Daily Mashriq

میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں

میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں

ہمارا بلدیاتی نظام اور اس کے زیر اثر چلنے والے بلدیاتی ادارے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق ہر دور میں ایک نئی سمت کو ہانکے جانے کی روایت پوری کرنے پر مجبور ہیں ، وہ جو کسی نے کہا ہے کہ چلتی کا نام گاڑی ہے بلدیاتی نظام یا بلدیاتی اداروں کو چلتا رکھنے کے لئے جو رویہ اور سلوک روا رکھا جارہا ہے اسے بدلتے رہنے کا نام بلدیاتی نظام ہے کا محاورہ ایجاد کرنے کو جی کرتا ہے ، اونٹ رے اونٹ ، تیری کون سی کل سیدھی ہے رے ، اس بات کا احساس ہر دور حکومت میں بلدیاتی نظام میں نت نئی تبدیلیاں لاکر پیدا کیا جاتا رہا ہے ، آج جب ضلع کونسل ختم ، بڑے شہروں میں مئیر ہوگا کی شہ سرخی نظروں سے گزری تو دل سے ایک بار پھر آواز اٹھی کہ لو ہوگیا وہ جس کے ہونے کی کچھ مدت پہلے سے خبریں سننے اور پڑھنے کو مل رہی تھیں ، کھچڑی پک رہی تھی جس کی باس ، بو یا خوشبو اگر ہماری سونگھنے کی حس کو متاثر کررہی تھی تو کان آنکھیںاور زبان اس بات کی پیشن گوئی کررہی تھیں کہ اک بار پھر نت نئے تجربات کی گٹھالی میں ڈال دیا گیا ہے اس قابل ترس بلدیاتی نظام کو ، یادش بخیر نیا پاکستان بنانے کے داعیوں نے خیبر پختون خوا میںرائج جو بلدیاتی نظام کو ملک کے دیگر حصوں کی نسبت بہترین قرار دیا تھا ، اگر یہ اتنا ہی بہترین تھا تو پھر چلتا رہنے دیتے اسے ، لیکن نہیں اس نظام کے حصہ داروں کو اس میں بہت سی خامیاں نظر آرہی تھیں ، جب ہی وہ اپنے مطالبات کو منوانے کے لئے دھرنوں اور ہڑتالوں کی دھمکیاں دینے لگے تھے اور یو ں وہ لوگ ان کا رستہ تکتے رہ گئے جنہوں نے بنیادی سہولتوں کو اپنے گھروں کی دہلیزوں تک پہنچنے کے خواب دیکھ کر ان کو منتخب کرکے تحصیل یا ضلع کونسلوں کی چلتی گاڑی کی ’’ کو۔۔۔ چھک چھک ‘‘ جاری رکھنے کے لئے بھیجا تھا ،

کون کہتا ہے موت آئے گی تومر جاؤں گا

میں تو ڈرائیور ہوں کٹ مار کے نکل جاؤں گا

یہ جملہ یا شعر میں نے اس ٹرک کے پیچھے لکھا دیکھا ، جس کے ڈرائیور نے احمد ندیم قاسمی کی تڑپتی روح سے معذرت کئے بغیر اپنی گاڑی کے پیچھے لکھ رکھا تھا، خیر وہ بچارہ ایک ڈرائیور تھا اس سے گلہ یا شکوہ شکایت کرنا یا نہ کرنا ایک جیسی بات ہے ، بلدیہ کی گاڑی کو کوئی ٹرک ڈرائیور تھوڑا چلا رہا ہے ، بلدکہتے ہیں کسی شہر یا قصبہ کو اور بلدیاتی ادارے شہریوں کو بنیادی حقوق مہیا کرنے کے لئے شہریوں کے منتخب کردہ نمائندوں کی ان کونسلوں کو کہتے ہیں جو حکومت وقت کی سرپرستی اور معاونت سے شہریوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے کی غرض سے سر جوڑ کر بیٹھنے اور کچھ کر گزرنے کے لئے وجود میں آتی ہیں ، دستیاب وسائل کی جمع پونجی کا بجٹ بنتا ہے اور یوںباہمی مشاورت سے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیزوں تک پہنچانے کے بہانے ہڑپ ہوتا رہتا ہے ، جب تک برطانوی دور اقتدار میں متعارف ہونے والے بلدیاتی ادارے وجود میں نہیں آئے تھے یہاں ہجرہ ، بیٹھک ، پنچایت ، اور جرگہ سسٹم قائم تھا ، جس کے فیصلوں کی روشنی میں کسی آبادی یا کالونی کے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت دستیاب وسائل سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھتے تھے ، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے ریاست مدینہ میں قائم اصحاب صفہ کی روشن و تابندہ مثال دی جاسکتی ہے،جو تادم تحریر نیا پاکستان بنانے کے دعوے داروں کی تقریروں میں در آنے والی ایک مثال کی حد تک

بہلا رہے ہیں اپنی طبیعت خزاں نصیب

دامن پہ کھینچ کھیچ کر نقشہ بہار کا

کے مصداق دیکھنے اور سننے کی حد تک مل جاتی ہے ، مگر سچ پوچھیں تو یہ بھی بڑی بات ہے کہ اس حوالہ سے موجودہ حکومت کو اس وقت سے فکر لاحق ہے جب سے وہ معرض وجود میں آئی ہے، ہم نے تو ایسی حکومتیں بھی دیکھی ہیں جو بلدیاتی اداروں ، ان کے منتخب نمائندوں اور اس نظام کو خاطر ہی میں نہیں لاتی تھیں ، بلدیاتی ادارے کباب میں ہڈی بن کر ان کے گلے میں پھنسے رہتے تھے ، سو وہ کبھی بھی بلدیاتی انتخابات کروا کر اپنی سوکن حکومتیں قائم کرنے کے حق میں نہیں تھیں ، اور اگر شومئی قسمت سے ایسا ہوبھی جاتا تو ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا صوبائی اسمبلی یا صوبائی کابینہ کے اراکین بلدیاتی اداروں کو نظر انداز یا بائی پاس کرکے تعمیراتی کاموں کی تختیاں لگانے گلی گلی پہنچ جاتے ، فوٹو سیشن ہوتے اور یوں تعمیراتی کاموں کی افتتاحی تقاریب کی خبریں ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ کی پیشانیوں پر چپک جاتیں۔پاکستان میں بلدیاتی اداروں کو پنپنے کا موقع ہر آمر راج میں ملا ، فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام سے ان اداروں کو تقویت دی تو جنرل ضیاء الحق نے اس نظام میں نقب لگا کر سٹی مئیر اور کونسلروں کا نظام متعارف کروایا، مشرف کے عہد حکومت میں یہاں ضلع کونسلیں اور تحصیل کونسلیں بنا کر اصلی جمہورت کے نام سے اس نظام میں تبدیلی پیدا کی گئی ، پاکستان کی تاریخ کی سیاہ ست میں پچھلے دروازے سے در آنے والے یہ حکمران اپنے دور اقتدار میںطول دینے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے یہ سب کچھ کررہے تھے لیکن وزیر اعلیٰ صوبہ خیبر پختون خوا نے ضلع کونسل ختم کرکے بڑے شہروں کے بلدیاتی اداروں میں مئیر شاہی نظام متعارف کرانے کے اس عمل کو اپنی چاچھ کے میٹھا ہونے کے مصداق بہترین نظام کہا ہے ، اللہ کرکے ایسا ہی ہو، ورنہ اپنی مایوسی کا یہ عالم زبان پر تو یہی شکوہ یا شکایت شعر بن کر گونجتا رہتا ہے کہ

بڑے سکون سے افسردگی میں رہتا ہوں

میں اپنے سامنے والی گلی میں رہتا ہوں

متعلقہ خبریں