Daily Mashriq

نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ مار

نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ مار

ہماری پوتی جو بستی کے ایک نجی سکول میں پڑھتی ہے چھٹی پر روتی بسورتی آئی۔ پوچھنے پر بتایا کہ اسے آج کلاس ٹیسٹ سے نکال کر ایک گھنٹے تک برآمدے میں کھڑا رکھا گیا۔ اس اذیت کی وجہ یہ بتائی گئی کہ تم نے بروقت فیس جمع نہیں کی 'تم نا دہندہ ہو۔ ہم نے اس کا فیس کارڈ دیکھا تو وہ وقت سے بہت پہلے ادا کی جا چکی تھی' ان پڑھ استانی نے اپنا ریکارڈ چیک کرنے کی زحمت نہیں کی تھی یا پھر20قدم کے فاصلے پر قائم دفتر سے اسے فہرست فراہم نہیں کی گئی ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے تعلیم سے زیادہ فیس کی وصولی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ منافع بخش تجارتی اداروں کے طرز پر چلائے جاتے ہیں۔ اگر نجی سکولز کی انتظامیہ فیسوں کی وصولی کے ساتھ بچوں کی تعلیم پر بھی توجہ دیتی تو طلبہ کو برآمدے میں کھڑا کرکے اذیت میں مبتلا نہ کیاجاتا۔ فیس بروقت داخل نہ کرنے پر انہیں جرمانہ کیا جاسکتا تھا۔ انہیں اگلے دن فیس کارڈ پیش کرنے کے لئے کہا جاسکتا تھا۔ ایک ناکردہ گناہ کی پاداش میں طلبہ کو کلاس ٹیسٹ سے محروم رکھنا کسی طور بھی جائز نہیں۔ دیکھتے ہیں اس کوتاہی کی نشاندہی پر سکول انتظامیہ کی جانب سے استانی کو کیا سزا دی جاتی ہے یا پھر نہیں دی جاتی تاکہ وہ اسی طرح طلبہ کو برآمدے پر کھڑا کرکے انہیں اذیت دیتے رہیں۔ یہ سکول ہیں یا عقوبت خانے؟ ہم جب سکول میں داخل ہوئے تو لوگوں میں علم پھیلانے کاجذبہ ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ جیسے کہ اب خود رو جھاڑیوں کی طرح پرائیویٹ سکولوں کاجال بچھا نظر آتا ہے۔
سکول تو کیا اب تو جامعات تک گلی کوچوں میں بے دریغ علم کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔ جائو ان سے ڈگری لو اور پھرسکولوں میں دس ہزار روپے ماہانہ پر تشنگان علم کو سیراب کرنا شروع کردو۔ قدم قدم پر کھمبیوں کی طرح اُگے ہوئے ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج نے اخبار میں لگی ایک خبر کے مطابق کہاہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی مشروم گروتھ ہو رہی ہے جن کا بنیادی مقصد سادہ لوح عوام اور طلبہ کے والدین سے لمبی رقمیں وصول کرنا ہے اور اسی طرح تعلیم کے نام پر لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت صرف تماشائی کاکردار ادا کر رہی ہے۔ فاضل جج نے مزید کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ان اقدامات کانوٹس لے اور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہ دے۔ انہوں نے تنبیہہ کی کہ اگر حکومت نے اس ضمن میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور اسی طرح خاموش تماشائی بنی رہی تو عدالت خود ایکشن لے گی اور ایسے اداروں کو بند کردیاجائے گا۔ فاضل جج نے یہ ریمارکس اس رٹ کی سماعت کے د وران جاری کئے جس میں درخواست گزاروں نے یہ داد رسی طلب کی تھی کہ کسی پرائیویٹ سکول کی انتظامیہ نے طلبہ سے لاکھوں روپے کی فیس وصول کرنے کے بعد انہیں کامیابی کی اسناد جاری کیں۔
جب یہ طلبہ پروفیشنل کالج میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے پہنچے تو یہ اسناد جعلی ثابت ہوئیں کیونکہ وہ تھرڈ سمسٹر میں فیل ہو چکے تھے۔ آپ بتائیے کہ طلبہ کے مستقبل کو تاریک کرنے کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ تو ایک واقعہ ہے جو عدالت میں لے جانے کی وجہ سے منظر عام پر آیا۔ نجی اداروں سے اس نوع کی تجسس اور تحقیق کے بعد بے شمار جعلسازیاں منظر عام پر آسکتی ہیں۔ جیسے کہ ہم نے عرض کیا بیشتر نجی تعلیمی ادارے' منافع بخش تجارتی اداروں کے طور پر چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں قائم کینٹینوں سے روزانہ چالیس سے پچاس ہزار روپے تک کی کمائی ہوتی ہے۔ ان کینٹینوں سے طلبہ کو اسی سکول کے لئے مرتب کردہ نصاب کی کتابیں ' کاپیاں اور مخصوص رنگ کایونیفارم خریدنے کا پابند کیاجاتا ہے جو من مانی قیمتوں پر طلبہ حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان سکولوں کی فیسوں پرکوئی چیک نہیں ہوتا۔ وہ کسی وقت بھی اپنی صوابدید پر ان میں اضافہ کردیتے ہیں جس کی حالیہ مثال کراچی کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے والدین کا سڑکوں پر احتجاج تھا۔ ہمیں حیرت ہے کہ وارڈ لارڈز کے قلعہ بند مورچوں کی طرح ان سکولوں میں کسی کو وہاں تک رسائی کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ گلیوں میں قائم ان نجی سکولوں میں سے ہرایک کا اپنا اپنا خود ساختہ نصاب ہے۔ حکومت کے پاس ان کی مانیٹرنگ کاکوئی بندوبست نہیں۔ ایسی صورتحال میں پشاور ہائی کورٹ کے فاضل جج کے یہ ریمارکس کہ نجی تعلیمی ادارے دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی اس لوٹ مار کاخاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت ان کو راہ راست پر لانے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرے۔

اداریہ