Daily Mashriq

نہرو کے بھارت کو بدلنے کی سازش

نہرو کے بھارت کو بدلنے کی سازش

کس نے سوچا تھا کہ جدید بھارت کے سرخیل، جواہر لعل نہرو، اپنی وفات کی پانچ دہائیوں کے بعد اپنے ہی ملک کی پارلیمان میں روز کی بنیاد پر گالیوں اور تنقید کا نشانہ بن جائے گا؟ اور نہ صرف یہ بلکہ اسے روئے زمین پر موجود ہر مسئلے کی وجہ گردانا جانے لگے گا؟ اپوزیشن تو ایک طرف یہاں تو کانگریس بھی اپنے اس لیڈر سے بدظن نظر آتی ہے جو شدید مشکلات کے باوجود کئی سالوں تک اس کی سربراہی کرتا رہا ہے اور جہاں تک بات ہے حکومت کی تو وہ اس لیڈر کو بدنام کرنے اور اس پر تنقید کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں چھوڑ رہی۔ یہ وہ لیڈر تھا جو ہر اس نظرئیے اور شدت پسند سوچ کی راہ میں آہنی دیوار بنا کھڑا رہا تھا جس کی آج بی جے پی اور اس کے حامی پرچارک ہیں۔جب سے بی جے پی حکومت میں آئی ہے اس نے بھارت کے قومی لیڈروں کو اپنانے کی ایک گھناؤنی سازش رچا رکھی ہے۔ اب چاہے وہ مہاتما گاندھی ہو، ولہ بھائی پٹیل یا پھر بھارتی آئین کے لکھنے والے دلت راہنما، ڈاکٹر امبیدکر ہو جنہوں نے ذات پات کے نظام میں رہ کر بھی خود کو قومی راہنما کے طور پر منوایا تھا۔نہرو جو بلاشبہ گاندھی کے بعد سب سے بڑے قومی راہنما تھے، مسلسل اس حکومت کے نشانے پر ہیں، انہیں ایک کمزور، قوت فیصلہ سے محروم اور بدعنوان راہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور انہیں بھارت کے تمام مسائل کی وجہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ان کے مطابق ولہ بھائی پٹیل نہرو سے بڑے راہنما اور گاندھی کے بعد کانگریس کی باگ ڈور اور بھارتی حکومت سنبھالنے کا حقدار تھے۔ 2014کے انتخابات میں جب مودی نے اپنے آپ کو بھارت کے مردآہن کے طور پر پیش کیا، تب بھی اس کے گجراتی حامیوں نے نہرو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی موجودگی میں ولہ بھائی پٹیل کے کانگریس سربراہ نہ بننے پر باقاعدہ بین کیا تھا۔ تاریخ دان رام چندر گوہا کے مطابق بی جے پی کا ایک کانگریسی لیڈر کی حمایت کرنا اور اسے ہیرو کے طور پر پیش کرنا ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ اس دائیں بازو کی جماعت کا ہمیشہ سے ہی سردار پٹیل کی طرف جھکاؤ رہا ہے حتیٰ کہ آر ایس ایس کے لیڈر ایم ایس گول واکر نے 1966میں اپنی کتاب میں بھی یہ لکھا کہ مشکل حالات میں سردار پٹیل جیسے فولادی شخصیت کے حامل لیڈر کا ہونا ہماری خوش نصیبی تھا۔آر ایس ایس کی سردار پٹیل کے حوالے سے ان جذبات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پٹیل کے نظریات اس جماعت سے کچھ الگ نہیں تھے، وہ مسلمانوں کے حوالے سے تنگ نظر اور ہندوتوا کے پرچارک تھے۔ انہوں نے آر ایس ایس کو ایک ثقافتی سماجی تنظیم اور اس کے کارکنان کو محب وطن بھارتی ہونے کے خطاب سے بھی نوازا تھا۔یہ بھی ایک تاریخی واقعہ ہے کہ سردار پٹیل نے گاندھی جی کی موت سے صرف تین روز قبل ہی آر ایس ایس کو کانگریس میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ''کانگریسی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پاس موجود طاقت اور اختیار کے بل بوتے پر آر ایس ایس کو تباہ کر دیں گے مگر آپ کسی تنظیم کو ڈنڈے کے زور سے ختم نہیں کر سکتے۔ ڈندا صرف اور صرف چوروں اور ڈاکوؤں کا علاج ہے۔ کانگریسیوں کو انہیں پیار اور محبت کے ذریعے اپنا بنانا ہوگا'' البتہ یہ سب اس وقت ڈرامائی طور پر تبدیل ہوگیا جب گاندھی جی کو صرف تین دن بعد آر ایس ایس کے ہی ایک سرکردہ راہنما، نتھو لعل گوڈسے نے قتل کر دیا۔ ان کے قتل کی وجہ تقسیم ہند اور مسلمانوں کیلئے ان کا نرم گوشہ بنا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات عدالت میں تو ثابت نہیں ہو سکی البتہ سب جانتے ہیں کہ یہی حقیقت ہے اور مہاتما ایک شدت پسند ہندو فسادی کے ہاتھوں اپنے نظریات کی وجہ سے قتل ہوئے تھے۔ آر ایس ایس نے اس قتل کے بعد گوڈسے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کر دیا البتہ یہ واقعہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔اس کے بعد سردار پٹیل پر آر ایس ایس بین کرنے کیلئے دباؤ کا آنا فطری تھا، انہوں نے شمع پرساد مکھرجی جو جان سنگھ کے بانی تھے کو ایک خط میں لکھا کہ: ''آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا کی کارروائیوں کے نتیجے میں دیس میں ایک ایسی فضا بنی جس کے سبب ایک بڑا حادثہ رونما ہوا۔ میرے ذہن میں اس بات کے حوالے سے کوئی شائبہ نہیں کہ اس سازش میں ہندو مہا سبھا کے شدت پسند عناصر شامل ہیں۔ آر ایس ایس کی حالیہ کارروائیوں نے ریاست اور حکومت کیلئے بڑے خطرات پیدا کر دئیے ہیں'' انہوں نے بین تو لگا دیا البتہ یہ بین صرف ڈیڑھ سال تک ہی برقرار رہ سکا اور سردار ولہ بھائی پٹیل نے یہ بین اس شرط کیساتھ ختم کر دیا کہ آر ایس ایس آئندہ سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔ یہ بین اُٹھنے کے ایک سال کے اندر ہی آر ایس ایس نے جان سنگھ کو مضبوط کرنا شروع کر دیا جو آگے جا کر واجپائی اور ایڈوانی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی بن گئی۔یہ سب جاننے کے بعد اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آر ایس ایس کیوں سردار پٹیل کیلئے اس قدر محبت اور عقیدت رکھتی ہے۔ ہمارے لئے یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ سردار پٹیل ہی وہ شخص تھے جنہوں نے تقسیم کے بعد مسلمانوں کو ''تمیز'' سے رہنے یا پاکستان لوٹ جانے کی دھمکی دی تھی اور یہ وہی رہنما ہیں جن کی سربراہی میں 1948میں حیدرآباد دکن، مسلمانوں کے عروج کے آخری نشانی کو، بدنا م زمانہ پولیس کارروائی کے ذریعے تہس نہس کر دیا گیا اور اس کارروائی میں ہزاروں ریپ اور قتل تاریخی حقیقت ہیں۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں