Daily Mashriq

جیت کے بھی نہیں جیت پائے ابھی

جیت کے بھی نہیں جیت پائے ابھی

ملک میں تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا اور خیبر پختونخوا میں ساتواں سال شروع ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے کچھ وعدے تو پورے کرلئے ہیں جن میں میاں نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور، مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ گرفتار ہوچکے ہیں تاہم ابھی تک ان سے وہ مبینہ لوٹی گئی رقوم برآمد نہ کی جاسکیں جو انہوں نے گزشتہ دس سالوں میں خزانے سے لوٹی ہیں۔ ایک وعدہ تو پورا ہوا کہ وہ سارے لوگ جن کے بارے میں حکومت اور ان کے وزیراعظم کے پاس قومی خزانہ لوٹنے کے سارے ثبوت موجود ہوں گے گرفتار تو ہوچکے لیکن معلوم نہیں کیوں ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ان گرفتاریوں کو اپنی کامیابیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ کیا وہ عمران خان کے اتنے بڑے خواب کے پورا ہونے کو اپنی حکومت کا کارنامہ نہیں سمجھتیں؟ انہوں نے اسلام آباد میں ایک تقریب میں بتایا کہ حکومت ملک میں میرٹ، انصاف، قانون کی حکمرانی اور اخراجات میں کمی کے خوابوں کی بنیاد پر قائم حکومت پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتی ہے جس کیلئے اب تک ان کی حکومت محکمۂ ڈاک، ریلوے، این ایچ اے اور بہت سارے شعبوں میں اصلاحات نافذ کرچکی ہے جبکہ پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو 22کروڑ لوگوں کی حقیقی آواز بناچکے ہیں۔ باقی باتیں تو ٹھیک ہوسکتی ہیں لیکن شاید فردوس عاشق اعوان کو یاد نہیںکہ ان کی حکومت کے پہلے سال ریلوے کے بڑے بڑے حادثات نے تو وزیر ریلوے کے سر پر وہ تاج سجایا ہے کہ وہ خود کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر وزیراعظم ان کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوئے تو انہیں کوئی اور وزارت دے دیں گے۔ ہاں کارکردگی سے یاد آیا اس ایک ہی سال میں تحریک انصاف کے اوپنر بیٹسمین اسد عمر بھی تو صفر پر آوٹ ہوئے تھے اور امپائر کی اُنگلی اُٹھنے کے بعد پویلین سدھار گئے تھے اور ان کی جگہ کھیل کیلئے تیار کی گئی کپتان کی ٹیم کے کسی کھلاڑی کی بجائے باہر سے امپائر کا بندہ لاکر خزانہ اس کے سپرد کیا گیا اور بھی وزارتیں ایسی ہیں جن پر تحریک انصاف کا اب کوئی ہولڈ نہیں رہا۔ معیشت کا جائزہ لیا جائے تو اس ایک سال کے دوران کبھی ایسا لمحہ نہیں آیا کہ ملک غیریقینی صورتحال سے دوچار نہ رہا ہو۔ جاری کھاتوں کا خسارہ ہر ماہ دوارب ڈالرز ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گررہے ہیں ہمیں، یاد رہے حکومت نے کہا تھا کہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے اسے بارہ ارب ڈالرز درکار ہیں، اس نے دوست ممالک سے دس ارب ڈالرز کا قرضہ لیا، سعودی عرب سے ادھار تیل بھی لیا اور آئی ایم ایف سے قرضہ پروگرام کو حتمی شکل بھی دی لیکن۔۔۔ اس ایک سال میں ملک میں مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد سے بڑھ کر دس فیصد سے بھی تجاوز کرگئی، شرح سود ساڑھے چھ فیصد سے بڑھ کر ساڑھے تیرہ فیصد ہوگیا، ڈالر کی قیمت 120روپے سے 160 روپے تک پہنچ گئی اور زرمبادلہ کے ذخائر سولہ ارب ڈالر سے کم ہوکر پندرہ ارب ڈالرز ہوگئے، اسی حکومت نے ایک سال میں ساڑھے سات ہزار ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لیا۔ ملکی قرضے 24ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 31ہزار ارب روپے ہوگئے،غیرملکی قرضے اور واجبات 105ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں جبکہ غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری پچاس فیصد کم ہوچکی ہے اور ایف بی آر اہداف کے حصول میں ناکام رہا۔ خیبر پختونخوا کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے درکار وفاق کے ذمے اس کی بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی رک چکی ہے۔ لگتا ہے صوبائی حکومت نے وفاق میں اپنی حکومت سے اپنی رقم کا مطالبہ چھوڑ دیا ہے اور وجہ یہ لگ رہی ہے کہ شاید وزیراعظم عمران خان پہلے سے طے شدہ فارمولے کی بجائے کسی اور فارمولے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن انہیں کسی بھی فارمولے پر متفق کرنے کیلئے مذاکرات کی میز پر لانے کی صوبائی حکومت میں جرأت نہیں کہ دلوں میں وزارتوں سے ہٹائے جانے کا خوف حائل ہے، ان کی حکومت نے گزشتہ وفاقی حکومت کو جتنا اس معاملے پر تنگ کیا اگر اپنی حکومت کو پانچ فیصد بھی کرے تو شاید یہ حق مل جائے۔

صوبے میں تحریک انصاف کے ''وفاداروں'' کو وفاداری پر قائم رکھنے اور اپنی ہی صوبائی حکومت کو نہ گرانے پر آمادہ رکھنے کیلئے ہر بار وزیراعظم کو بیچ بچاؤ کرانا پڑ رہا ہے۔ صوبائی محکموں میں اصلاحات کا خواب تو تب پورا ہوگا جب حکومت کو یہ یقین آئے گا کہ اس کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوچکا ہے اور اب اس نے کوئی کام شروع بھی کرنا ہے۔ اب بھی ہر حکومتی عہدیدار کا بیان ''گا گے گی'' پر ہی ختم ہوتا ہے اور ابھی تک ان کے کسی بیان میں ''چکا ہے، چکے ہیں اور چکی ہے'' کا موقع ہی نہیں آیا۔

قبائلی علاقوں کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد یہاں پر سالانہ سوارب روپے کی لاگت سے انفراسٹرکچر اور ترقیاتی کام ہونا تھا اس میں ایک سال تو گزر بھی گیا اور ابھی تک رقم کے جاری ہونے کے کوئی آثار نمودار نہیں ہوئے، ہاں ان علاقوں میں اگرکوئی دلچسپ چیز بنی ہے تو وہ ''باپ'' بلوچستان عوامی پارٹی ہے یعنی جو کرنے کے کام تھے ان پر تو مٹی پڑی ہے اور پاکستان میں بھوٹان نامی ملک کی ایک پارٹی بن گئی ہے پتہ نہیں کسے بچہ بنایا جارہا ہے؟بے رحمانہ انصاف کے اپنے ہی نعرے کو کفن پہنا کر احتساب کمیشن کیساتھ دفناچکے۔ صوبے میں گزشتہ حکومت کا شروع کردہ ایک ہی بڑا پراجیکٹ بی آر ٹی بھی زندہ لاش بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں