Daily Mashriq


وزیر اعظم عمران خان کی سادگی کی مثال اور چیلنجز

وزیر اعظم عمران خان کی سادگی کی مثال اور چیلنجز

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد 21رکنی کابینہ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ان سطور کے شائع ہونے تک وہ قوم سے بطور وزیر اعظم پہلا خطاب بھی کر چکے ہوں گے جس میں امید ہے کہ وہ حکومت کی پالیسی ‘ پروگرام اور ترجیحات کا اعلان کریں گے۔ ان کے وعدے بڑے بڑے ہیں ‘ ان سے عوام کی توقعات نہایت بلند ہیں۔ اس پہلی تقریر اور اس کے بعد جس طرح وہ کاروبارِ حکومت کی رہنمائی کرتے ہیں اس پر سب کی نظریں ہوں گی۔ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ایک میڈیا ہاؤس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر وہ بہت خوش ہیں لیکن اس سے زیادہ وہ فکر مند بھی ہیں کہ وہ قوم کی توقعات پر پورا اُترنے کی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ یہی ذہنی کیفیت ان کے مداحوں اور پاکستان کے عوام کی ہے اور ان کے ناقدین کی توجہ بھی ان کی کارکردگی پر خاص ہو گی۔ قو م سے خطاب میں وہ کیا اعلانات کرتے ہیں اس سے قطع نظر اپنے وعدے نبھانے کا ابتدائی عملی اظہار وہ پہلی ہی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کوئی نمایاں پروٹوکول نہیں لیا۔ انہوں نے رہائش کے لیے وزیر اعظم ہاؤس کی بجائے وزراء کی کالونی میں نسبتاً ایک چھوٹے گھر کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سادگی اپنائیں گے اور یہ انہوں نے کر دکھا یا ہے۔ تاہم اس سادگی کے باعث کارِسرکار میں اگر ضعف آیا تو اس سادگی اور کفایت شعاری پر اس کی روح کو مدِنظر رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کرنی پڑے تو کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مختصر پروٹوکول کو ترجیح دی ہے لیکن ان کی اس نیک دلانہ خواہش پر سیکورٹی کے تقاضوں کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ کہ وزیر اعظم کی سیکورٹی کا ملک کے موجودہ حالات میں کیا بندوبست کیا جانا چاہیے وزیر اعظم کی سیکورٹی پر مامور اہل کاروں کا ہونا چاہیے۔ عمران خان کی خواہش یہ صاف نظر آتی ہے کہ بطور وزیر اعظم ان کے ساتھ کوئی شان و شوکت ‘ کوئی کروفر ‘ کوئی رعب دبدبہ وابستہ نہ ہو۔ سیکورٹی کا بندوبست کرنے والوں کو ان کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے اپنے فرائض بجا لانے چاہئیں۔ تاہم عمران خان وزیر اعظم ہیں‘ ساری قوم کے وزیر اعظم ہیں‘ ان کے بھی جنہوں نے ان کی پارٹی کوووٹ نہیں دیا ‘ اس لیے وزیر اعظم عمران خان کی سیکورٹی کے تقاضوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم اگر چاہتے ہیں کہ ان کے آنے جانے کے دوران ٹریفک بند نہیں ہونی چاہیے تو متعلقہ اداروں کو ان کی خواہش کے مطابق بندوبست کرنا چاہیے اور ٹریفک کے لیے آدھی سڑک چھوڑتے وقت ایمبولینسز کے گزرنے کا خاص خیال رکھنا چاہیے جو عام حالات میں بھی نہیں رکھا جاتا۔ وزیر اعظم عمران خان کے سادگی اپنانے کے شعار کو محض اپنی ذات کو نمایاں کرنے پر محمول نہیں کیا جانا چاہیے ۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ ان کے سادگی اختیار کرنے سے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات میں زیادہ سے زیادہ ایک ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ہو جائے گی جو قومی بجٹ میں کچھ اتنی نمایاں نہیں ہوگی۔ تاہم ان کا یہ اقدام محض علامتی نہیں ہے بلکہ انہوں نے ایک مثال قائم کرنے اور سادگی کا رویہ عام کرنے کی شروعات کی ہے۔ اب ان کی مثال سامنے آنے کے بعد لامحالہ صوبائی وزرائے اعلیٰ اور وزراء کو بھی شان و شوکت کے اظہار پر خرچ ہونے والے وسائل کم کرنے ہوں گے اور جب وزراء شان و شوکت سے اجتناب کریں گے تو حکام کو بھی یہ چلن اختیار کرنا پڑے گا ۔ اس سے عام عوام پر افسرِ شاہی کا دبدبہ کم ہو گا ۔ افسروں کے لیے عوام اور عوام کے لیے افسروں کو اپنے ہی جیسا انسان سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ یہ رویہ اگر وزارت عظمیٰ سے نچلی سطحوں پر سرایت کرے گا تو ایک جمہوری سماجی رویہ کے رائج ہونے کی طرف پیش قدمی ہو گی۔ عمران خان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی 42رکنی کابینہ کے مقابلے میں 21رکنی کابینہ کا اعلان کیا ہے ۔ متعدد وزارتیں عمران خان نے اپنے پاس رکھی ہیں۔ یعنی خود وزیر اعظم اور ان کے وزراء کو معاملات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے زیادہ محنت کرنی ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ خود اسمبلی میں موجود ہوا کریں گے ۔ اس مثال کے بعد وزراء کی اسمبلی میں سوالوں کے جواب دینے کے لیے موجودگی ضروری ہو جائے گی ‘ ارکان اسمبلی بھی پہلے کی نسبت فعال تر ہو جائیں گے اور عوام کو ان کے مسائل اسمبلی میں زیرِ بحث آتے ہوئے نظر آئیں گے۔ وزارتوں کے کم ہو جانے کے باعث بہت سے ڈویژنوں کو مختلف وزارتوں میں شامل کیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بیورو کریسی میں بھی اکھاڑ پچھاڑ ہونے والی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزراء بیوروکریسی پر انحصار کرنے کی بجائے افسروں کو رہنمائی فراہم کریں۔ یہ رویہ اب ختم ہو جانا چاہیے کہ ایک حکومت آتی ہے تو بیوروکریٹس کی ایک ٹیم پس منظر میں چلی جاتی ہے یا انہیں افسران بکار خاص لگا دیا جاتا ہے اور دوسری پسندیدہ ٹیم زمام اختیار سنبھال لیتی ہے۔ بیوروکریسی کو غیر سیاسی ہی رہنا چاہیے۔ بیوروکریٹس کی پہچان ان کے ناموں کی بجائے ان کے عہدے ہونے چاہئیں ۔ امید ہے نئی حکومت بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے تاثر کو ختم کرے گی اور بیورو کریٹس سے ان کے مناصب کی مناسبت سے کام لے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کے سامنے بڑے چیلنج ہیں ۔ معیشت کی زبوں حالی کا چیلنج جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا ذکر میڈیا میں ہو رہا ہے جب کہ سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف قرضہ لینے والی حکومتوں کے سامنے اپنی پالیسی ترجیحات رکھتا ہے۔ کرپشن کا پیسہ واپس وطن میں لانے کا چیلنج۔ سابق حکمران جب یہ شکایت کرتے تھے کہ پاناما پیپرز کے حوالے سے منی لانڈرنگ کے مقدمات کے لیے صرف انہیں منفرد کیا جا رہا ہے تو انہیں کہا جاتا تھا کہ حکومت ان کی اپنی تھی ، انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں آف شور کمپنیوں کے مالکوں کے خلاف کیوں کارروائی نہ کی۔ اب حکومت بدل چکی ہے اور ایسی حکومت آئی ہے جس نے اپنی سیاسی جدوجہد کا محور کرپشن کے خاتمہ کو بنایا ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ پاناما پیپرز میں جن لوگوں کا ذکر ہے اور جن چار سو سے زیادہ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے انہوں نے دوبئی میں جائیدادیں خریدی ہیں ان کے بارے میں بھی کارروائی کی جائے گی۔ جن لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور اثاثے ظاہر نہیں کیے ان کے بارے میں بھی کارروائی کی ابتداء کی جانی چاہیے۔ میرٹ پر مبنی نظام قائم کرنے کا چیلنج ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع پیمانے کی خرابیوں کو دور کرنے کا چیلنج ہے۔ صاف پانی مہیا کرنے کا چیلنج اور دیگر اہم چیلنجز ہیں ۔ عمران خان کے پیش نظر یقینا یہ چیلنجزہوں گے۔ اور یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بھی سامنے آئے گی۔ عمران خان کے سامنے ایک مضبوط اپوزیشن ہے۔ ان کی قومی اسمبلی تقریر کے دوران اس اپوزیشن نے جو رویہ اختیار کیا اس سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں کیسی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ لیکن انہیں اپوزیشن کے چیلنجز کی بجائے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔عوام نے ان پر اعتماد کیا ہے اور وزیراعظم منتخب کیا ہے عوام سے مسلسل رابطہ کے لیے ان کی حکومت کو ہوشمند کارکنوں کی منظم پارٹی کی ضرورت ہو گی۔ ایسی پارٹی جو حکومت کی حکمت عملی اور کارکردگی کو عوام تک پہنچا سکے اور عوام کے مسائل ان کی توقعات اور ترجیحات کو حکومت تک پہنچا سکے۔ نچلی سطح سے وفاقی سطح پر یہ تعامل ہی حکومت کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کر سکے گا۔

متعلقہ خبریں