Daily Mashriq


ڈینگی کے حملہ آور ہونے کا خدشہ

ڈینگی کے حملہ آور ہونے کا خدشہ

مون سون کا موسم خدا کا شکر ہے کہ کسی بڑے نقصان کے بغیر اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس سے متعلق ایک خطرہ سروں پر منڈلانے لگا ہے۔ شدید بارشوں اور شدید گرمی کے باعث بہت سا مچھر تلف ہو گیا۔ لیکن سبزہ ‘ نمی اور جگہ جگہ بارشوں کے پانی کی موجودگی کے باعث ڈینگی کے ایک بار پھر سر اٹھانے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق راولپنڈی میں بیس کے قریب ڈینگی کے کیسز سامنے آ چکے ہیں لیکن یہ موسمی اثرات راولپنڈی تک محدود نہیں ہیں اور نہ مچھر کسی ایک علاقے تک محدود رہیں گے۔ ڈینگی نے گزشتہ سال خیبر پختونخوا میں جو تہلکہ مچایا تھا وہ ابھی یاداشتوںمیں محفوظ ہے ۔ اس کے خلاف مہم نے جس قدر کامیابیاں حاصل کیں اور اس میں جو خامیاں اُبھر کر سامنے آئیں وہ بھی یادداشت کا حصہ ہیں۔ اس تجربے سے فائدہ اٹھا کر ابھی سے اس موذی مچھر سے نجات حاصل کرنے کی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔اس خطرے سے ابتداء ہی میں نمٹ لینا چاہیئے ایک بین الاقوامی مطالعہ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ ڈینگی جہاں ایک بار حملہ آور ہوتا ہے وہاں کئی سال تک حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے ڈینگی سے بچاؤ کے لیے وہ تمام اقدامات پیش بندی کے طور پر ہی اختیار کر لیے جانے چاہئیں جو گزشتہ سال رفتہ رفتہ صوبے کے مختلف حصوں میں اختیار کیے گئے۔ عوام کو ڈینگی سے بچاؤ کی آگہی فراہم کرنے کی ضرورت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی گزشتہ سال تھی۔ لہٰذا یہ ضروری ہونا چاہیے کہ میڈیا میں ڈینگی سے بچاؤ کی تدابیر تشہیر کی جائے۔ ڈینگی کے علاج کے لیے ادویات کا بندوبست کیا جائے اور ہسپتالوں میں اس مرض کے علاج کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیے جانے چاہیں۔ جن علاقوں میں بڑے ہسپتال نہیں وہاں ہنگامی خصوصی بندوبست کیے جانے چاہئیں۔ اس کی علامات کے بارے میں عوام کو معلومات فراہم کرنے کا خصوصی انتظام کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے اساتذہ‘ طلبہ‘ آئمہ مساجد اور سرکاری اہل کاروں کو رضاکاروں کی مدد لینے کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں