Daily Mashriq


امیدیں ٹوٹنے نہ دیجئے

امیدیں ٹوٹنے نہ دیجئے

دو باتیں قند مکرر کے طورپر عرض کئے دیتا ہوں۔ اولاً یہ کہ 22سال پر پھیلی جدوجہد کے بعد بالآخر عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ ہم یہ سوال کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں کہ انتخاب عوام کا ہے یا مالکوں کا؟ فی الوقت یہ ہے کہ ووٹ عوام کے بھی ہیں اور کوشش مالکان کی بھی۔ مراد بر آئی ہے۔ ثانیاً یہ کہ سیاست عمرانیہ کی نشاط ثانیہ کا آغاز اکتوبر 2011ء میں ہوا۔ پچھلے سات سال اور 4 ماہ کے دوران ان کے انداز سیاست اور چند دیگر معاملات کا ناقد رہا ہوں۔ اس پر کوئی ملال ہے نہ معذرت و دلجوئی کی ضرورت۔ فرد‘ گروہ اور کوئی ادارہ جب سیاست کے میدان میں اترے گا تو تنقید ہوگی‘ ادب آداب اور اخلاقیات کے تقاضے ہوتے ہیں البتہ سیاست میں مقدسات و تقدسات نہیں ہوتے۔ پسند و نا پسند ہوتی ہے۔ انسان اس سے محفوظ رہ کر جی نہیں سکتا۔ غیر جانبداری سے بڑا سفید جھوٹ اور کوئی نہیں۔ اس لئے فقیر نے کبھی غیر جانبداری کا دعویٰ نہیں کیا۔ لاریب پسند و نا پسند سے گندھا شخص ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ توازن نہ ٹوٹنے پائے۔ قلم مزدوری وسیلہ رزق ہے۔ ولایت کے درجہ پر فائز ہوں نہ دعویٰ۔ہم آگے بڑھتے ہیں۔ 176ووٹ لے کر عمران خان ملک کے بائیسویں وزیر اعظم بن گئے۔ ذمہ داریوں اور وعدوں کے ایفا کا بوجھ ان کے کاندھوں پر ہے۔ یہاں کوئی کسی کی صلیب اپنے کاندھوں پر اٹھا کر سفر حیات طے نہیں کرتا۔ صلیب اپنی اپنی اور کاندھے بھی۔ جدوجہد کا ایک میدان وہ طے کر آئے ہیں دوسرا ان کا منتظر ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد اپنی تقریر میں بلاول بھٹو نے درست کہا ’’ خان صاحب آپ ایک جماعت کے نہیں پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں ان کے بھی وزیر اعظم ہیں جنہیں زندہ لاشیں ‘ کھوتے یا جانور قرار دیتے رہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اب ماضی کی سی محاذ آرائی اور تیز زبانی سے اجتناب کرتے ہوئے آپ اپنے وعدے پورے کریں گے۔ عوام‘ پارلیمان اور جمہوریت کے لئے ہم ہر قدم پر تعاون کریں گے‘‘۔ اپنی پہلی پارلیمانی تقریر میں بلاول نے الفاظ کے چنائو سے یہ ثابت کیا کہ سیاست حادثاتی چیز ہے نا اخلاقیات جنس بازار۔ آپ بلاول اور اس کی جماعت سے اختلاف رکھ سکتے ہیں مگر انسداد دہشت گردی اور دوسرے امور پر اس نے جو باتیں کیں وہ بجا طور پر درست ہیں۔حکمران اتحاد کے رکن جناب اختر مینگل جب خطاب کے لئے اٹھے تو منتخب وزیر اعظم ایوان سے رخصت ہوچکے تھے ایک چوتھائی ارکان اور سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے انہوں نے اپنے دکھ رکھے۔ بلوچستان کے مسائل اور بلوچوں کا نوحہ بھی اختر مینگل کے شکوے بجا ہیں۔ مسائل سے انکار ممکن نہیں نوحہ خواں ہم سب بھی ہیں ۔سوال فقط یہ ہے کہ کیا وہ تحریک انصاف سے اپنی جماعت کے اصولی اتحاد پر مطمئن ہیں؟ ایسا ہے تو پھر یہ تقریر غیر ضروری تھی۔ مطمئن نہیں تو اتحادی دستاویزات پر دستخط کیوں کئے۔ بہر طور کڑا سچ یہ ہے کہ بلوچستان ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر پار اترنے والا معاملہ ہے۔ کم از کم میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے بلوچ ایشو پر راولپنڈی اور پنجابی میڈیا کے موقف پر کبھی اعتماد نہیں کیا۔ دستیاب معلومات کے حوالے سے جو بن پڑا ان سطور میں ڈیڑھ عشرے سے کہہ لکھ رہا ہوں۔ چند دن قبل بھی ان سطور میں بلوچ ایشو پر چند نکات کی طرف متوجہ کیا تھا۔ عمران خان اور ان کی حکومت کو ٹھنڈے دل سے نہ صرف ان پر غور کرنا ہوگا بلکہ ایسی حکمت عملی بھی وضع کرنا ہوگی کہ دوریاں ختم ہوں۔دوریاں اور مسائل دوسرے علاقوں میں بھی ہیں۔ ہم تلوار بدست ہیں نہ کلہاڑا لے کر کھڑے ہیں۔ نظام کو چلتے رہنا چاہئے خامیاں خوبیاں نظام کاحصہ ہوتی ہیں‘ چلتا رہے تو بہتری کی امید زندہ رہتی ہے۔ بند گلی میں فرد‘ گروہ یا ریاست سب کا سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے۔ انتخابی نظام اور عمل ہر دو پر موجود تحفظات اور شکایات کے لئے پارلیمانی کمیشن کا اعلان اگر وہ اولین تقریر میں کردیتے تو مناسب تھا۔ کڑا احتساب لاریب بہت ضروری ہے۔ بہت ادب کے ساتھ مکرر عرض کرتا ہوں احتساب سب کا ہونا چاہئے۔ تقدس اور طاقت کے پیچھے کسی کو نہ چھپنے دیا جائے۔بار دیگر اس امر کی جانب توجہ دلانا از بس ضروری ہے۔ کیا تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں کی فکری تربیت اور سوشل میڈیا مجاہدین کی تدریس کاسامان کریں گی؟ میری دانست میں ایسا کیا جانا بہت ضروری ہے لیکن اس سے قبل لیڈران کرام کو بھی زبان و بیان میں تلخی و نفرت کی بجائے حلاوت و نرمی پیدا کرنا ہوگی۔ اوئے توئے کا سلسلہ اب ختم ہو جانا چاہئے۔ اس ملک کے بے نوا عوام ایک سوشل ڈیمو کریٹک ریاست کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ بجا کہ راتوں رات سو فیصد تبدیلی یا انقلاب ممکن نہیں البتہ شروعات کی جاسکتی ہیں۔ شروعات کے لئے پہل عمران خان کو کرنا ہوگی۔ ہم سمیت دوسرے لوگ امید کرتے ہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں ڈی چوک کے رہنما کی طرح نہیں ایک سنجیدہ قومی رہنما کی طرح امور سیاست و مملکت اور نظام کو دیکھیں گے۔

متعلقہ خبریں