Daily Mashriq


مغرب اور اسلام کے نظامِ حکمرانی کا تقابلی جائزہ

مغرب اور اسلام کے نظامِ حکمرانی کا تقابلی جائزہ

جس زمانے میں مسلمانوں کے ہاں خلفائے راشدین کا بہترین نظام حکومت خلافت جاری تھا اور اس کے طفیل خلق خدا کو صحیح معنوں میں شرف انسانیت حاصل ہو رہا تھا، ٹھیک اسی زمانے میں دنیا کے مغرب ومشرق میں قیصر وکسریٰ کی جابرانہ اور بہت دھوم دھام والی بادشاہتوں نے اپنی تمام قباحتوں اور برائیوں سے خلق خدا کی زندگیاں اجیرن بنائی ہوئی تھیں۔ اگرچہ تیس پینتیس سال بعد خلافت علی منہاج النبوۃ نہیں رہی لیکن اس نظام کے تربیت یافتہ علماء زعما اور بالخصوص سیاسی قائدین کے ہاتھوں بادشاہتوں کے اندر بھی خلافت کے اثرات جاری وساری رہے، سپین اور شام میں ملوکیت میں بھی بحیثیت مجموعی مغرب کی مطلق العنان بادشاہتوں کے مقابلے میں خیر غالب رہا۔ یہی وجہ تھی کہ سپین میں یہ نظام سات سو برس اور شام وبغداد میں کم وبیش اتنا ہی رہا۔ خلافت کے عالم اسلام پر گہرے اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ تاج وتخت کے مالک بادشاہ بھی اپنے آپ کو خلیفہ ہی گردانتے تھے، یہاں تک کہ خلافت (ملوکیت) عربوں (اموی اور عباسیوں) سے سلجوقوں اور ترکوں کو منتقل ہوئی تو خالص عجمی ترک حکمران بھی اپنے آپ کو خلیفہ ہی کہلواتے تھے اور اس کا سلسلہ تبرک کے طور پر عثمانی خلافت کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی تک جاری رہا۔ اس نظام کی برکت اور دبدبے کا اندازہ لگایئے کہ خلیفہ عبدالحمید نے یورپ کی طاقت اور پشت پناہی کے باوجود امیر یہودیوں کی اس درخواست کو کہ فلسطین میں ان کو کچھ زمین رہائش کیلئے دی جائے سختی کیساتھ ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ’’ارض فلسطین امت مسلمہ کی امانت ہے‘‘ میری زندگی میں اس کا ایک انچ ٹکڑا بھی تمہیں نہیں مل سکتا۔ خلیفہ عبدالحمید کو یہودیوں نے مصطفیٰ کمال اتاترک اور بعض دیگر غداران امت کیساتھ ملکر جس عبرتناک انجام سے دوچار کیا وہ ایک الگ مگر طویل کہانی ہے۔

سپین میں مسلمانوں کی طویل حکمرانی نے مغرب پر علوم وفنون اور تہذیب وثقافت کے لحاظ سے گہرے اثرات مرتب کئے۔ پھر جب وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے تو اپنی نئی نسلوں کو اس کی ہوا نہیں لگنے دی کہ مغرب کی سائنسی فنون اور تہذیبی بیداری، اسلامی علوم کے طفیل ہے۔ ترکی کے بہت بڑے محقق فواد سیزگین (جو ابھی چند دن پہلے وفات پاگئے) نے جرمنی زبان میں ٹھوس دلائل وشواہد کیساتھ اس کی تاریخ لکھ کر اہل مغرب کو پیش کردی، تب جاکر کچھ کچھ لوگ ماننے لگے اور جب یورپ بیدار ہوا تو وہاں جمہوریت کو بتدریج نظام حکومت کے طور پر اختیار کیا گیا ۔ مغرب میں بادشاہتوں کے خاتمے کے بعد نیشن سٹیٹس (قومی ریاستیں) وجود میں آئیں جبکہ اسی زمانے میں مسلمانوں کے ہاں عثمانی خلافت کے تحت عالم اسلام کا بیشتر حصہ متحد تھا۔ مغرب میں قومی ریاستوں نے وہاں کی قومیتوں کو ذاتی انا اور تکبر کے خول میں بند کرنا شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں پہلی جنگ عظیم برپا ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے لاینحل مسائل سے نمٹنے کیلئے قومی ریاستیں اور بھی مضبوط ہوئیں۔ اسی زمانے میں ترکی نے بوجوہ جرمنی کا ساتھ دیا تھا۔ جس کے ردعمل میں مغرب کی اتحادی ریاستیں خلافت عثمانیہ کیخلاف ہوگئیں اور یوں 1923-24ء میں عثمانی خلافت اختتام کو پہنچی اور اس کے نتیجے میں عالم اسلام کو بہت گہری منصوبہ بندی کیساتھ چھوٹی بڑی قومی ریاستوں میں تبدیل کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں مسلمانوں کی ان قومی ریاستوں کے جن ’’رہنماؤں‘‘ نے انگریزوں (اتحادیوں) کا ساتھ دیا، ان کو جنگ کے بعد جب عالم اسلام کی یہ قومی ریاستیں بتدریج آزاد ہوتی گئیں ان ریاستوں کی حکمرانی سونپی گئی۔ یہ سلسلہ آج تک اس طرح جاری ہے کہ عالم اسلام کے کم وبیش سارے حکمران اپنی سند حکمرانی کے حصول اور تسلسل کیلئے سپرطاقتوں کی مرہون منت ہوتی ہے اور جو حکمران شاذ ونادر سپرطاقت کے ایجنڈے اور مفادات سے سرتابی کی کوشش کرتے ہیں ان کو مختلف حیلوں بالخصوص معاشی ضرب لگوا کر کمزور کر دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ خود مغرب دو جنگوں کے بعد قومی ریاستوں کے فلسفے کو پس پشت ڈالتے ہوئے یورپی یونین کی صورت میں یکجا ہوگیا ہے جبکہ مسلمان کچھ اپنے کرتوتوں کے طفیل آپس میں دست بہ گریباں ہیں، ترکی اس وقت عالم اسلام میں معاشی لحاظ سے بہت ترقی کر رہا تھا لیکن ایک پادری کی قید نے اسے امریکہ کا معتوب بنا کر اسے معاشی مشکلات میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب یمن اور شام کی خانہ جنگیوں کا حصہ بن کر معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ قطر جو ایک امیر ریاست تھا خود اپنے بھائی بندوں کے ہاتھوں تجارتی مصائب میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ ترکی کی کرنسی کو ترکی برآمدات پر بے جا ٹیکسز لگوا کر مصنوعی طور پر گرایا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں مہنگائی بڑھ گئی ہے لیکن اب شاید وقت آیا ہے کہ خلافت نہ سہی، عالم اسلام کے سارے حکمران کم ازکم اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تو ایک ہو جائیں۔ انڈونیشیا کی طرح، پاکستان، ایران اور دیگر اہم اسلامی ملکوں کو آپس میں اپنی کرنسیوں میں تجارت شروع کرنی چاہئے۔ اس کے بڑے معجزنما اثرات دنیا دیکھے گی۔ او آئی سی کو اب فعال ہونا چاہئے۔ اسلامی دنیا اگر آپس میں اپنی کرنسیوں میں یا یورپی یونین کی طرز پر کوئی مشترکہ کرنسی متعارف کرائے تو استعماری قوتوں کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے علاوہ بتدریج سودی نظام سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔ اللہ کی رحمتیں نازل ہوںگی اور عالم اسلام پھر ایک توانا قوت کے طور پر دنیا میں شناخت کرانے کے قابل ہوگا۔

متعلقہ خبریں