Daily Mashriq


ہے جستجو کہ خوب سے خوب تر کہاں۔۔۔

ہے جستجو کہ خوب سے خوب تر کہاں۔۔۔

جب صاحب خانہ قربانی کا بکرا بننے کے لیے ’’اخلاقی ‘‘طور پر خودکو تیارکرلیتا ہے ،بکرے کی جستجواسی وقت شروع ہوجاتی ۔قربانی بکرے کی ہوتی ہے اور ساتھ صاحب خانہ بھی کچھ کچھ قربان ہوتاجاتا ہے۔ یہ قربان ’’یاقربان‘‘والا قربان نہیںہوتا بلکہ سچ مچ کا قربان ہوتاہے۔قارئین کی سہولت کے لیے گزارش ہے کہ اگلی سطور میںجہاں جہاں بکرے کا لفظ آئے وہاں وہاں ’’سہولتاً‘‘ گائے ،بھینس ،بیل ،سانڈ ،اونٹ ، بھیڑ ،دنبے،وغیرہ وغیر ہ مراد لیے جاسکتے ہیں۔گویا کہ حصہ بقدرجثہ والامعاملہ ہے لیکن کرداروں کے نام بدلنے سے یا ان کی ’’ضخامت‘‘کی ترمیم کے ساتھ کہانی تبدیل نہیں ہوتی۔ ہم تو یہ باتیں اپنی استطاعت اور ’’زورِ بازو‘‘کے مطابق لکھ رہے ہیں ورنہ گائے ،بھینس یا اونٹ کو بھی تصور میں لاسکتے تھے لیکن چونکہ ہمارے کالم کے کچھ قاری ایسے بھی ہیں جو ہمیں بہت قریب سے جانتے ہیں اور جب کبھی ہم کسی کالم میں شیخی بگھاریں یا اپنی ذات کو تھوڑا سا اونچا ثابت کرنے کے لیے ہلکا پھلکا سا جھوٹ بول لیں تو ہمارے یہ ’’عزیزی قاری‘‘دودھ والے یا گوشت والے یا سبزی والے کی دکان پر اسی وقت آموجود ہوتے ہیں کہ جن اوقات میں ہم وہاں اکثر جایا کرتے ہیں۔وہ عزیزی قارئین ہمیں کچھ کہتے تو نہیں صرف اتنا کہہ دیتے ہیںکہ ’’وہ جس کالم میں آپ نے عید پربھینس کاٹنے کا ذکرکیا تھاوہ بہت دلچسپ تھا‘‘بات تو بہت بے ضرر سی ہوتی ہے لیکن ان کے چہرے پر پھیلی طنزیہ مسکراہٹ کو دیکھ کر دل ہی دل میں کچھ کچھ تائب ہوتے جاتے ہیں کہ یاریہ چھوٹا موٹا جھوٹ بھی چھوڑ دو کہ کم از کم دودھ ،گوشت اور سبزی تو سکون سے خرید لیا کرسکو۔مگر’’ انسان بشربندہ‘‘ہے کذب سے کب چھوٹ سکتا ہے ۔کالم نگار کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ باتوں سے باتیں نکالنے کے اپنے فرض منصبی میں اتناڈوب جاتا ہے کہ بات کہاں سے کہاں چلی جاتی ہے۔بات بہرحال بکرے کی ہورہی تھی۔بکرا خاص طور پرعید کے دنوں میں انڈین فلمسٹار شاہ رخ خان جتنا مقبول ہوجاتا ہے ۔ہر گھر میں بکرے کی ہی باتیں ۔بکرابڑاہو،بکرا خوبصورت ہو، بکرا ہینڈسم ہو،بکرا مودب ہو،بکراتعلیم یافتہ ہو(یعنی باتیں سمجھ سکے)یہ تمام صلاحیتیں گھر کے سب افراد اُس بکرے میں دیکھنا چاہتے ہیں کہ جو بکراعید کے لیے گھر میں آنے والا ہے ۔کیونکہ اسی بکرے کی ان ’’بے پناہ‘‘صلاحیتوں نے تو بعدازاں گھروالوں کی ناک میں محلے والوں اور رشتہ داروں میں چند انچ کی اونچائی میں اضافہ کرنا ہے۔یہ ناک بھی بڑی عجیب چیز ہے جب تک اونچی نہ ہوجائے سکون کا تو سوال نہیں ہوتا۔قربانی کے مقصد کو تو کوئی دیکھتا نہیں کہ جس ذات کی خوشنودی کے لیے یہ قربانی کی جاتی ہے وہ ذات ہم سے چاہتی کیا ہے ۔بس ہم نے ایک تہوار بنارکھا ہے ، وہ ذات تو اس قربانی سے اپنے بندے کا خلوص ،نیت ،خداسے محبت ،انسانوں میں ایثار دیکھنا چاہتی ہے ۔مگر ہم تو بکرا دیکھنا چاہتے ہیں ایک مسٹر ورلڈ جیسا بکرا یا مس ورلڈ جیسی گائے ۔عیدالاضحی آنے والی ہے اور جانوروں کی تلاش وجستجو کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ گھروں ،محلوں ، بازاروں اور دفتروں میں موضوع بحث بکرے ،بھینس، گائے،دنبے ہی ہیں۔قربانی کرنے کی خواہش کس کے دل میں نہیں ہوتی۔مگر مہنگائی کے اس دور میں کہ جہان پٹرول نے آگ لگادی ہے ،ہرچیز مہنگائی کی آگ میں جل رہی ہے ۔سبزی ،دالیں چاول،گھی،دودھ، گوشت ،آٹااور ہر چیز جو استعمال میںآتی ہے اسے مہنگائی کی آگ نے اپنی زد میں لپیٹ رکھا ہے۔اس صورت میںبکرے اور بکرے والوں کے نخرے کیا ہوں گے یہ تو منڈیو ں میں جاکر ہی معلوم ہوں گے۔کیسے کیسے حسین بکرے ہوں گے منڈیو ںمیں ،ایک سے ایک حسن وسیرت کا مجسمہ۔مگر ان کی قیمتیں سچ مچ آسمانوں سے باتیں کررہی ہوں گی۔بکروں کے عاشق بکروں کادرشن ہی کرسکیں گے۔ان کے دانت دیکھنے کے بہانے انہیں بس چھو ہی سکیں گے۔انہیں خریدنا اور گھرلیجاناخواب ہی ہوگااور ہم اس وقت کو یاد کریں گے جب مہنگائی نہ ہوا کرتی تھی یا کم کم ہواکرتی تھی اور بکرے کاحصول آسان نہیں تو دشوار بھی نہ تھا۔کیسے کیسے وجیہہ بکروں کی رسی تھامے گھروں کو آیا کرتے تھے۔محلے میں یونہی بکرے کو لیے گھوم جایا کرتے تھے ۔لوگ پوچھتے کہ میاں کتنے میں آیا تو ہم کہہ دیتے کہ شوق کاکوئی مول نہیں بھائی۔گھر میں بچے ہم سے محبت کرنے لگتے اور خاتون عزت کرنا شروع کردیتیں ۔کام بھی تو ہمارا بڑا ہوتا ۔ایک بکرا آدمی کو کتنی عزتیں بخش دیتا ہے ۔بے شک بکرا بہت بڑی نعمت ہے۔اب یہ سب باتیں یاد کرکرکے ہم اپنا اور اپنے جیسے محبان ِ بکرا کا دل دکھانانہیں چاہتے مگر یہاں یہ سوال ضرورپید اہوتا ہے کہ اب کیاکیا جائے ۔گھروالے تو ان سب ’’فلسفیانہ ‘‘باتوں کو نہ سمجھنے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی انکار کی تاب وتب۔بکرا تو ہر حال میں خریدنا ہی ہے۔چاہے کچھ بھی ہو۔آخر سماج میں تھوڑی بہت عزت اب بھی باقی رہ گئی ہے۔اس عزت کے صدقے کچھ تو کرنا ہی ہے۔چائنہ نے اتنی ترقی کرلی لیکن سستے بکرے اس سے بھی نہ بن پائے ورنہ چائنہ کا سستا بکرا لینے کی تہمت ہی گوارا کرلیتے ،نہ ہی مارکیٹ میں دوسری اشیاء کی طرح دو نمبر بکرے میسر ہیں ۔بھلے سے’’ ملاوٹی ‘‘ہی میسر ہوجاتے نہ ہی ہم جعلی نوٹ چلانے کے ماہر ہیں کہ کسی کمسن بکرا فروش کو ٹھگ لیتے۔ سو اب ہرحال میں ایک نمبر بکرا خریدنا ہی ہے چاہے آئی ایم ایف سے رجوع کیوں نہ کرنا پڑے ۔۔ 

متعلقہ خبریں