Daily Mashriq


ڈیڑھ سال مذاکرات کے باوجود عدم اتفاق ؟ 

ڈیڑھ سال مذاکرات کے باوجود عدم اتفاق ؟ 

ڈیڑھ سال سے جاری حکومت حزب اختلاف مذاکرات کے باوجود حکومت اور حزب اختلاف کا انتخابی اصلاحات بل پر عدم اتفاق اور حزب اختلا ف کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل کو رد کر کے اصلاحات کا مطالبہ فریقین کی عدم دلچسپی یا پھر ضد اور ہٹ دھرمی کا وہ بین ثبوت ہے جس پر عوام کا سیاستدانوں او ر سیاسی اداروں پر اعتماد کا کمزور پڑجانا فطری امر ہوگا ۔ اس ضمن میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مفاہمت کے زیادہ امکانات دکھائی بھی نہیں دیتے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ آخر انتخابی اصلاحات کے معاملے میں ایسی کیا پیچید گیا ں حائل ہیں کہ سو سے زائد مرتبہ مذاکرات کے باوجود بھی اتفاق رائے نہیں ہو پایا ۔ عین اس وقت جب اتفاق رائے نزدیک تھا اچانک حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا پینترا بدلنا سمجھ سے بالاتر امر ہے ۔ انتخابی اصلاحات ایسا سنجیدہ اور دقیق معاملہ ہے کہ مطلوبہ قانونی مسودے کو ایوان میں پیش کرنے سے قبل اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے ۔ سیاستدانوں کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیئے کہ وہ اپنے اسی رویئے کے باعث ایوان کی کمزوری اور پارلیمان کے ضعیف ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اگر سیاستدان پارلیمان کو مضبوط بنانے کے عملی طور پر خواہاں بن جائیں اور اپنے فیصلے پارلیمان سے لینے کی روایت قائم کریں تمام معاملات پر پارلیمان میں بحث و مباحثہ اور فیصلے کر کے اس پر قائم رہا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پارلیمان مضبوط ہو جب اپنے ہی ہاتھوں پارلیمان کو محض اکھاڑ ہ یا پھر نشستند و گفتندو بر خواستند بنا دیا جائے تو کسی اور سے گلہ مندی کا اظہار بھی نہیں ہونا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں