کالجوں میں داخلوں سے محروم طالب علموں کا مسئلہ 

کالجوں میں داخلوں سے محروم طالب علموں کا مسئلہ 

خیبر پختونخوا کے سرکاری کالجوں میں نشستوں کی کمی کے باعث ہزاروں طالب علموں کا داخلوں سے محروم رہ جانا لمحہ فکر یہ ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سوات میںبارہ ہزار سے زائد طلبہ سرکاری کالجوں میں داخلوں سے محروم رہ گئے ۔ گوکہ اب بعض سرکاری کالجوں اور نجی کالجوں کی فیسوں میں زیادہ فرق نہیں رہا خاص طور پر مختلف یونیورسٹیوں میں بی ایس کی فیسوں کی ادائیگی طلبہ کے بس کی بات نہیں لیکن بہر حال جن کو سرکاری کالجوں میں داخلہ مل جاتا ہے فیسوں کا بندوبست کسی نہ کسی طرح کرہی لیا جاتا ہے۔ سرکاری کالجوں میں داخلہ طلباء کی بے تحاشاتعداد کے باعث ایک انار سو بیمارکے مصداق بن گیا ہے۔ یوں تو خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت تعلیمی ایمر جنسی اور تعلیمی انقلاب کا دعویٰ کرتی ہے لیکن جب طالب علم میٹرک کے بعد سرکاری کالجوں میں داخلے کے متلاشی ہوتے ہیں تو سرکاری کالجوں اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کا کمی کے باعث داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ ہر طالب علم کی اتنی مالی استطاعت بھی نہیں ہوتی کہ وہ کسی نجی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے اس کے باوجود طلبہ کی بہت بڑی تعداد مختلف پیشہ ورانہ کالجوں اور نجی کالجوں میں اپنے بل بوتے پر داخلہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ پرائمری سے میٹرک تک اچھی اور معیاری تعلیم کے خواہشمند طلبہ اور ان کے والدین سرکاری تعلیمی اداروں کے معیار پر اعتماد نہیں کرتے۔ اگر اس سطح پر بھی لوگ سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہشمند ہوں تو حکومت نصف طالب علموں کو بھی داخلہ نہ دے۔ میٹرک کے بعد جب طالب علم سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے جاتے ہیں تو اتنی تعداد میں سیٹیں نہیں ملتیں کہ ان طالب علموں کو داخلہ دیا جاسکے۔ آخر یہ کیسا تعلیمی انقلاب اور تعلیمی ایمرجنسی ہے جس کاشور تو بہت سننے میں آتا ہے مگر صرف سوات میں بارہ ہزار طالب علم داخلے سے محروم رہ گئے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے صوبے کے سرکاری کالجوں میں دو شفٹ شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طالب علم داخلوں سے محروم نہ رہ جائیں۔ ہائیر سیکنڈری سکولوں کی تعداد میں اضافے اور تمام اہم اور بڑے ہائی سکولوں میں انٹر میڈیٹ کی کلاسیں شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ میٹرک میں کم نمبر حاصل کرنے والے طالب علموں کے لئے ان کے نزدیکی علاقوں میں ہنر سکھانے کے مراکز میں اضافہ کیا جائے۔ فنی تربیت کے مراکز میں نجی اداروں کی طرح طب اور انجینئرنگ کے شعبے میں مختلف ڈگری کورسز اور بی ایس کے کورسز شروع کئے جائیں۔ تعلیمی اداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے اور موجودہ تعلیمی اداروں میں دوسری شفٹ شروع کرنے کے علاوہ دیگرممکنہ اقدامات کاجائزہ لیا جائے اور داخلے کے خواہشمند طالب علموں کو نشست نہ ملنے پر تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنے کی نوبت نہ آنے دی جائے۔

اداریہ