Daily Mashriq

احتجاجی سیاست اور انوکی لاک

احتجاجی سیاست اور انوکی لاک

احتجاجی سیاست اور رموز مصلحت ملک میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دو پہلوان مقابلے کے لئے اکھاڑے میں اترے ہوں تو تماشائی دونوں کو اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر اپنی صوابدید کے مطابق مشورے دے رہے ہوں اور ہر دو پہلوانوں کو باہر ہی سے دائو پیچ کے گر نعروں کی صورت دیتے ہوئے ایک کو دھوبی پٹرا مارنے تو مقابل کو پہلے پہلوان کا دائو ناکام بنانے کے لئے کوئی اور گر سکھاتے رہتے ہیں۔ اب تماشائی تو اپنی صوابدید کے مطابق ایک پشتو ضرب المثل کے مطابق نشانے پر تیر چلانے کی بات کرتے ہیں مگر جب خود کمان ان کے ہاتھ میں تھما دی جائے تو پھر ترکی تمام شد کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی حال اکھاڑے کے گرد بیٹھے ہوئے تماشائیوں کا ہوتا ہے‘ دونوں پہلوانوں کو باہر ہی سے نت نئی چالیں چلنے اور مقابل کو چت کرنے کی چیخوں کے ہنگام بے چارے دونوں پہلوانوں کی جو کیفیت ہوتی ہے اس پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ جس تن لاگے سو تن جانے‘ دونوں دائو پیچ آزمانے میں مگن ہوتے ہیں اور دوسرے کے دائو ناکام بنانے میں کبھی یوں بھی ہو جاتا ہے کہ جاپان کے مشہور زمانہ پہلوان انوکی لاک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تب بے بسی میں ہاتھ پیر مارنے کی بھی سکت نہیں رہتی۔ بندے کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ اب اس دائو سے جان کیسے چھڑائی جائے یعنی سیاست کا میدان کوئی ڈبلیو ڈبلیو ای کا اکھاڑہ یعنی ریسلنگ رنگ تو ہے نہیں جہاں تماشائیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اگرچہ جب تک اس کا نام ڈبلیو ڈبلیو ایف یعنی ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن تھا تب تک پھر بھی مقابلوں میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتی تھی اور واقعتا درست مقابلوں کاانعقاد کیا جاتا تھا مگر جب سے اس کا نام ڈبلیو ڈبلیو ای یعنی ورلڈ ریسلنگ انٹر ٹینمنٹ میں تبدیل کیا گیا ہے ما سوائے سالانہ مقابلے رائل رمبل کے باقی 90فیصد مقابلے ڈھکوسلا اور ڈرامہ بازی ہوتی ہے۔ نتیجہ پہلے ہی سے طے شدہ ہوتاہے جس کا مقصد ان مقابلوں پر بھاری شرطیں لگانے والوں کی جیبیں خالی کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے سارا پول ان کیمروں نے کھول دیا ہے جو سائیڈ سے ان مقابلوں کی ریکارڈنگ کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ ریکارڈنگ وائرل کرکے دکھا رہے ہیں کہ یہ جو نیچے لیٹے ہوئے پہلوان پر رسیوں کے اوپر رنگ کے ایک کونے سے چھلانگ لگانے یا پھر ایک جانب سے دوڑتے ہوئے اگر نیچے لیٹے ہوئے پہلوان کے سر پر وار کرتے مقابل کو دکھایا جاتا ہے تو آفیشل کیمرے کا شاٹ کچھ اور دکھاتا ہے اور مکا سیدھا نیچے والے کے سر پر پڑتا دکھائی دیتا ہے حالانکہ اصل میں وہی مکا سر پر نہیں بلکہ سر کے قریب اکھاڑے کے تختے پر مارا جاتا ہے ساتھ ہی یہ جو کسی کے سر سے اور کسی کے جسم سے خون نکلتا دکھایا جاتا ہے یہ بھی مارنے والے پہلوان کے پاس موجود کیپسول کا کرشمہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ تاکہ مقابلوں میں تھرل پیدا کرکے تماشائیوں کے جذبات سے خوب خوب کھیلا جائے۔ گویا بقول داغؔ دہلوی

کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا

کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

بات تماش بینوں کی ہو رہی تھی جو اکھاڑے کے باہر بیٹھ کراندر کھیلنے والوں کو دائو پیچ سکھا رہے ہوتے ہیں۔ کوئی ایک پہلوان غلط دائو لگاتا ہے تو اسے تنقید کی سان پر رکھتے ہوئے ہر حد پار کرنے سے بھی باز نہیں آتے یعنی بعض اوقات اوئے توئے پر بھی اتر آتے ہیں مگر جب خود انہیں میدان میں اترنے کا موقع ملتا ہے تو اپنی ساری ہیکڑی بھول جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے سیاست صرف کنٹینر پر چڑھ کر اوئے اوئے کرنے سے تو نہیں آجاتی۔ دوسروں پر طعنہ زنی کرنا آسان ہے اور میدان کے باہر بیٹھ کر تیر نشانے پر لگانے کے دعوے کئے تو جاسکتے ہیں مگر کمان اپنے ہاتھ میں آجانے کے بعد وہی تیر ٹارگٹ کے سیاہ یا سرخ رنگ کے دائرے میں پیوست کرنا ایسے ہی ہے جیسے اساتیری کہانیوں میں کسی شہزادی کے حصول کے لئے سوئمبر رچانے کے دوران سامنے ہلنے والی مچھلی کی آنکھ میں تیر کو پیوست کرنا۔ یہ الگ بات ہے کہ مقابلے میں ہاتھ آئی ہوئی دروپدی کو بیاہ کر لانے والے ایک بھائی کے ساتھ باقی کے چھ بھائیوں کو بھی ماں کی آنکھوں پر پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے مل بانٹ کر تصرف میں لانے کا حکم ماننا پڑا اور بے چاری دروپدی کے ایک نہیں سات سات شوہروں کو نمٹانے کی داستان نے ہندو توا کی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی تھی اور جو بیچارہ شہزادی کو جیت کر لایا تھا ماں کے ایک ہی حکم کے سامنے ڈھیر ہوگیا یعنی بقول ناز مظفر آبادی

بساط وقت پہ جو کھیلنا تھی جم کے مجھے

وہ بازی ہار گیا تھا میں پہلے دائو میں

احتجاجی سیاست اور حقیقی حکمرانی کے مابین فرق یقینا اب محسوس ہو رہا ہوگا جب آئی ایم ایف کے ایک ہی دائو یعنی ’’انوکی لاک‘‘ کے سامنے پوری ٹیم بے بسی کاشکار دکھائی دیتی ہے اور اب لاکھ تاویلیں دی جائیں جن کو فارغ کرنے کی مجبوری آن پڑی ہے وہ فارغ ہوچکے۔ اب یہاں بھی مخالفین دعوے کر رہے ہیں کہ اگلی باری خود خان صاحب کی ہے۔ ایک انتہائی با خبر صحافی اور تجزیہ کار متواتر مشورے دے رہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ جتنی دیر کی جائے گی صورتحال اتنی ہی بے یقینی میں تبدیل ہوتی جائے گی۔ سچ کہا ہے سیانوں نے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اب ہر لمحہ توکنٹینر کی سیاست نہیں چلنے کی۔ راستے میں کئی آئی ایم ایف بھی کھنڈت ڈالنے آجاتے ہیں

پژمردگئی گل پہ ہنسی جب کوئی کلی

آواز دی خزاں نے کہ تو بھی نظر میں ہے

متعلقہ خبریں