Daily Mashriq

تبدیلی

تبدیلی

پاکستان تحریک انصاف کے حصول اقتدار سے بہت قبل کے نامزد کردہ وزیر خزانہ اسد عمر کا وزارت چلانے میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونا یا پھر مستعفی کیا جانا نہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کیلئے باعث ندامت ہے بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ان کی ناکامی کے اثرات ملکی معیشت اور اقتصادیات کو متاثر کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ اسد عمر کی کارکردگی تحریک انصاف کی حکومت پر سب سے زیادہ تنقید کا باعث بنی۔ وزیر خزانہ کو ہٹانے کا فیصلہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا لیکن ان کو ہٹائے بغیر آگے چلنا دشوار تر ہوگیا تھا یوں اس فیصلے کو طوعاً وکرھاً لیا جانے والا فیصلہ گردانا جائے گا گوکہ اسد عمر کی تبدیلی کیساتھ ساتھ دیگر وزیروں کو ہٹایا گیا یا پھر ان کے قلمدان تبدیل کئے گئے، اگرچہ اس فیصلے کا ایک پہلو منفی ہے تو ساتھ ہی اس کا مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ وزیراعظم اپنی کابینہ میں سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کارکردگی کی بنیاد پر تبدیلی کرسکتے ہیں۔ اس سے وفاقی کابینہ کے اراکین کے علاوہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کو بھی اب چوکنا رہنا پڑے گا۔ خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کے حوالے سے جو سوالات اٹھ رہے ہیں اس کی روشنی میں عثمان بزدار کی تبدیلی غیر متوقع نہیں۔ پنجاب میں بیورو کریسی کی تبدیلی کو اگر تبدیلی کا عندیہ یا ابتداء قرار دیا جائے تو صورتحال کی بہتر تشریح ہوگی۔ خیبر پختونخوا میں ممکن ہے کابینہ میں رد وبدل کی نوبت آئے۔ وزیراعظم پر غیر سیاسی شخص کو مشیر خزانہ مقرر کرنے سے ہونے والی تنقید اپنی جگہ لیکن اس کے علاوہ شاید کوئی چارہ کار باقی نہ تھا کہ ایک تجربہ کار شخص کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں کیلئے قابل قبول اور ان کیساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے شخص کا تقرر کیا جائے۔ معاشی حقائق اتنے پیچیدہ اور لاینحل قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کو سدھارنے کی تو توقع نہیں البتہ صورتحال کو قابو میں لانے کی کامیاب کوششوں کی ضرور توقع ہے۔ ملکی معیشت‘ مہنگائی اور روزگار کے مواقع بجلی وگیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جیسے معاملات کا عوام کو بخوبی علم ہے اور عوام اس بات سے بھی واقف ہیں کہ مہنگائی میں کمی لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ نئے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کیلئے ان مسائل میں کمی لانا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ ملکی معیشت کے حوالے سے عالمی ماہرین کی رائے بھی زیادہ مثبت نہیں عالمی مالیاتی ادارے کے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت مستقبل میں بڑے پیمانے پر سست روی کا شکار ہوگی اور یہ خطے کی مجموعی معاشی ترقی پر بوجھ بن جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کیلئے صرف معیشت کا عدم استحکام ہی خطرات کا باعث نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور خاص طور پر سیاسی عدم استحکام شرح نمو میں اضافے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جس پر قابو پانے کیلئے معاشی فیصلوں کیساتھ ساتھ سیاسی فیصلوں کی بھی ضرورت پڑے گی۔ وطن عزیز میں سیاسی کشیدگی اور بیانات کیساتھ ساتھ نیب کے بے سود ثابت ہونے والے اقدامات سے جو ماحول پیدا ہوا ہے اس کے باعث طاری خوف نے ملک میں تجارت وکاروبار اور اقتصاد کو منجمد کرکے رکھ دیا ہے۔ جب تک ماحول میں بہتری نہیں آئے گی اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال نہیں ہوگا معیشت میں بہتری کی توقع نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ورثے میں جو معیشت ملی تھی اس کو نو ماہ کی قلیل مدت میں بحران سے نکالنا تو ممکن نہ تھا لیکن کم ازکم اتنی گنجائش تو ضرور تھی کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جاتا جس میں کامیابی نہ ہونا ہی مستعفی وزیر خزانہ اسد عمر سے وابستہ توقعات کا پورا نہ ہونا ہے۔ اسد عمر اور تحریک انصاف سے گزشتہ اسمبلی میں تقریروں‘ عوام سے وعدوں اور خاص طور پر پلک جھپکتے ملکی معیشت کو قابو میں لانے بلکہ ترقی دینے‘ لوٹی ہوئی دولت واپس لاکر دولت کا انبار لگانے کے جو غیرحقیقت پسندانہ دعوے سرزد ہوئے تھے اقتدار ملنے کے بعد اس کی بالکل الٹ صورتحال اور باربار کی کوششوں کے باوجود معاشی صورتحال میں بہتری نہ آنا‘ مہنگائی میں روز افزوں اضافہ جیسے عوام کو براہ راست اور فوری طور پر متاثر کرنے والے معاملات کے باعث جس خفت کا سامنا کرنا پڑا اسے اسد عمر کی قربانی کی صورت میں مٹانا ممکن نہیں۔ کابینہ میں متوقع تبدیلی اور خاص طور پر وزیر خزانہ کے استعفے یا ہٹائے جانے کے حوالے سے میڈیا میں جو طرزعمل اختیار کیا گیا اس کی حکمت سے حکومتی ناطقین ہی واقف ہوں گے۔ سوشل میڈیا کا اس حوالے سے جو استعمال سامنے آیا وہ بھی مناسب نہ تھا، جب بلی تھیلے سے باہر آگئی اور میڈیا کے اندازے اور اطلاعات کی حکومتی عمل سے تصدیق ہوگئی تو اندازہ ہوا کہ وقتی تردید کی بجائے خاموشی اختیار کرلی جاتی تو زیادہ بہتر حکمت عملی ہوتی۔ کابینہ میں تبدیلی کے بعد موخر الذکر شعبے میں بھی اصلاحات پر توجہ دی جائے اور سچ کو چھپانے اور سچائی کو لبادے میں چھپانے کی پالیسی ترک کرکے متوازن طریقہ کار اپنایا جائے تو بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں