Daily Mashriq


مانونہ مانوجان جہاں اختیارہے

مانونہ مانوجان جہاں اختیارہے

بہادرشاہ ظفر نے کہا تھا

ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا

ہو وہ کیسا ہی صاحب فہم وذکا

جسے عیش میں یاد خدانہ رہی

جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

گھاگ اور گرگ باراں دیدہ سیاسی رہنمائوں نے جس طرح قومی اسمبلی میںوزارت عظمیٰ کے انتخابات کے ہنگام نومنتخب وزیراعظم کو طیش دلا کر آپے سے باہر آنے پر مجبور کیا اور انہوں نے غصے سے مغلوب ہو کر جو منہ میں آیا ’’کہہ‘‘دیا ، اس سے عالمی سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں گیا ، جبکہ انتخابات میں ’’کامیابی ‘‘کے بعد جس نرم لہجے میں عمران خان نے صلح جوئی کی نوید دی تھی اور کسی سے انتقام نہ لینے ، ماضی کو درگزر کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کا پیغام دیاتھااس کا ساراتاثر زائل کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی ۔ قومی اسمبلی میں ان کے طیش کے عالم میں کئے جانے والے خطاب کے بعد اب حکومت کرتے ہوئے تحریک انصاف کا رویہ کیسا ہوگا اس حوالے سے کسی وضاحت کی ضرورت اب باقی نہیں رہی ۔ اس ضمن میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو تبصرے سامنے آرہے ہیں ان پر ایک نظر ڈالیں تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے ۔ ایک ممتاز اینکر کامران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے ، ’’عمران خان کی تقریر ختم ہونے کے بعد سے اب تک جس شخص سے بات ہوئی سب کی متفقہ رائے تھی کہ عمران خان نے آج صبر کا دامن چھوڑا، وہ Provokeہوگئے ، ان کی شخصیت کا غصہ غالب آگیا ، وہ پی ایم ایل کے گھاگ سیاستدانوںکے جال میں پھنس گئے اور تاریخ ساز لمحات میں اپنی بے مثال ساکھ بنانے کا موقع ضائع کردیا ۔ لیگ (ن) کے ایک اہم رہنماخواجہ آصف نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ’’ہمیں پتہ تھا کہ وہ Provokeہوں گے اور ہم نے اسی حکمت عملی سے کام لیکر عمران خان کو غصہ دلایا اور مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے ۔ عابد ملک نے کہا تھا

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا

لیگ (ن) کے رہنمائوں نے بقول خواجہ آصف جس طرح خاص حکمت عملی سے قومی اسمبلی میں پوری تحریک کو اشتعال دلا کر ہوش کا دامن چھوڑنے پر مجبور کیا اور اپنے مقاصد حاصل کئے اس بارے میں خود تحریک انصاف کے اپنے ہی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اگر غصہ نہ دلایا جاتا تو وہ بہت اچھی تقریر کرتے اور افہام وتفہیم کا پیغام دیتے ۔اس اعتراف کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ کیا اگلے پانچ سال وزیراعظم عمران خان اسی قسم کی سیاست کریں گے ؟ حالانکہ انہیں خشت اول رکھتے ہوئے اس کجی کا احساس ہونا چاہیئے تھا ، جب وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن پر گرج برس رہے تھے تو انہیں ہوش کا دامن تھامے رکھنا چاہیئے تھا کیونکہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر عوام کے جذبات بھڑکانے اور حکومت میں آنے کے بعد ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے قومی اسمبلی کے فلور پر تقریر کرنے والے لہجے میں بڑا فرق ہے ، اب وہ صرف تحریک انصاف کے لیڈر نہیں ہیں بلکہ انہیں احساس ہونا چاہیئے کہ وہ پورے ملک کے رہنما ہیں ، ان کے مخالفین کا تو کام ہی یہ ہوگا کہ وہ انہیںانگیخت کر کے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کریں ، لیکن بطور وزیراعظم ان کے پیش نظر اپنے ان وعدوں کی تکمیل ہے جوو ہ اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے کرچکے ہیں۔ انہیں اپنے مخالفین کے ’’انجام‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت صبرو تحمل اوربردباری سے آگے بڑھنا ہوگا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنی حکومت اور خصوصاً پنجاب میں بعض تقرریوں کے حوالے سے جو تنقید ان پر ہورہی ہے اس پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنے کے بجائے ایک بار پھر انہوں نے ان آراء کو رد کرتے ہوئے جو رویہ اختیار کیا ہے ، اس پر بھی سنجیدہ نظر ثانی کی ضرورت ہے ، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی صفوں میں جو دراڑیں دکھائی دے رہی ہیں یعنی گروپ بندی کی نشاندہی کی جارہی ہے اگر اس خلیج کو ابھی سے پاٹنے کی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی تو اس کے نتائج خود تحریک انصاف کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے ۔ جس شخص کو انتہائی غریب قرار دیتے ہوئے اس کے گھر میں بجلی نہ ہونے کی گواہی خود وزیراعظم عمران خان نے دی اس کی دولت اور زمینوں ، بنگلوں کی تفصیل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ شاید انہیں دی جانے والی معلومات درست نہیں ہیں ، اسی طرح چند روز پہلے ایک چائے والے کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے پارٹی کے ورکروں کی جانب سے جس طرح فخریہ پوسٹیں سوشل میڈیاپر لگائی اور اخبارات میں بیانات کی شکل میں سامنے لائی جارہی تھیں ، اس کے بارے میں بھی حقائق سامنے آنے کے بعد خاموشی چھا گئی ہے ، خیر یہ تو پروپیگنڈے کا دور ہے اور جدید پروپیگنڈے کے بانی گوئبلز نے جو رہنما اصول اس حوالے سے وضع کئے ہیں ان سے بلا کم و کاست ہر جماعت بھرپور استفادہ کرتی ہے اس لئے صورتحال کو قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے مگر وہ جوکسی سیانے نے کہا ہے کہ جھوٹ بولو مگر قرینے سے اگر سیاسی جماعتیں گوئبلز کے نظریئے پر عمل کے دوران جھوٹ بولتے ہوئے کسی قاعدے ، قرینے کا اظہار کریں تو یہ خود ان کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اب یہ دور دوسری جنگ عظیم کے گوئبلز والا بھی نہیں ہے جب سچ پہنچتے پہنچتے گائوں کے گائوں ویران ہوچکے ہوتے ، اب تو سیٹلائیٹ کا دور ہے جب کسی کے بارے میں بھی تلخ سچائی آناً فاناً وائرل ہو کر دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاتی ہے بہر حال وزیراعظم عمران خان کو اگرسکون سے اگلے پانچ سال گزارنے ہیں تو اپنے اندر کے غصے پر قابوپانے میں انہیں جتنی بھی ریاضت کرنی پڑے ، کرنی چاہیئے ، بصورت دیگر گرگ باراں دیدہ اور سردوگرم چشیدہ سیاسی مخالفین انہیں چین لینے نہیں دیں گے ۔

ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

متعلقہ خبریں