عمل اپنی خواہشات پر کرتے ہیں ۔ دوم کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ ہمارے رزق کا کفیل ہے ، مگر دنیا کی چیزوں کے بغیر ان کے دلوں کو تسلی نہیں ہوتی ۔ سوم ، کہتے ہیں کہ دنیا سے آخرت ، بہتر ہے لیکن دنیا کیلئے مال و دولت جمع کرتے ہیں اور آخرت کیلئے گناہوں کو جمع کرتے ہیں ، چہارم کہتے ہیں کہ ہم ضرور مرنے والے ہیں ، لیکن ایسے اعمال کرتے ہیں جیسے انہیں مرناہی نہ ہو۔ (قبر کی پہلی رات)

ایک مرتبہ شام کے سفر میں حضرت بلال ؓ نے مسجد اقصیٰ میں اذان دی تو حضرت عمر ؓ کو پھر وہ بابرکت زمانہ یاد آگیا بھولا ہوا غم دوبارہ تازہ ہوگیا اور حضرت بلال ؓ کی آواز میں اس کھوئے دور کی آہٹ محسوس کی ۔ حضور اکرم ؐ کی یاد بے تاب کردیا اور پھر اس قدر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں ۔

(کچھ دیر اہل حق کے ساتھ)

حضرت ابو معاویہ اسودؒ سنگ تراشی کر کے گزر بسر کرتے تھے ، پھر جب عمر رسیدہ ہوگئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ بوڑھے ہوگئے اور اس کام کے قابل نہیں رہے تو فرمایا : بخدا ، سنگ تراشی کر کے روٹی کھانا لوگوں سے سوال کرنے کی نسبت بہت اچھا اور آسان ہے ۔

حضرت موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے میرے پاس تین تولے چاندی کے بھیجے اورکہلا بھیجا کہ اسے فقرا اور حاجت مندوں میں تقسیم کردو ، میں نے لے لیے اور اس میں سے کچھ ابوز بن عقیل ؒ کے پاس بھیجے ، آپ فاقہ زدہ رہتے تھے ، آپ نے ان کو فوراً واپس کردیا ، گویا میں نے چاندی کے بجائے بچھو بھیجے ہوں اور خود رات بھر بھوکے رہے ۔ آپ حضرات اپنے ہاتھ کی کمائی سے جو ملتا اس پر خوش ہوتے اور صبر و قناعت کرتے ۔ اللہ پر توکل کرکے زندگی گزارتی جائے تو زندگی سکون سے گزرتی ہے اور پریشانیوں اور بے جا مشکلات سے دامن بچا رہتا ہے ۔

(مخزن صفحہ نمبر243)

متعلقہ خبریں