Daily Mashriq

مودی کے اقدامات سے بھارتی وفاق خطرے میں

مودی کے اقدامات سے بھارتی وفاق خطرے میں

درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین خادم سید سرور چشتی نے کہا ہے کہ بھارتی مسلمانوں پر ظلم، ناانصافی اور زیادتیوں کی انتہا ہوگئی، ہم ایک اور کربلا کر طرف جارہے ہیں۔ سید سرورچشتی نے اپنے ویڈیو بیان میں سوال اُٹھایا کہ یہ کیسا بھارت ہے؟ جہاں مسلمانوں پر بدترین ظلم ہورہا ہے۔ ویڈیو میں انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانو اُٹھو مسلمانو جاگو، جاگو جاگو جاگو۔ طوطے کی طرح آنکھ بند کرنے سے بلی جھپٹا مارنا نہیں چھوڑ دیگی۔ شترمرغ کی طرح زمیں میں سر ڈالنے سے طوفان نہیں ٹلے گا۔ مسلمانوں ظلم کیخلاف ڈٹ جائیں، امام حسین کے انکار کی طرح کیونکہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم اور بربریت کی نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک مجسٹریٹ کے بیان کے مطابق کم ازکم چارہزار افراد کو بھارتی اقدام کیخلاف مزاحمت پر حراست میں لے لیا گیا ہے جن گرفتاریوں کو ریکارڈ پر نہیں لایا گیا معلوم نہیں ان گرفتار شدگان کی تعداد کیا ہوگی۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے جموں وکشمیر اور لداخ کو براہ راست دلی کے زیرتسلط لاکر متنازعہ علاقے کو مزید متنازعہ اور تنازعہ کشمیر کو ہی نہ صرف پھر سے زندہ اور تحریک دی ہے بلکہ ان کا یہ اقدام خود بھارت میں عدم استحکام کی بنیاد بننے لگا ہے۔ اس اقدام کے بعد بھارت کے لاکھوں مسلمانوں میں بے چینی واضطراب فطری امر تو ہے ہی سکھ برادری بھی شدید عدم تحفظ کا شکار ہوگئی ہے اور خالصتان کی تحریک پھر سے شروع ہوگئی ہے، ناگالینڈ کو بھی آزادی کا بہانہ میسر آگیا ہے۔ مودی حکومت کے اقدامات سے انڈیا کا نازک وفاقی توازن بری طرح بگڑ گیا ہے۔ آئین کی شق370جو ریاست کو خصوصی حیثیت کی آئینی ضمانت فراہم کرتی تھی، اگر دیکھا جائے تو اس کی نوعیت کئی لحاظ سے علامتی سی ہی تھی، کیونکہ سالہا سال سے جاری رہنے والے صدارتی حکم ناموں نے پہلے ہی ان اختیارات کو ختم کر دیا تھا جن کی اس شق میں ضمانت دی گئی تھی۔ ان تمام حالات کے باوجود بھی یہ آئینی شق اپنی اساس کے اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس سے یہ پیغام ملتا تھا کہ انڈیا کے آئین میں ان علاقوں یا لوگوں کیلئے گنجائش موجود ہے کہ جو ملک کے مرکزی یا قومی دھارے سے مطمئن نہیں۔ انڈیا کا وفاق اصل میں کافی مشکلات اور جدوجہد کے بعد بن پایا تھا۔ اقتصادی طور پر ترقی یافتہ اور ثقافتی طور پر زیادہ ہم آہنگ ملکوں کے برعکس جہاں وفاقی طرز کا نظام قائم ہے، جیسا کہ امریکہ اور کینیڈا میں ہے، طاقت اور اختیارات کی تقسیم انڈیا جیسے غریب اور ثقافتی، مذہبی، سماجی اور معاشرتی لحاظ سے متنوع ملک میں حاصل کرنا کافی مشکل عمل تھا۔ انڈیا کے آئین میں منتخب وفاقی حکومت اور منتخب ریاستی اسمبلیوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بڑی مفصل اور واضح ہے۔ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا گورنر راج کے دوران یکطرفہ فیصلہ جس میں ریاست کے سیاسی رہنماؤں اور عوام کی کوئی رائے شامل نہیں تھی انڈیا کے وفاقی نظام پر ایک اور دھبہ ہے۔ یہ دوسری ریاستوں کیساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انڈیا ایک وحدانی طرزحکومت کی طرف بڑھ رہا اور جمہوری اصولوں کی پامالی ہو رہی ہے۔ اس سے انڈیا کا وفاقی ڈھانچہ کمزور ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ سب کسی اور ریاست کیساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کسی بھی ریاستی حکومت کو معطل کر سکتی ہے، سارے مشاورتی نظام کو ایک طرف رکھ کر کسی بھی ریاست کو تقسیم کر سکتی ہے اور اس کی حیثیت کم کر سکتی ہے۔ یہ وہ احساسات ہیں جو بھارت کی وفاق و وحدت دونوں کیلئے خطرات کا باعث ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی اقدامات اور حالات ایک مرتبہ پھر جنگ آزادی اور تقسیم بھارت کے متقاضی ہیں، خاص طور پر مسلمانوں اور سکھ برادری کیلئے یہ ایک اور1947ء ہے۔ بھارت کے مسلمانوں نے اپنے لئے جدا ملک بنانے کی جو کامیاب جدوجہد کی آج بھارت کے مسلمان اور ان کی دیکھا دیکھی سکھ برادری بھی اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ انتہاپسند ہندوؤں سے چھٹکارا پانے کیلئے ایک مرتبہ پھر الگ وطن اور خالصتان کیلئے متحرک ہوں۔ درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین نے بھارتی مسلمانوں پر مظالم اور سلوک کا جو نقشہ کھینچا ہے اور عملی طور پر مسلمانوں کیساتھ بھارت میں سلوک کے جو ویڈیوز سامنے آنے لگے ہیں ان حالات میں وہاں کے مسلمانوں کے پاس اُٹھ کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ انسان کوئی ایک قدم اپنے تئیں پورے سوچ بچار کیساتھ اُٹھاتا ہے مگر قدرت کو کچھ اور منظور ہوتا ہے۔ مودی کے اس اقدام سے بھی یہی نظر آتا ہے کہ قدرت کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کچھ اور ہی منظور ہے اور وہاں وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام ہندو تسلط سے آزاد ہوں گے۔ آج بھارت میں مسلمان ابتلا کے جس دور سے گزر رہے ہیں اُن کی ہر قسم کی مدد اُمت مسلمہ پر فرض ہے جس میں تساہل اور کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں