ڈینگی کی آفت' احتجاج کا نہیں اعانت کا متقاضی مسئلہ

ڈینگی کی آفت' احتجاج کا نہیں اعانت کا متقاضی مسئلہ


پشاور میں عوام کی جانب سے حکومتی اداروں اور انتظامیہ کے خلاف ڈینگی کے وبائی صورت اختیار کر جانے تک تساہل کا مظاہرہ کرنے پر برہمی بے جا نہیں خود حکام کو ڈینگی میں مبتلا افراد کی تعداد نوسو تک پہنچنے پر اس کا ادراک ہوگیا ہوگا۔ اس وبا پر عوام کی جانب سے احتجاج بھی اپنی جگہ درست سہی لیکن ایک وبائی صورتحال میں بجائے اس کے کہ حکومت اور متعلقہ محکموں کو اس کی غفلت و لا پرواہی کا احساس دلاتے ہوئے اس وباء سے محفوظ رہنے کی مساعی میں مشترکہ طور پر حصہ لیا جاتا اسے حکمران جماعت کے قائد اور وزیر اعلیٰ کے خلاف سیاسی تحریک بنانے اور ان کے خلاف نعرہ بازی موزوں طرز عمل نہیں۔ ان حکمرانوں کاچنائو کسی دوسرے صوبے کے لوگوں نے نہیں کیا بلکہ یہ ہمارے اپنے چنیدہ ہیں۔ نیز ڈینگی کی وباء کوئی سیاسی معاملہ نہیں جو نعرے لگانے اور احتجاج سے حل ہوگا یا ایسا کرکے کوئی مقصد حاصل کیاجاسکے گا۔ یہ ایک قدرتی آفت اور آزمائش کاوقت ہے۔ ایک ایسی آفت جسے اگر حکومت کی پوری مشینری ٹالنے کی بروقت کوشش بھی کرتی تو بھی شاید ایسا ممکن نہ ہوتا۔ جہاں تک یونیورسٹی روڈ پر نالوں کی تعمیر کا تعلق ہے ان کی تعمیر میں تاخیر کا تو اعتراف ہونا چاہئے اور متعلقہ حکام کو اس کا احساس بھی دلانے کی ضرورت ہے۔ ان کے باعث گندے پانی کے جوہڑوں سے مچھروں کی پیدائش و افزائش اور ملیریا کا خدانخواستہ پھیلائو اور وبا کا خطرہ تو درپیش ہوسکتا ہے۔ مگر ڈینگی کے مچھروں کی پیدائش افزائش کی وجہ یہ گندہ نالے نہیں کیونکہ ڈینگی کا مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے زیادہ سے زیادہ گلیوں میں بہتے پانی یا بار بار گلیوں میں پانی آنے کے باعث اس میں ڈینگی کے مچھروں کی پیدائش و افزائش ممکن ہے۔ گھروں میں گملوں اور خاص طور پر بوتلوں میں پانی ڈال کر پودے لگانے، ٹائروں اور دیگر خالی برتنوں میں بے احتیاطی اور غفلت کے باعث پانی بھرے رہنے سے ڈینگی کے مچھروں کی پیدائش و افزائش ممکن ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بیشتر وجوہات ایسی ہیں جس کی ذمہ داری خود شہریوں پر عائد ہوتی ہے۔ شعور کی کمی اور غفلت و لا پرواہی ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں علاقے میں باقاعدہ ٹیمیں اور عملہ بھجوایا گیا ہے۔ وزیر صحت نے ہسپتالوں کو ڈینگی کے مشتبہ کیسز کے تشخیصی ٹیسٹ مفت کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ہسپتالوں کو ڈینگی کے مریضوں کے علاج کے لئے اضافی عملہ بھی فراہم کردیاگیا ہے۔ کے ایم یو میں زیر تعمیر لیبارٹری میں ڈینگی کے مریضوں کی تشخیص کا آغاز کردیاگیا ہے۔ ہائیکورٹ نے محکمہ صحت اور انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ان تمام اقدامات کے باوجود بھی حکومت اور متعلقہ حکام پر تنقید کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے لیکن ان کو نشانہ بنانے کا یہ موقع نہیں اور نہ ہی اسے سیاسی رنگ دینا مناسب ہوگا۔ سیاسی مخاصمت نبھانے کے درجنوں مواقع ہوں گے اس وقت وباء سے نمٹنے پر حکومت، انتظامیہ اور عوام سبھی کو متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ عوام کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ ہر مسئلے کا حل حکومت کے پاس نہیں ہوتا۔ قدرتی آفات سے نبٹناجدید سے جدید اور ترقی یافتہ ممالک کے بس میں نہیں ہوتا صرف اس کی شدت میں کمی لانے کی سعی اور اس سے بچائو کی تدابیر ممکن ہیں جن کی کامیابی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوگی۔ گو کہ ہمارے حکمرانوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر گزشتہ سالوں ڈینگی سے نمٹنے کے لئے صبح شام مساعی میں ذاتی اور بھرپور شرکت پر اسے طنزاً ''ڈینگی وزیر اعلیٰ'' کا نام دیا تھا لیکن اس کے باوجود شہباز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو ڈینگی کی وبا پر قابو پانے میں مدد کی پیشکش کو قبول کرنے سے ہچکچاہٹ کامظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ پنجاب میں جس طرح ہنگامی بنیادوں پر اس وباء پر قابو پانے کے لئے جنگی اقدامات کئے گئے اور جو طریقہ کار اور ذرائع استعمال میں لائے گئے اس سے آگاہی اور محکمہ صحت پنجاب کے حکام اور عملے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے میں کوئی عار محسوس نہ کی جائے اور نہ ہی اسے سیاسی مخالفین سے مدد کے زمرے میں شمار کیاجائے۔ سیاست اور سیاسی مخالفت کا اپنا میدان موقع اوروقت ہوتاہے۔ سیاست دشمنی اور مخاصمت پالنے کا نام نہیں بنابریں ان کی جانب سے مبنی بر خلوص پیشکش کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ اس وبا پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومت کو وسائل کے استعمال میں بخیلی کا مظاہرہ کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ ہسپتالوں میں ہنگامی طور پر جو اقدامات کئے گئے ہیں اگر ان کو کافی محسوس نہ کیا جائے اور مریضوں کے علاج معالجے میں مشکلات پیش آئیں تو اس سلسلے میں مزید بلکہ حفظ ما تقدم کے طور پر اضافی عملہ اور اضافی وسائل مہیا کئے جائیں۔ ڈینگی کے مریضوں کا علاج معالجہ مفت کیاجائے اور مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ بر موقع اور با سہولت کئے جائیں۔ جن علاقوں میں ڈینگی کی وباء پھیل چکی ہے وہاں گھر گھر جا کر ڈینگی ٹیسٹ کے لئے سیمپل اکٹھے کئے جائیں تاکہ مرض کی بروقت تشخیص ہونے پر علاج معالجے میں آسانی ہو ۔ وبائی علاقوں میں مزید عملے کی ضرورت ہو تو وہ کمی پوری کی جائے علاقے کے عوام کو گھر گھر جا کر معلومات دینے اور ترغیب کے ذ ریعے اس کے اسباب و وجوہات کا اپنی نگرانی میں تدارک یقینی بنایا جائے جو ڈینگی کا باعث بنتے ہوں۔ عوام خود اپنے مفاد میں بلا جواز احتجاج کی بجائے حکومتی اقدامات اور مساعی کی کامیابی کے لئے بھرپور تعاون کریں تاکہ مل جل کر اس آفت پر قابو پایا جاسکے۔

اداریہ