غلطیوں کا اعتراف کیجئے

غلطیوں کا اعتراف کیجئے

بجا فرماتے ہیں جناب نواز شریف کہ '' انہوں نے سابق صدر آصف علی زرداری سے کچھ مانگاہے نہ مانگیں گے''۔ سیاسی غیرت کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان توڑنے والی پیپلز پارٹی کے اس سربراہ سے تو بالکل کچھ نہ مانگا جائے جسے وہ خود کبھی مسٹر 10پرسنٹ اور پھر مسٹر 100 پرسنٹ کا خطاب دے چکے۔ اپنے پہلے دو ادوار میں انہوں نے زرداری کے خلاف 21 اور بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف 5مشترکہ مقدمات بنوائے تھے۔ ان کے برادر خورد نے جو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے (آج بھی ہیں) احتساب عدالت کے دو ججوں کو فون کرکے فرمائش کی تھی کہ '' دنیا کے اس کرپٹ ترین جوڑے کو بد ترین سزا سنائی جائے'' ٹیلیفونک گفتگو پکڑی گئی' راز فاش ہوا' دونوں جج صاحبان کو عہدے چھوڑنے پڑے۔ جناب نواز شریف کو یاد تو ہوگا کہ انہوں نے 1998ء میں زرداری کو منشیات کے ایک مقدمہ میں ملوث کروانے کے لئے عارف بلوچ نامی ایک سمگلر کو جیل سے نکلوا کر اس سے اپنی فرمائش بیان کی تھی۔ سندھ کے ایک جج کے قتل میں بھی زرداری کا نام کس نے ڈلوایا تھا۔ پھر یہ اعتراف کس نے کیا کہ ہمارے دونوں ادوار میں زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات ایک ریاستی ادارے کی فرمائش پر بنائے گئے۔ چلیں چھوڑیں یہ پرانی باتیں ہیں۔ کبھی میثاق جمہوریت ہوا تھا۔ اسی میثاق جمہوریت کی چھتری کے نیچے کھڑے ہو کر شہباز شریف زرداری کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے اعلانات کرتے تھے۔ سیاست بے رحم چیز ہے۔ سیاست میں ہی دوستی و دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ ویسے جناب نواز شریف نے زرداری سے کچھ مانگا نہ مانگنے کا ارادہ ہے تو ان کی صاحبزادی مریم صفدر نے اپنے سوشل میڈیا ملازمین کو زرداری اور بلاول کے خلاف جارحانہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کیوں کی؟ آگے بڑھنے سے قبل ایک سادہ سا سوال دریافت کرلوں۔ یہ جن ججز کو نواز شریف اور ان کے حامی پی سی او جج کہہ رہے ہیں یہ 2011ء اور 2012ء میں بھی پی سی او جج ہی تھے نا؟ ضمنی سوال یہ ہے کہ ان پی سی او ججوں کو بحال کروانے کی تحریک 2010ء میں کس نے کس کے کہنے پر شروع کی تھی؟۔ جناب نواز شریف ذہنی دبائو میں ہیں شدید ذہنی دبائو میں ان کے حامیوں میں کچھ سابق سوشلسٹ' حاضر سروس لبرلز اور کچھ قوم پرست بھی شامل ہیں۔ ان تینوں طبقات کاخیال ہے کہ نواز شریف جمہوریت اور انقلابی جدوجہد کی علامت ہیں۔ اللہ کرے ان خوش گمانوں کی خوش گمانی قائم رہے۔ ویسے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا کی پوری تاریخ میں سرمایہ دار سیاست کار کبھی مجاہدین جمہوریت و انقلاب نہیں بن پائے۔ اپنے طبقے اور خاندان کے مفادات کی سیاست کرتے ہیں وہ۔ آج ووٹ کے تقدس کی بات کرنے والوں نے 1988ء '1990ء اور 1996ء میں جعلی پولنگ اسٹیشنوں سے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی سازشوں میں شرکت کیوں کی؟ انقلاب کی حالت یہ ہے کہ پونے دو کروڑ کی آبادی والے شہر لاہور میں انہیں اپنی بیگم کے علاوہ حلقہ این اے 120 کے لئے امیدوار نہیں ملا۔ راولپنڈی سے لہور تک تو وہ یہ پوچھتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا اور ججوں بارے کہتے رہے وہ پی سی او جج ہیں۔ اب اپیل لے کر انہیں پی سی او ججز کے پاس کیوں گئے۔ ایک تحریک کیوں نہیں منظم کرتے آزاد عدلیہ اور ووٹ کے تقدس کے لئے۔ ہمارے سیاست کاروں کے حافظے بہت کمزور ہیں کل کی بات یاد نہیں رکھتے۔ جناب نواز شریف تو بہت بھولے ہیں اسی بھولپن میں کم بار کر کو کہہ بیٹھے۔ مجھ سے دوستی کروگی؟ کم بار کر کی کتاب میں کچھ مزید گفتگو بھی درج ہے۔ اسے یہاں لکھنے کافائدہ کوئی نہیں۔ جہاں زیب خان مسلم لیگ(ن) کے سرکردہ کارکنوں میں سے ہیں۔ ان کا شکوہ ہے کہ '' شاہ جی آپ صحافی کم اور جیالے زیادہ ہو''۔ شکر ہے جیالے پن کا شکار نہیں طالب علم کے طور پر معروضات عرض کرتا ہوں۔ ہمارے اس محبوب دوست کا قاسمی و شامی۔ صدیقی و بچہ جمہورا سمیت دو درجن ان قلم کاروں کے بارے کیا خیال ہے جو صبح شام نواز شریف کی قصیدہ خوانی فرماتے ہیں اور فیض بھی ان پر ٹوٹ کر برسا بلکہ برس رہا ہے؟ لاریب پیپلز پارٹی فرشتوں کی جماعت ہر گز نہیں۔ جیالے اور ان کے لیڈر گوشت پوست کے انسان ہی ہیں۔ اچھا برا سب دیکھ چکے وہ۔ میاں جی نے انہیں ملنے والے ووٹوں کے تقدس کا احترام کیوں نہ کیا' الزام نہیں لگا رہاسوال رکھ رہا ہوں۔ میاں صاحب جن دو جرنیلوں بارے آج کل نجی محفلوں میں نخوت کے ساتھ گفتگو فرماتے ہیں۔ وزیر اعظم کے طور پر انہیں گھر کیوں نہ بھیجا؟ فرشتے تو فقط شریف خاندان میں پیدا ہوتے ہیں باقی کے سارے سیاستدان ( ان میں اچکزئی ' بزنجو اور فضل الرحمن شامل نہیں) بد ترین کرپٹ ہیں۔ ارے خدا کے بندو چار سال سے اقتدار آپ کے پاس تھا قانون سازی کرتے پی سی او ججوں کو رخصت کرتے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جناب نواز شریف اب ملال کر رہے ہیں کہ انہوں نے دانیال عزیز چودھری کو چیف جسٹس آف پاکستان' طلال چودھری کو کمانڈر انچیف اور ماروی میمن کو آئی ایس آئی کا سربراہ اور امیر مقام کو نیب کا سربراہ کیوں نہ لگالیا۔ معاف کیجئے گا میاں صاحب اب رونے' سوال کرنے اور انقلاب کے بھاشن دینے کی ضرورت نہیں۔ چار سال آپ وزیر اعظم تھے بلا شرکت غیرے۔ اقدامات کرتے قانون بناتے عوام کو اپنے خاندان کے مساوی حقوق اور سہولتیں دیتے تو آج عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ سادہ پوش پریس والے نہیں۔

اداریہ