Daily Mashriq

پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

پیش کر غافل، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہاہے ان کی حکومت کا ایک سال کا سفراستحکام پاکستان کاسفرتھا۔دریں اثناء مسلم لیگ(ن) نے حکومتی کارکردگی رپورٹ کو جھوٹ اور ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے وائٹ پیپرلانے کا اعلان کیاہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کی شرح10سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،16اگست کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران مہنگائی کی شرح19فیصد سے بھی بڑھ گئی، حساس قیمتوں کا اعشاریہ19اعشاریہ ایک فیصد ہو گیا جو گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ حکومتی دعوئوںاور حزب اختلاف کی تنقید اپنی جگہ ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ممکن ہے صورتحال اس سے بھی بد تر ہو۔ عوام حکومتی دعوئوں اور اقدامات کو مہنگائی کے پیمانے پر دیکھتے ہیں جس کی صورتحال محولہ اعدادوشمار سے واضح ہے۔ اس سے قطع نظر موقع بے بوقع قوم سے خطاب اورویڈیو جاری کرنے والے وزیراعظم کا اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر قوم سے خطاب سے گریز اس امر کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ حکومت کے پلے میں عوام کیلئے کچھ نہیں۔ حکمرانوں نے عوام سے جتنے بھی وعدے کئے تھے اگر ان کا ایک چوتھائی یا اس سے بھی کم پر عمل ہوچکا ہوتا تواس موقع پر حکومت کے پا س عوام کو بتانے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرورہوتا، بلا شبہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کشیدگی ہے، اس موقع پر بجائے اس کے کہ عوام سے خطاب اور حکومت کی کارکردگی سے آگاہی کوئی غیرمناسب اقدام نہ ہوتا، جہاں تک محکموں کی کارکردگی کا تعلق ہے ہر محکمے کے پاس بتانے کیلئے بہت کچھ ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت نے عوام سے جو دعوے کئے تھے ان پر کس حد تک عملدرآمد ہو چکا۔ خیبرپختونخوا کی حد تک دیکھا جائے تو بد قسمتی سے موجودہ حکومت وعدے اور یقین دہانی کے باوجود صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی بقایا جات کی ادائیگی سے گریزاں ہے۔صوبائی دارالحکومت میں تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت کے شروع کردہ بی آر ٹی کی تکمیل کے دور دور تک کوئی آثار نہیں اس موقع پر کم از کم بی آر ٹی کی تکمیل ہی کی گئی ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔

تیاری کے بعد بی ایس پروگرام شروع کرنے کی ضرورت

خیبرپختونخوا بھر کے سرکاری کالجوں میں بی اے،بی ایس سی کی جگہ چارسالہ بی ایس کورسز شروع کرنے کے فیصلے میں ایک سال کی توسیع سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ بی ایس کو رسز کیلئے انتظامات مکمل نہ کئے جا سکے تھے علاوہ ازیں بی ایس کورسز شروع کر کے دو سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے سے صوبے میں پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے والے ہونہار طالب علموں کیلئے مزید تعلیم کا دروازہ بند ہو جاتا۔ صوبے میں بہت سے طالب علم پراُمنگ ہونے کے باوجود مالی پریشانیوں کے باعث چارسالہ ریگولر تعلیم کے متحمل نہیں ہوسکتے اسلئے بی ایس کو رسز کے آغاز سے قبل بڑی تعداد میں ان طالب علموں کیلئے متبادل بندوبست کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں فیصلہ کئے بغیر یکسر بی ایس پروگرام شروع کرنادرست نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری کالجوں میں بی ایس پروگرام کا اجراء احسن ضرورہوگا لیکن اس کیلئے جس قسم کے اساتذہ اور بی ایس سے آشنا مدرسین کی ضرورت ہے وہ کم ہی دستیاب ہیں، علاوہ ازیں بی ایس کو رسز کے انتظامات اور سمسٹر نظام کے تحت امتحانات کا انعقاد کا بھی سرکاری کالجوں کے منتظمین کو زیادہ تجربہ نہیں بہتر ہوگا کہ اس ضمن میں اس ایک سال کی توسیع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تیاریاں اور تقرریاں کی جائیں ۔ جو ہونہار طالب علم جامعات سے اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوچکے ہیں ان کی خدمات سے استفادہ کیا جائے اور جدید تعلیم کیلئے موزوں تدریسی عملے کا معقول انتظام کیا جائے جس کے بعد ہی بی ایس پروگرام کی کامیابی ممکن ہوگی۔

ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا دوسرا شروع

ایک رپورٹ کے مطابق عوام نے ایف بی آر اور ٹیکس کٹوتی کے ڈر سے بڑی تعداد میں اپنی رقوم بینکوں سے نکلوا لیں۔ٹیکس کی وصولی سے ذرا بھی اختلاف کی گنجائش نہیں لیکن پیشگی اعلان اور عملدرآمد کی حکمت عملی طے کرنے سے قبل ہی اکائونٹ ہولڈروں میں جو خوف وہراس پیدا کرنے کے اُلٹے نتائج سامنے آگئے اور سات کھرب سے زائد کی خطیر رقم عدم پتہ ہوگئی جس سے بینکوں کے بیٹھ جانے کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ایک مسئلہ حل کرتے ہوئے اس سے بڑا مسئلہ کھڑا کرنے سے بہتر تھا کہ پہلے حکمت عملی طے کی جاتی اور بڑے بڑے ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا، پانچ لاکھ روپے کی رقم پر پوچھ گچھ کی ایف بی آر کے پاس استعداد بھی شاید نہ ہو۔ بہتر ہوگا کہ لوگوں کا شکستہ اعتماد بحال کیا جائے اور خوف وہراس پیدا کرنے کی بجائے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کر کے ٹیکس وصول کی جائے۔ بینکنگ قوانین میںاگر اکائونٹ ہولڈروں کی تفصیلات کی فراہمی کی گنجائش نکالی جائے اور رازداری نہ رہے تو کوئی بھی شخص بنک میں رقم رکھنے سے پہلے دس بار سوچنے پر مجبور ہوگا۔

متعلقہ خبریں