Daily Mashriq


نظام کو چلنے دیں

نظام کو چلنے دیں

میاں نواز شریف اب وزیر اعظم سے سابق وزیر اعظم ہوچکے ہیں ، ایک بار پھر کسی منتخب وزیر اعظم کو برطرف کر کے تاریخ برقرار ہے کہ پاکستان میں کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی ہے۔میاں نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد پاکستان کے عوام واضح دو گروپوں میں بٹے دکھائی دے رہے ہیں ،ایک گروپ کے مطابق میاں نواز شریف نے قوم کے سامنے سچ بیان کرنے سے گریز کیا ہے ،قوم کا پیسہ غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر منتقل کیا ہے اور اس طرح وہ صادق و امین نہیں رہے لہٰذا ان کا وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔جبکہ دوسرے گروپ کے مطابق میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر در اصل جمہوریت کے خلاف سازش اور جمہوریت کو ڈی ریل کر نے کی کوشش کی گئی ہے ۔درج ذیل سطور میں ہم اس کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ خرابی کہاں ہے اور غلط کون ہے ؟تسلیم کہ حکومت مثالی نہیں ہے، مانا کہ شاید موجودہ جمہوری نظام بھی مثالی نہیں ہے۔مگر وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ فی الحال اس سے بہتر کوئی نظام سامنے نہیں آیا ہے ، اسی لئے دنیا کے بیشتر ممالک نے یہی نظام اپنایا ہوا ہے اور جب تک سوچنے والے، فکر کرنے والے کوئی اور نظام تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو جاتے، دنیا اسی نظام پر عمل کرتی رہے گی۔ ہمارے یہاں اگر آج جمہور یت مثالی نہیں ہے تو اس کی وجہ جمہوریت نہیں، عدم جمہوریت ہے۔ آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ دنیا جمہوریت کی حامی اور آمریت کے خلاف۔ جن ممالک میں بادشاہت ہے وہاں بھی بتدریج جمہوریت کی طرف بڑھا جا رہا ہے۔ پاکستان میں صورت حال مختلف رہی، یہاں جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا، ملک کی 70 برس کی عمر میں تینتیس سال فوجی حکومتیں مسلط رہیں، ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اورپھر پرویز مشرف۔ جمہوری حکومتوں کو کب کام کرنے دیاگیا؟ پہلے آئین بنانے میں روڑے اٹکائے جاتے رہے، آئین ساز اسمبلی توڑ دی گئی اور جب آئین بن گیا 1956ء میں،تو دو سال بعد ہی اسے توڑ دیا گیا۔ جنرل ایوب خان نے 1962ء میں ایک آئین مسلط کیا جو ان کی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ یحییٰ خان نے ایک آئین نافذ کرنے کی کوشش کی تھی،کیا تھا کسی کو شاید ہی پتہ ہو مگر اس دوران ملک ایک شدید بحران کا شکار ہو کر دولخت ہو گیا۔اس کے بعد دو برس لگے اور 1973ء میں قوم ایک متفقہ آئین بنانے میں کامیاب ہو گئی مگر اس آئین کو بھی چلنے نہیں دیا گیا۔ چار سال بعد ہی 1977ء میں ایک اور فوجی حکومت آگئی جو گیارہ سال تک مسلط رہی۔ان کے بعد پہلی جمہوری حکومت سے لے کر اگلے گیارہ برس میں چار حکومتیں آئیں اور برطرف کی گئیں۔ ایک طرف ایک فوجی حکمران بلاشرکت غیرے گیارہ برس تک حکومت کرتا رہا اور دوسری طرف عوام کی منتخب حکومتیں اسی عرصے میں چار بار برطرف کی گئیں اور جو فوجی حکمران ان کے بعد آیا اس نے بھی نو سال حکومت کی۔ آج اگرحکومت مثالی نہیں ہے،جمہوری نظام بھی مثالی نہیں ہے تو اس کی وجہ وہ آسیبی غیر جمہوری نظام ہے جو ملک پر مسلط رہا۔ جمہوریت ایک دم نہیں آتی۔کسی بھی جمہوری ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، اس نظام کو مستحکم ہونے میں وقت لگاہے۔ مادر جمہوریت برطانیہ ہو یا دوسرا کوئی بھی ملک، بتدریج ہی قابل رشک جمہوری نظام قائم کر سکا ہے۔ ان تمام ممالک میں جمہوریت کو کام کرنے دیا گیا۔ بھارت کو دیکھ لیں۔ ہزار خرابیاں وہاں ہوں گی اور ہیں مگر جمہوریت کی راہ میں کوئی رکاوٹ کبھی کھڑی نہیں کی گئی۔ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ یہاں معاملہ مختلف رہا۔ جمہوریت کی راہ میں براہِ راست اور بالواسطہ مداخلت کی جاتی رہی۔ جمہوریت اگر مستحکم نہ ہو سکی تو یہ نظام کا قصور نہیں ہے۔ مان لیا اس وقت مثالی حکومت ہے نہ مثالی جمہوریت۔ تو کیا غیر جمہوری حکومتیں بہتر تھیں؟پرویز مشرف کے دور میں کیا کچھ ہوا، ابھی کل کی بات ہے۔ فوج کے سربراہ نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا، صرف بندوق کے زور پر۔ مشرف نے تو مارشل لا بھی نافذ نہیں کیا۔ بس حکومت سنبھال لی،چیف ایگزیکٹو بن بیٹھے اور وہ یہاں رکے نہیں۔ اپنے اقدام کو جائز قرار دلوانے کے لئے انہوں نے ججوں پر زور ڈالا، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور کئی ججوں کو فارغ کیا اور ایک نیا چیف جسٹس مقرر کر دیا۔ پہلے انہوں نے منتخب حکومت کے خلاف کارروائی کی پھر عدلیہ پر چڑھ دوڑے، ایک بار نہیں کئی بار۔ عدلیہ بار بار مشرف کی آمریت کا نشانہ بنتی رہی۔ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف انہوں نے ریفرنس پیش کیا۔ یہ جو آج ملک دہشت گردی کا شکار ہے پرویز مشرف پر اس کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ کوئی جمہوری حکومت ہوتی تو شاید اتنی آسانی سے امریکہ کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دیتی۔ سیاسی حکومتوں کا دامن بھی کیا اتنا ہی داغدار ہے؟شاید نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سیاسی حکومتیں دودھ کی دھلی ہوئی ہیں۔ سیاسی حکومتوں نے بھی ایسے کئی کام کئے ہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں پسند نہیں کئے جاتے۔ پوری قومی قیادت نے 1973ء کا متفقہ آئین بنانے میں بھٹو کا ساتھ دیا۔ بھٹو نے اگلے ہی دن ہنگامی حالات نافذ کر کے بنیادی حقوق معطل کردیئے۔ اپنے مخالفوں اور بعض حوالوں سے تو اپنے حامیوں کے لئے بھی وہ شمشیر برہنہ تھے۔ آج اگر سیاسی حکومت مثالی نہیں ہے تو یہی سچ ہے۔ جمہوریت بھی اگر مثالی نہیں ہے تو یہ بھی سچ ہے۔ انہیں کام تو کرنے دیں،چلنے تو دیں۔ پوری پاکستانی تاریخ میں پانچ سال ایک ہی حکومت نے پورے کئے۔ اس لئے کر لئے کہ مداخلت نہیں ہوئی۔ایک خراب نظام سے بہتر نظام کی طرف جاتے جاتے وقت لگے گا۔ توازن قائم ہونے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔ سب کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ حکومت بھی قوم کی ہے، فوج بھی قوم کی ہے۔ مل کر ہی ملک کو بہتری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے، مثالی جمہوریت میں ہی مثالی حکومت قائم کی جاسکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں