Daily Mashriq


مسائل کے حل کیلئے جنگ کوئی آپشن نہیں، وزیر خارجہ

مسائل کے حل کیلئے جنگ کوئی آپشن نہیں، وزیر خارجہ

ملتان: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت جنگ برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ دونوں جوہری طاقت ہیں اور ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے جنگ کوئی آپشن نہیں ہے، لہٰذا دونوں ممالک کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ کس طرح اپنے تنازعات ختم کریں اور پر امن زندگی گزاریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ بغیر ثبوتوں کے 12 اپریل کو کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کا الزام بھارت پر نہیں لگا سکتے۔

تاہم انہوں نے کشمیری عوام پر بھارت کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت وادی میں بڑی تعداد میں فوج تعینات کرکے کشمیریوں کی آواز کو نہیں دبا سکتا۔

ملکی صورتحال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملک معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے لیکن آج جس مالی بحران کا ملک کو سامنا ہے اس کی ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک کے معاشی معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم پی ٹی آئی کی حکومت کوئی پہلی حکومت نہیں جو ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس بیل آؤٹ پیکج کے لیے گئی، بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور فوجی حکمران پرویز مشرف اور ضیا الحق کی سابق حکومتیں بھی مالی امداد کے لیے آئی ایم ایف کے پاس گئی تھیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک کی اصل مالی صورتحال نہ دھکا کر قوم کو پریشانی میں نہیں ڈالنا چاہتی۔

شاہ محمود قریشی نے ملک کی موجودہ مالیاتی مسائل کے لیے مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت نے ملک کو بھاری قرض کے ساتھ بوجھ میں ڈالا اور اس وجہ سے ملک کے قرضوں پر بجٹ کا بڑا حصہ خرچ ہوا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر متعدد قوتیں پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتی ہیں، ان کی خواہش ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں رہے اور اسی مقصد کے لیے وہ ملک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کردیا جاتا ہے تو اسے بہت بڑے مالی بحران کا سامن کرنا پڑے گا۔

بلوچستان کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ کچھ قوتیں اس صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور قوم کو ایسے عناصر کو پہچاننے کی ضرورت ہے جو ملک میں سیکیورٹی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں