Daily Mashriq


امید کے دن

امید کے دن

بہت دن منظر کی دھول چھٹ جانے کا انتظار کیا ہے ۔ بہت دن سوچا کہ آہستہ آہستہ کوئی ایک آواز سُنائی دینے لگے لگی ۔ لیکن نقار خانے میں تو آوازوں کے شادیانے اور بین اکٹھے ہی سنائی دیتے ہیں ۔ وہ جو ہار گئے ہیں انہیں لگتا ہے کہ شاید کوئی سحر پھونکا گیا ہے جس سے لوگوں کو اپنے آپ پر قابو نہیں رہا وگرنہ لوگ تو ان سے بہت محبت کرتے تھے ۔ اور جو جیت گئے ہیں ، وہ بھی خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔ ان میں اکثریت نو آموزوں کی ہے جن کے لہجے بدعنوانی کی نفرت اور وطن کی محبت سے بھر پور سنائی دیتے ہیں ۔ وہ ابھی نہیں جانتے کہ وہ کسی منجد ہار میں پائوں رکھنے والے ہیں ۔ وہ کہتے ضرور ہیں کہ انہیں احساس ہے یہ دور حکومت آسان نہ ہوگا لیکن یہ بات بس اسی حد تک ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اصلیت ان پر تب آشکار ہوگی جب وہ واقعتاً اس بحر ظلمات میں قدم رکھیں گے ۔ الیکشن کمیشن کے حیران کن رویے نے ایک نئی ذہنی کشمکش کو جنم دے رکھا ہے ۔ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اس نئے جنم پر پھولے نہیں سمارہے۔ انتخابات میں جو سائے اپوزیشن کی جماعتوں کو دکھائی دیئے ان میں سے کئی الیکشن کمیشن کے ہی رویئے کے تخلیق کردہ تھے ۔ اپنے ہونے کا یقین کرنے میں الیکشن کمیشن نے جو معاملات بگاڑے اس کا خمیازہ بھی نئی حکومت کو بھگتنا پڑے گا ۔

اب جبکہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ پر انتخابت کی مہر ثبت ہو چکی ہے ۔ ان کی کابینہ کے اراکین کا اعلان ہوچکا ، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب بھی طے پا چکا حکومت کا چہرہ اپنے پورے خدوخال کے ساتھ دکھائی دینے لگا ہے ۔ جس امید کو تحریک انصاف نے جنم دیا ہے ، اب اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کو مجسم صورت دینے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ کئی باتیں ایسی ہیں جن کی کوئی معیشتی یا معاشی صورت نہیں ہے لیکن ہم لوگ ان کے اثرات اپنی زندگیوں پر محسوس کرینگے ۔ اوریہ اثرات سب مثبت ہیں ۔ میں بنیادی طور پر کسی ایک جماعت سے وابستگی نہیں رکھتی ۔ میں سمجھتی ہوں کسی تجزیہ نگار کو بھی اپنی ذاتی پسند نا پسند بالائے طاق رکھ کر محض حقائق اور واقعات کی بنیاد پر معاملات کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے ۔ اگرچہ ہمارے ہاں میڈیا کی ترقی میں کئی اصول و ضوابط اس بڑھوتری کی رفتار کی نذر ہوگئے ہیں لیکن اس وقت یہ بات زیر بحث نہیں ۔

تحریک انصاف کے حکومت بنانے سے لوگوں میں بہتری کی ایک امید پیدا ہوئی ہے ۔ یہ امید ایک طویل عرصے سے پاکستان میں ناپید ہو چکی تھی ۔لوگ ہر طرف سے مایوس ہو چکے تھے اس امید کے نہ ہونے سے بھی معاشرے میں مختلف مسائل جنم لینے لگے تھے۔ یہ معاشرہ ایک بیمار معاشرہ بن چکا ہے۔ تبھی تو جرائم میں مسلسل بڑھوتری دکھائی دیتی تھی لاقانونیت بڑھ گئی تھی ۔ بچوں کے خلاف جرائم میں بھی ایسا اضافہ تھا جو سوچ کی گرفت سے باہر دکھائی دیتا تھا ۔ عین ممکن ہے کہ ملک میں انصاف کی امید دکھائی دینے لگے تو لوگوں کے رویوں میں بہتری دکھائی دینے لگے ۔ شاید جرائم کی تعداد میں کچھ کمی ہو جائے یا پھر لوگوں کو قرار واقعی سزائیں ملیں تو خوف پیدا ہو ۔

میں لوگوں کے رویئے میں تبدیلی دیکھ رہی ہوں ۔ اگر تبدیلی مستقل ہو تو یقین مانیئے یہ انمول ہے ۔ میں نے اپنے مشاہدے کی عمر میں کئی بار اس ملک کے لوگوں کو اس ملک کی محبت میں سرشار دیکھا ہے ۔ کئی بار اس ملک کے عام آدمی نے اس ملک کی بہتری کے لیے ذاتی مفاد کی ، اپنے ذرائع کی قربانی دی ہے لیکن ہر بار انہیں دھوکہ ہوا ہے ۔ اس ملک کے لوگوں نے قرض اتارو ملک سنواروں کے نام پر کئی ارب روپے حکومت کو دان دیئے لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ان روپو ں کے ساتھ کیا ہوا ۔ اس ملک کے لوگوں نے اس ملک کے لیے ہر بار صدق دل سے قربانی دینے کی کوشش کی اور اسے خاک میں ملتے دیکھا ، تبھی تو اب وہ انہی لوگوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہتے۔ اور اب اس ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت نے جنم لیا ہے ۔ یہ تیسری قوت تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔ اور لوگ اس پر یقین کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ واقعی تبدیلی آجائے ۔ اس معاشرے میں جہاں انصاف ناپید ہے لوگوں کو قرار واقعی انصاف ملے اور جلد ملے۔ یہ ملک جہاں نظام کے بگاڑنے لوگوں میںیہ خیال پیدا کردیا تھا کہ اب غریب کی کوئی شنوائی کہیں ممکن ہی نہیں ، بد عنوانی سے نجات کا کوئی راستہ نہی نہیںاور کسی دُکھ کا کوئی مداوا ہی نہیں ، ان لوگوں میں ایک امید نے جنم لیا ہے ۔ کیونکہ کئی ایسے لوگ اسمبلی میں دکھائی دیتے ہیں جو انہی جیسے ہیں ۔ کل تک انہی کے ساتھ بیٹھتے تھے اور نظام کو بدلنے کی باتیں کیا کرتے تھے ۔آج ان کے قدم اقتدار کے ایوان میں پہنچ گئے ہیں اور ان کی بہتری کے فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ کئی ایسے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو یقین ہے کہ ابھی انہیں بد عنوان ہونے میں وقت لگے گا ۔ عمران خان کے ساتھ ایسے لوگ ہیں جن کے جذباتی لہجوں میں میرے جیسے لوگوں کو امید کی جھلک دکھائی دیتی ہے ۔ نوجوان لڑکے جو اس ملک کے لیے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ، جو بدعنوانی کے خلاف جنگ کرنا چاہتے ہیں ،جب ایوانوں میں ہونگے تو یقیناً بہتری آئے گی ۔

اس حکومت سے لوگوں کو بہت امید یں ہیں ،تبھی تو اپوزیشن کے پرانے نام صرف ایوانوں میں احتجاج تک محدود ہیں اور کوئی دھرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ لیکن لوگوں کی نظریں اس حکومت پر لگی ہیں ۔ اگریہ امید ٹوٹی تو پھر بہت بڑی تباہی آئے گی ۔

متعلقہ خبریں