Daily Mashriq

صحت وصفائی، حکومت وعوام دونوںکا فرض

صحت وصفائی، حکومت وعوام دونوںکا فرض

جب بھی صحت کی بات ہو صفائی کا ذکر بھی ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ صحت صفائی کی مرہون منت ہے، جب تک کوئی اپنے آپ کو اور ماحول کو صاف ستھرا نہیں رکھے گا اچھی صحت کی امید بھی نہ رکھے اور یہ صرف انفرادی کوشش ہی سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے اجتماعی کوشش بھی درکار ہے۔ جب بات صفائی کی آتی ہے تو ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں کہ یہ تو سراسر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے تو ہم ان کیساتھ اختلاف نہیں کرتے اور ان کا کہنا بجا ہے کہ حکومت عوام کو صاف پینے کا پانی فراہم کرے۔ اکثر اوقات زیادہ تر بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں اور پھر آگے بھی پھیلتی جاتی ہیں۔ خاص طور پر گیسٹرو کی بیماری، ہمارا پینے کے پانی کا نظام انتہائی ناقص ہے، بالخصوص شہروں میں سیوریج (گندے پانی کے نالوں) کے اندر سے پینے کے پانی کی پائپ لائن گزاری جاتی ہیں اور کئی جگہوں پر پینے کے پانی کے پائپ عمررسیدہ ہوکر ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں اور یوں گندہ پانی ان میں جارہا ہے اور ہمارے شہری لوگ بڑے مزے سے اسے پی رہے ہوتے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ ہم صحت مند رہیں گے، جہاں ایک طرف حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ سال بہ سال اس نکاسی آب اور سیوریج سسٹم کی دیکھ بھال ہو بلکہ ضروری مرمت بھی بروقت کی جائے نہ کہ کسی ناخوشگوار حادثہ کا انتظار کیا جائے اور یہ کام وفاقی یا صوبائی حکومت کا نہیں بلکہ ضلعی حکومت اور ان کے اہلکاروں کی ذمہ داری ہے، ہاں البتہ فنڈز وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے لئے جاسکتے ہیں اور ان فنڈز کو بروقت، صحیح جگہ اور درست طریقے سے لگایا جائے یہ نہ ہو کہ آدھا فنڈ حکومتی ارکان کھا جائیں اور ٹھیکیدار صاحب اپنا حصہ بھی نکال لے اور عوام کے کاموں کیلئے صرف چند ٹکے ہی بچیں، جن سے کام بننے کی بجائے اور بگڑ جائے۔ فنڈز دیئے بھی جائیں اور ان کے درست استعمال کی نگرانی بھی ہونی چاہئے ۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو ہمارے عوام کیا اپنے فرائض بطریق احسن انجام دے رہے ہیں؟ کیا ہم خود اپنی صحت وصفائی کا خیال رکھ رہے ہیں، ایک قاری رحیم شاہ خٹک فورسز سے ریٹائرڈ ہیں اور پاکستانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے گاہے بگاہے یاد دلاتے رہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو صرف حکومت پر ہی اکتفانہیں کرنا چاہئے بلکہ خود بھی اپنے حصے کا کام کریں۔ ہم خٹک صاحب کے مشورہ سے پوری طرح متفق ہیں کیونکہ ہم نے اکثر اپنے خوبصورت شہر پشاور کی گلیوں میں گھوم کر دیکھا ہے کہ کیسے یہ ''مہذب شہری'' اپنی گلیوں اور سیوریج سسٹم کو گندہ کرتے ہیں دنیا جہان کا گند لاکر ان سیوریج کی نالیوں میں پھینک دیتے ہیں، کھانے پینے کی اشیا توجیسے تیسے پانی کیساتھ حل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں مگر پلاسٹک کے شاپرز میں بند کرکے پھینکی جانے والی چیزیں نہ ہی حل ہوتی ہیں اور نہ ہی بہہ کر بڑے نالوں میں جاتی ہیں اور اکثر اوقات نالی کو بند کر دیتی ہے جس سے پورے کا پورا علاقہ گندے پانی سے یوں بھر جاتا ہے جیسے گٹر اُمڈ آیا ہو اور یہ کبھی کبھار نہیں ہوتا اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے اور صفائی والا عملہ اپنی سرتوڑ کوششوں سے اکثر اوقات کامیاب ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی ناکامی کی صورت میں پورا ہفتہ محلہ گندگی کا ڈھیر بنا رہتا ہے اور یوں بیماریوں کی آماجگاہ بھی بنا رہتا ہے، ٹھیک ہے کہ صفائی کا کام بلدیہ والوں کا ہے مگر اپنے گند کو اچھی طرح ٹھکانے لگانے کا ذمہ تو ہمارا ہے اور ہمیں ہوش ہونا چاہئے کہ کونسی چیز کہاں پھینکنی ہے۔ ہمارے ٹاؤن، تحصیل میونسپیلٹی کے ادارے جن میں آج کل ڈبلیو ایس ایس پی والے بھی شامل ہیں نے ہر محلہ میں گند ڈالنے کی جگہ (Garbage Bin / dumping place) بنائی ہوتی ہے لہٰذا گند یا گند سے بھرے شاپر ہم نالیوں میں پھینکنے کی بجائے ان جگہوں پر ڈالیں تو روز کے روز بلدیہ والے آکر لے جائیں لیکن ہم نے تو گویا مہذب شہری بننا ہی نہیں، ہم تو گند پھیلائیں گے، اس موقع کیلئے کیا خوب محاورہ یاد آیا ہے ''الا بلا بہ گردن ملا'' نہیں نہیں خدارا میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ صوبہ کے ''ملا'' کی گردن پر ڈال دیںکیونکہ آج کل مولویوں کی حکومت نہیں اور جب تھی بھی تو بیچاری تو خود اپنی بلاؤں کا کچھ نہیں کرسکی اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ آپ کی بلا آپ خود سنبھالیں۔ابھی بقر عید گزری ہے اور لوگوں نے قربانی کی آلائشیں جگہ جگہ گرائی ہوئی ہیں، یہاں پھر وہی بات کہ جب بلدیہ انتظامیہ نے مخصوص جگہ بنائی ہوئی ہیں بلکہ ان کا عملہ عید کے دن بھی گلی گلی گھوم کر یہ گند اکٹھا کرتے رہے ہیں، پھر بھی کچھ لوگوں نے ان کیلئے مسئلہ بنایا اور آلائشیں گلی محلوں کے نکڑ پر پھینک دیں اور اب وہ بدبو کا باعث بن رہی ہیں۔ یہاں پھر یہی درخواست ہے کہ صفائی کے عملہ سے تعاون کرکے عام شہری کو چاہئے کہ صفائی کے عملہ کو ان جگہوں کی اطلاع دیں تاکہ بروقت صفائی ہوسکے اور بیماریوں سے بچا جاسکے۔

متعلقہ خبریں