Daily Mashriq


ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کی منظوری اور نیا بلدیاتی نظام رائج کرنے کی تیاری واقعی سود مند ہوگی یا پھر یہ بھی ہر کہ آمد عمارت نو ساخت کے مصداق ٹھہرے گا اس کا انحصار نظام کے لاگو ہونے اور اس پر عملدرآمد کی صورتحال کے بعد ہی ہوگا۔ بہر حال وزیر اعلیٰ محمود خان پر امید ہیں کہ صوبائی حکومت کا مجوزہ بلدیاتی نظام بہترین نظام ہوگا جس کے تحت پورے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع میں یکساں بلدیاتی نظام کا نفاذ ہوگا جس سے صوبے میں بلدیاتی حکومتیں مزید مستحکم ہو ں گی،اختیارات حقیقی معنوں میں عوام کو منتقل ہو ں گے اور اس طرح عوام بااختیاربھی ہو ں گے۔کسی بھی نظام کے بنانے والوں کو اس میں کبھی خامیاں نظر نہیں آتیں اور ہر متعارف نظام کو مثالی قرار دے کر اس سے امیدیں وابستہ کرنے کی ریت نئی نہیں بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کے متعارف کنندگان کی ابتداء میں سعی رہتی ہے کہ وہ اپنے مروجہ نظام کو مثالی ثابت کرسکیں لیکن جیسے ہی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کی باری آتی ہے تو اپنے ہی ہاتھوں اسے عضو معطل بنا دیا جاتاہے یا پھر آنے والوں کے لئے یہ نظام قابل قبول نہیں ہوتا مروج بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی فنڈز ممبران پارلیمنٹ کی بجائے بلدیاتی نمائندوں کے ہاتھوں میں دینے کا جو عندیہ تحریک انصاف نے دیا تھا اگر اس پر عملدرآمد کیاجاتا تو بلدیاتی نظام کے جو محاسن سامنے آئے اس کے بعد شاید نیا نظام تشکیل دینے کی ضرورت نہ ہوتی جو بھی نظام تشکیل دیا جائے اس میں جب تک مقامی سطح پر اختیارات کی حقیقی معنوں میں منتقلی اور فنڈز کی فراہمی نہیں ہوگی لا حاصل اور ایک نیا مگر بے سود تجربہ رہے گا۔ ہر سیاسی جماعت کی طرف سے اور ہر آمروقت کی جانب سے اپنے اپنے اذہان اور سیاسی ضروریات کے تحت جو نظام متعارف کرائے گئے کم و بیش سب کاحشر ایک ہی جیسا ہی ہوا ہے۔ موجودہ نظام جس عجلت میں رائج ہونے جا رہا ہے اور اس کی تیاری میں جس سرعت کا مظاہرہ کیاگیا ہے بظاہر کے اس سہانے خواب کی تعبیر اس وقت سامنے آئے گی جب اسے عملی طور پر نافذ کیاجائے گا۔

جعلی دستاویزات کی تیاری ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں

شناختی کارڈ کے حصول کے لئے افغان مہاجر کا پاکستانی کو ’’باپ‘‘ بناتے ہوئے گرفتاری کا واقعہ شاید اس لئے پیش آیا کہ نادرا اہلکار ملی بھگت میں ملوث نہ تھا۔ تحقیقات کی جائیں تو اس قسم کے سینکڑوں افراد ہوں گے جن کی فیملی بڑی مشکوک ہوگی۔ مشکوک عناصر کا ’’باپ‘‘ بننے اور ان سے ایسے معاملات جن سے ملکی سلامتی اور شہری امن کو خطرات ہوں اس کا انجام کیاہوتا ہے۔ حیات آباد میں حالیہ پیش آمدہ واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ماضی میں گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کی جعلی دستاویزات میں ہم وطنوں کی اعانت بطور شہری اور سرکاری ملازمین کی کئی مثالیں موجود ہیں جس کے باعث ملک و قوم کو نقصان پہنچنے کے علاوہ خود ان کے اپنے پورے خاندان کے لئے گرفتاری قید و بند‘ جرمانہ اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری اداروں میں خاص طور پر نادرا میں شناختی دستاویزات‘ پاسپورٹ سمیت ہر قسم کے دستاویزات کی تیاری میں احتیاط اور درجہ بدرجہ چھان بین کا عمل مزید مربوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کی جعلسازی کی کوئی ممکنہ کوشش کامیاب نہ ہو۔ شناختی کارڈ کی دستاویزات کی تصدیق میں منتخب نمائندوں اور تصدیق کے مجاز حکام کو خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہے۔

سکولوں میں سیکنڈ شفٹ کااحسن منصوبہ

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرکاری سکولوں میں ایوننگ شفٹ کے منصوبے کی تیاری احسن منصوبہ ہے۔اس ضمن میں پرائیویٹ سیکٹر کی خدمات لینے کا فیصلہ کیاگیا ہے، جس کے تحت حکومت سرکاری سکول کی عمارت فراہم کرے گی جبکہ نجی ادارہ سکولوں سے باہر بچوں کو داخل کرنے اور اساتذہ کی فراہمی کا انتظام کرے گا جبکہ خواہشمند طلبہ بھی ہائی تعلیم حاصل کرنے کیلئے مجوزہ منصوبے سے مستفید ہوسکیں گے۔ پنجاب میں اس کاکامیاب تجربہ ہوچکا ہے جہاں ایوننگ شفٹ میں پرائمری، مڈل اور سیکنڈری کلاسز لیے جاتے ہیں ۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس منصوبے کے لئے وسائل مختص کرکے آئندہ مالی سال اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ پہلی شفٹ میں کسی بناء پر تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو دوسری شفٹ یعنی شام کے اوقات میں حصول علم کا موقع مل سکے۔صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لئے جتنے بھی اقدامات ممکن ہوسکے اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاسکے۔ صرف تعلیم دینا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ معیاری تعلیم دینے کی کوشش کی جائے۔ تعلیمی اداروں میں دوسری شفٹ میں فنی تعلیم کا بھی بندوبست ہوسکے تو اچھا ہوگا۔

متعلقہ خبریں