Daily Mashriq

وفاقی کابینہ میں اتھل پتھل

وفاقی کابینہ میں اتھل پتھل

کچھ عرصہ قبل ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ’’گڑ بڑ گھٹالے‘‘ کی ان سطور میں نشاندہی کی تو بہت سارے احباب اور بالخصوص تحریک انصاف کے حامیوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی محبت میں ایک صاف ستھرے آدمی (وفاقی وزیر صحت) پر بلا جواز الزام تراشی کی گئی۔ میرا سوال یہی تھا کہ اگر گھٹالہ نہیں ہوا تو پھر ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت کی طرف سے 15 سے 20فیصد تک قیمتوں میں اضافے کی منظوری کو 50سے 200فیصد تک کیسے بڑھا لیا؟۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ اسی مسئلہ کو لے کر وفاقی وزیر صحت کو رخصت کردیاگیا ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے جمعرات کی شام ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اعتراف کیا کہ رخصت کئے جانے والے وفاقی وزراء میں ایک کو کرپشن پر رخصت کیاگیا ہے۔ وفاقی کابینہ سے دو وزراء رخصت کئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر صحت عامر کیانی‘ زیادہ مناسب ہوتا کہ ندیم افضل چن کرپشن پر فارغ کئے جانے والے وزیر کا نام بتا دیتے۔ اقتدار میں آنے کے 244 دن بعد وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کے اوپنگ بیٹسمین وزیر خزانہ اسد عمر اور وفاقی وزیر صحت عامر کیانی کو رخصت کردیا۔ 3وفاقی وزراء فواد چوہدری‘ غلام سرور خان اور اعجاز شاہ کے محکمے تبدیل کردئیے گئے۔ محمد میاں سومرو پہلے دو وزارتوں نجکاری اور ہوا بازی کے وزیر تھے‘ اب صرف وزیر نجکاری ہوں گے۔شہر یار آفریدی کو وزیر مملکت ریاستی و سرحدی امور بنا دیاگیا ہے۔ اعظم سواتی کو دوبارہ وزارت عطا ہوئی ہے اب وہ پارلیمانی امورکے وفاقی وزیر ہوں گے۔ ظفر اللہ مرزا معاون خصوصی صحت‘ ندیم بابر معاون خصوصی پٹرولیم‘ محترمہ فردوس عاشق اعوان معاون خصوصی اطلاعات و نشریات اور ڈاکٹر حفیظ شیخ مشیر خزانہ مقرر ہوئے ہیں۔ اس طور اب وزیر اعظم اطلاعات‘ صحت‘ پٹرولیم اور خزانہ کے محکمے خود دیکھیں گے معاونین کے ذریعے۔ اطلاعات ہیں کہ محترمہ فردوس عاشق اعوان کو پنجاب سے پی ٹی آئی کے کسی سینیٹر کو مستعفی کرواکے سینیٹر بنوایا جائے گا۔

سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی رخصتی کی خبریں چند دنوں سے گردش کر رہی تھیں پیمرا نے تین دن قبل ایک ٹی وی چینل کو وزیر خزانہ کی رخصتی کی خبر نشر کرنے پر نوٹس دیا۔ وفاقی وزارت اطلاعات کے ادارے پی آئی ڈی کے افسران ان صحافیوں پر ناراضگی کااظہار کرتے رہے جو اسد عمر کی رخصتی کو خبروں اور کالموں کا رزق بنا رہے تھے۔ لیکن کل اسد عمر رخصت ہوگئے۔ عمران خان پچھلے چند برسوں سے ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے تحریک انصاف کے حلقے انہیں دنیا کا نمبر ون ماہر اقتصادیات بنا کر پیش کر رہے تھے‘ حالانکہ ان کی اینگرو نامی کمپنی سے رخصتی غلط منصوبہ بندی سے کمپنی کو 8ارب روپے کا نقصان پہنچانے کی وجہ سے ہوئی۔ معیشت دان کا تراشا ہوا بت جمعرات کو زمین بوس ہوگیا۔ ان کی اقتصادی پالیسیوں اور لچھے دار باتوں نے جو حشر اٹھائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ وفاقی بجٹ سے ڈیڑھ ماہ قبل وزیر خزانہ کی رخصتی عام سی بات ہر گز نہیں۔ ریت سے بت بنانے کا یہی نقصان ہوتا ہے۔ فواد چودھری چند تنازعات میں گردن پھنسانے کے علاوہ کچھ اور مسائل کابھی شکار ہوئے ‘ زبان دانی کے مظاہروں نے ان کے دوست کم اور دشمنوں کی تعداد بڑھائی۔ اعظم سواتی کی واپسی حیران کن ہے۔ وزیر داخلہ بنائے جانے والے اعجاز شاہ بہت سارے حوالوں سے متنازعہ شخصیت ہیں تین روز قبل جب وہ وزیر پارلیمانی امور تھے تو انہوں نے کہا ’’ جو سڑکوں پر آئے گا اس کی چھترول ہوگی‘‘۔ امن و امان یا دوسرے معاملات سے براہ راست تعلق نہ رکھنے والے اعجاز شاہ کے بیان کا نوٹس لینے کی بجائے انہیں وزیر داخلہ بنا دینا یہ سمجھا تا ہے کہ اگر اپوزیشن کوئی تحریک منظم کرتی ہے تو حکومت کا رویہ کیا ہوگا۔ اپنے ماضی کے حوالے سے وہ بہت سارے حلقوں کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ جنرل پرویز مشرف اور یوسف رضا گیلانی کے دور میں وفاقی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں معیشت دان کی شہرت رکھتے ہیں انہیں حکومت کی خواہش کے مطابق پالیسیاں وضع کرنے کاہنر آتا ہے۔ تابعدار قسم کے انسان ہیں۔ کیا وہ سیلابی تھپیڑوں کا شکار معیشت کو سنبھال پائیں گے؟ اس سوال کا بائیس کروڑ لوگوں کے علاوہ خود ان کو بھی سامنا کرنا ہوگا۔ آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاری میں وقت کم ہے آئی ایم ایف کی شرائط دو دھاری تلوار ہیں‘ روپے کی بے قدری‘ مہنگائی اور دوسرے مسائل سنگین ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ لانے والوں کی تمنائیں پوری کر پاتے ہیں یا نہیں۔

محترمہ فردوس عاشق اعوان پیپلز پارٹی کے دور میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات رہ چکی ہیں سیاسی عمل میں پی ٹی آئی ان کی تیسری جماعت ہے۔ چیلنجز بہت ہیں‘ ویج بورڈ ایوارڈ کا نفاذ‘ اشتہارات کی تقسیم‘ مالکان اور کارکنوں میں پھیلی بے چینی‘ فواد چودھری کا تیار کروایاگیا میڈیا اتھارٹی کا مسودہ‘ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان سے کیسے عہدہ برآ ہوتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا نئے کھلاڑی توقعات پر پورا اتر سکیں گے؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ معاشی اور داخلی مسائل پر قابو پانا مشکل ہوگا وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ دونوں معاملات عملیت پسندی کے متقاضی ہیں۔ جی بہلانے کو کوئی جو مرضی کہتا رہے زمینی حقیقت یہ ہے کہ امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے ایک ہفتہ کے دوران دو صوبوں میں المناک واقعات رونما ہوچکے۔ حیات آباد پشاور والے واقعہ کے حوالے سے کچھ سوالات سامنے آرہے ہیں۔ اعجاز شاہ کے سامنے بڑا امتحان ہے۔ بد قسمتی سے ان کا ماضی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ امتحانوں کی دنیا کے آدمی نہیں جوڑ توڑ اور تعلقات میں کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ عوام جن حالات اور مشکلات کاشکار ہیں ا ن کی شدت کم کرنے کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے لیکن کیا عملی اقدامات کے بغیر محض دعائوں سے رد بلا ممکن ہے؟ کم از کم میرا جواب نفی میں ہے۔

متعلقہ خبریں