Daily Mashriq


جنگ کابازاراورامن کاکاروبار

جنگ کابازاراورامن کاکاروبار

دنیا اور اس میں مروج سیاست کے رنگ کس قدر نرالے ہیں کہ پہلے جنگ کے بازار سجائے اور لگائے جاتے ہیں ۔جب یہ سودا انسانوں کے لہو اور ان کے سکون وترقی کی قیمت پر عروج پاتا ہے تو امن کاٹھیلہ سجتا ہے پھر اسی جنگ کوجسے چھیڑنے میں بے پناہ وسائل اور محنت صر ف کی گئی ہوتی ہے ختم کرنے کے لئے اسی طرح وسائل کو پانی کی طرح بہایا جاتا ہے ۔تضادات بھری ان راہوں میں معتوب کرداروں کو محبوب بنتے دیر نہیں لگتی ۔متروک رویو ںاور روایتوں کو مرغوب ہونے میں لمحوں کی تاخیر نہیں ہوتی ۔پاکستان آج انہی بدلتے رویوں اور تضادات کی قیمت چکا رہا ہے ۔خطے میں جنگ کا بازار سجانے والے سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر امن کا کاروبار کرنے میں مصروف ہیں۔جنرل حمید گل کا ایک انٹرویو سوشل میڈیا میںکچھ دن سے محو گردش ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ افغان جہاد میں امریکہ نے مجاہدین کو جو سٹنگر میزائل مفت فراہم کئے بعد میں وہی دولاکھ ڈالر فی میزائل واپس خریدے ۔کیا عجب تماشے دنیا میں جنگ اور امن کے نام پر ہوتے رہے ہیں ۔ایسے میںعوامی جمہوریہ چین کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کردار کی تعریف کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پروگرام پر بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیاہے ۔چینی وزرات خارجہ کی پریس بریفنگ میں ترجمان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم صمیم کا اظہار ہے ۔ عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی یوں دبنگ آواز میں تعریف بہت اہمیت کی حامل ہے ۔یہ وہ وقت ہے جب امریکہ اور دوسری عالمی طاقتیں زیادہ بلند آہنگی اور تواتر سے نہ سہی مگر گاہے گاہے اور دبے لفظوں میں ’’ڈومور ‘‘ کا مطالبہ کررہی ہیں ۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ملکوں کے حوالے سے گرے لسٹ میں ڈالنا بھی اسی ڈومور کا ایک انداز اور اسی عادت کاشاخسانہ ہے۔دہشت گردی کی تعبیر وتشریح پر اختلاف ہوتے ہوئے اور اس اصطلاح کے مبہم ہونے کے باوجودپاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے کی حد تک تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے ۔ بسا اوقا ت اپنے حصے سے بڑھ کر وہ قرض بھی اتارے ہیں جو اس پر کسی طور واجب بھی نہیں تھے۔ وہ جو سترہ برس خود ٹارزن بن کر سامنے نہ آسکے اور اب بھرا میلہ چھوڑ کر واپسی کی راہیں اور اسباب تلاش کررہے ہیں پاکستان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ جادوئی چھڑی گھمائے گا اور دائیں بائیں چہار سو امن کی برکھا برسنا شروع ہو گی ۔پاکستان اپنے ملک میں امن تو قائم کر سکتا ہے مگر جو ملک پاکستان کے ساتھ دشمنی کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں وہاں کس منتر کے ذریعے پاکستان امن قائم کر سکتا ہے ۔پاکستان اپنی بساط کے مطابق سہولیات تو دے سکتا ہے مگر امن کا ماحول پیدا کرنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو زمین پر موجود اور کھڑے ہیں ۔افغانستان میں امریکہ بیرونی حملہ آور ہے ،طالبان اس کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔افغان حکومت امریکہ کی معاون ہے ۔پاکستان ایک الگ ریاست ہے وہ افغان سرزمین پر جا کر امن کس طرح قائم کر سکتا ہے ۔آزادذرائع ابلاغ نے ہمیشہ یہ تسلیم کیا کہ افغان مزاحمت کا زیادہ تر حصہ اسی سرزمین پر نمو پاتا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں قابض طاقت بھارت ہے اس کے خلاف مقامی اورٹین ایجرلڑکے بندوقیں اور پتھر تھامے ہوئے ہیں ۔پاکستان کنٹرول لائن عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں کسی کو گولی اور بندوق چلانے سے کسے روک سکتا ہے ۔ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس قدر بڑی اور طویل المیعاد جنگیں نہیں لڑی جا سکتیں ۔جنگ وجدل کے مقامی محرکات اور اسباب کو نظر انداز کرنا خودفریبی ہوتا ہے ۔امریکہ اور بھارت جیسے ملکوں کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف میں ہمیشہ ہچکچاہٹ رہی ہے کیونکہ دونوں کی پالیسیوں میں ہی خرابی کی جڑ موجود اور پیوست ہے ۔اس کے باوجود وہ دوسروں پر اُنگلی اُٹھانا ضروری سمجھتے ہیں ۔عالمی فورمز اور اداروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔ایسے میں عوامی جمہوریہ چین کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا کھلا اعتراف ہی تصویر کا اصل رخ ہے ۔پاکستان نے اپنی حدود میں خوفناک دہشت گردی کے عفریت کو امریکہ یا بھارت کی مدد سے نہیںاپنے زورباز سے پچھاڑا ہے ۔اس کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ یہ باہر سے مسلط کردہ دہشت گردی تھی اس کی جڑیں مقامی سماج میں نہیں تھیں ۔یہ محض پاکستان کو سز ا دینے کا انداز تھا ۔اگر بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی تحریک کو دہشت گردی سمجھتا ہے تو تیس سال سے اس پر قابوکیوں نہیں پا رہا ؟اگر امریکہ افغانستان میں طالبان کو دہشت گرد سمجھتا ہے تو پھر ان کے ساتھ ایک میز پر کیوں بیٹھ رہا ہے؟۔جب پاکستان نے نیک محمد کے ساتھ معاہدہ کرکے اپنے علاقوں میں امن قائم کرنے کی کوشش کی تھی تو امریکہ نے ڈرون مار کر اس کوشش کو سبوتاژ کیا تھا؟مسلح کرداروں کے ساتھ میزکی شراکت اس وقت ناخوب تھا اب وہی خوب ہورہا ہے ۔اگر بھارت کو کشمیریوں سے نمٹنے میں تیس سال اور امریکہ کو افغانوں سے نمٹتے ہوئے سترہ سال ہو گئے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان جنگوں کی مقامی پرتوں اور جہتوں سے نظریں چرا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں