Daily Mashriq

اچکزئی اور مودی کے درمیان ٹیلی پیتھی

اچکزئی اور مودی کے درمیان ٹیلی پیتھی

سارے پاکستانی سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ اکتوبر 1947ء میں بھارت کے فوج کشی کے ذریعے کشمیر کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعدایک مقبوضہ کشمیر ہے جہاں بھارت کا قبضہ ہے اور ایک آزادکشمیر ہے، اس علاقے کو کشمیریوں نے مسلح اورسیاسی جدوجہدکے ذریعے بھارت کے قبضے میں جانے سے بچایا اور یہاں آزادکشمیرکی حکومت قائم کی جو آج تک ہے۔ آزاد کشمیر کا اپنا صدر ہے ، اپنا وزیر اعظم ہے، اپنی اسمبلی وزارت ہے۔ ان اداروں کے انتخابات ہوتے ہیں۔ایسا ہی انتظام مقبوضہ کشمیر میںبھی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی حکومت کے زیر اثراس انتظام کو تسلیم نہیںکرتے جس میں نام نہاد حکومتی اداروں کے باوجود سات لاکھ بھارتی فوج طرح طرح کے مظالم کے ذریعے کشمیری عوام کو محکوم رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میںیہ قرارداد موجود ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے تحت ہو گا اور اس کے لیے استصواب رائے کرایا جائے گا۔ بھارت اس طرف نہیں آتا۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو آزاد کشمیر میں کام کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعدآج کل آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔ جب حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ اور عوامی نمائندگی کے عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا تو آزاد کشمیر کے ن لیگی وزیراعظم نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی محبت کے جوش میں بیان دے دیا کہ اب ہمیں انصاف کے لیے کسی اور ملک کی طرف دیکھنا ہوگا۔ (آزاد کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں ہے۔)اس پر ان کی پارٹی نے بھی اپنے وزیر اعظم کی مذمت کی اور خود انہوں نے بھی وضاحت کی کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا جو ان کے بیان کا لیا گیا۔ واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر میاں نواز شریف اور راجہ فاروق حیدر کی پیدائش سے پہلے سے جوں کا توں ہے۔ میاں نوازشریف اور راجہ فاروق حیدر کی ذاتی محبت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، نہ راجہ فاروق حیدر کو آزاد کشمیر اسمبلی کا کوئی مینڈیٹ حاصل ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے الحاق کے لیے کسی ملک کا انتخاب کریں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام جس طرح بھارت کی غلامی سے نجات پانے کے لیے مسلسل سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے روزانہ جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیںقارئین کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔محمود خان اچکزئی پاکستان کے وکھری ٹائپ کے سیاسی لیڈر ہیں جن کی پارٹی پختونخوا ملی عوامی پارٹی اگرچہ چھوٹی سی پارٹی ہے لیکن وہ ملک کے قومی مسائل کے بارے میں وقتاً فوقتاً ایسے اچنبھے کے بیانات دیتے رہے ہیں کہ میڈیا میں توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کے بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کو آزاد کر دے ، بھارت مانے یا نہ مانے۔ پاکستان کے ساتھ جس کشمیر کی سرحد ملتی ہے وہ تو پہلے ہی آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے ۔ان کی یہ منطق عجیب لگتی ہے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان آزاد کشمیر سے رشتہ توڑ لے ، آمدورفت بند کر دے ، تجارت بند کردے ۔ اور راجہ فاروق حیدر کے لیے کسی اور ملک سے الحاق کے بارے میں سوچنے کے بارے میںآسانیاں پیدا کر دے تو اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مقیم بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کو روندتی ہوئی آزاد کشمیر پر قابض ہو جائے۔ اور سارا کشمیر مقبوضہ کشمیر بن جائے۔ اگر ان کا خیال ہو کہ بھارت ایسا نہیں کرے گاتواس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آزادکشمیر کے باشندوں کی آمدورفت اور تجارت پاکستان کے ذریعے ختم ہو جائے گی یا نئے سرے سے طے پائے گی۔ لیکن کیا بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا ممکن ہے۔ اچکزئی اس وقت یہ بات کہہ رہے ہیں جب کئی ماہ سے جاری مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد کے خلاف پیلٹ گنوں کے استعمال ، براہ راست گولیاں مارنے کے اقدامات ' کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر تلاشی کی بھارتی فوج کی کارروائیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے عوام کی کشمیر بنے گا پاکستان کی جدوجہدکو ختم کرنے میں ناکام ہونے کے بعدبھارت کے وزیراعظم نریندر مودی ایک نیا رخ اختیار کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ وہ بھارتی عوام کو کہہ رہے ہیں کہ کشمیریوں کے دل جیتنے ضروری ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے ہمارا نعرہ تھا بھارت چھوڑ دو اب ہمارا نعرہ ہے بھارت کو جوڑ دو۔ ان نعروں کی بات تو نریندر مودی نے کی ہے لیکن بھارت جوڑ دو کے عنوان کے تحت وہ کشمیریوں کے ساتھ کیا نرمی کا سلوک کرتے ہیں اس کی تفصیلات انہوں نے نہیں بتائیں۔ شاید اچکزئی صاحب کو کچھ اندازہ ہو اور وہ سمجھتے ہوں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنے رویے میں جو تبدیلی لائے گا وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے عوام کو پسند آئیں گی بلکہ آزاد کشمیر کے عوام بھی بھارت کے اس رویہ کو وصول کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ محمود اچکزئی اور نریندر مودی کے درمیان ٹیلی پیتھک تعلق کتنا گہرا اورکتنا وسیع ہے یہ تو وہ خود ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ لیکن ان کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسترد کر دے جن کے تحت تنازع کشمیر کاتصفیہ کشمیریوں کے استصواب رائے کے ذریعے ہونا ہے۔ پاکستان کشمیریوں ' فلسطینیوں اور مظلوم اقوام کے حق خود ارادیت کی حمایت سے دستبردار ہوجائے جو قیام پاکستان کی اساس ہے۔ محمود خان اچکزئی کے پاکستان کی سرحدوں کے بارے میں اور بھی ارشادات ہیں جن پر بات کسی آئندہ نشست میں کی جائے گی۔ تاہم کشمیر کے بارے میں اس بیان پر جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور اس بیان کو غداری قرار دیا ہے۔ محمود اچکزئی ن لیگ کی حکومت کے اتحادی ہیں ۔ حکومت کا اس بارے میں کیا ردعمل ہے سامنے نہیں آیا۔جب تک ن لیگ کی حکومت اس بیان پر تبصرہ نہیں کرتی یہی سمجھا جائے گا کہ اس مؤقف کو حکومت کی تائید حاصل ہے۔

اداریہ