Daily Mashriq

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں

ایک سال گزر گیا پی ٹی آئی کے کپتان عمران خان کی حکومت کو، اس ایک سال کے عرصہ میں عمران یا اس کی سیاسی پارٹی کی حکومت نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ ساری باتیں خاموشی سے گزر جانے والا وقت، زبان حال سے پکار پکار کر بیان کر رہا ہے۔ وقت جو کسی کا لحاظ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو کسی کے انتظار کرنے کی عادت ہے۔ اس کا کام ہے چلنا چلنا اور مدام چلتے رہنا۔ کسی پرانے اور بہت زیادہ سیانے نے گزرتے وقت کو کھلی فضا میں پڑی ہوئی برف کی سل سے تشبیہ دی ہے۔ برف کی یہ سل لمحہ بہ لمحہ پگھل کر ختم ہوتی رہتی ہے اور اس کے پگھلنے سے پانی بننے والے قطرے بیتے لمحات کا روپ دھار کر صدیوں پر محیط ہمارے ماضی کے سمندر میں ڈوب کر، پانی میں مل کے پانی، انجام یہ کہ فانی، کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ کسی دوسرے دانشور نے وقت کو بند مٹھی میں پکڑی ایسی ریت کہا ہے جو مٹھی سے پھسل کر گرتی رہتی ہے اور انجام کار جب ساری ریت پھسل جاتی ہے تو ہماری مٹھی میں کچھ نہیں رہتا۔ ہم نے پلک جھپکتے ہی عمران خان کی حکومت کا ایک سال گزار لیا۔ اس دوران ہمیں یوں لگا جیسے سال بھر کپتان کی کرکٹ ٹیم کا میچ دیکھتے رہے، وہ تباہ کن باؤلنگ اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے رہے۔ ملک سے غربت کی لعنت کو ختم کرنا عمران اور اس کی پارٹی کی پہلی ترجیح تھی لیکن وہ ایسا نہ کرسکا کیونکہ بقول اس کے جب اس نے عنان حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو بیت المال میں کچھ تھا ہی نہیں جسے وہ غریبوں میں تقسیم کر سکتا یا غریبوں کی حالت سنوار سکتا، اسے ملکوں ملکوں گھوم کر قومی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے بھیک مانگنی پڑی

شرم آتی ہے کہ اس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں

نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارا ہی نہ ہو

لیکن ہمارا ملک اور اس کا سربراہ بھکاری کیوں بنا؟ جب ہم نے یہ بات جاننا چاہی تو کلیجہ منہ کو آنے لگا، عمران کو ملک کی دولت بیدردی سے لوٹنے والوں کے سروں پر احتساب عدالتوں کی تلوار لٹکانی پڑی اور ان کو قانون کے آہنی شکنجوں میں جکڑ کر کیفر کردار تک پہنچانا پڑا۔ بڑی ہائے ہو اور واویلا کا شور اٹھا، نہ صرف کاخ امراء کے ایوانوں میں بلکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایوان بالا تک میں بھونچال آگیا

بھونچال کی شدت سے زمیں کانپ رہی ہے

اپنی بے شقاوت سے زمیں کانپ رہی ہے

نہ صرف قومی دولت لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے گرفتار کیا گیا بلکہ قوم کی نوجوان نسل کی رگوں میں منشیات کا زہر سرائیت کرنے والوں کی گردن کو بھی دبوچا گیا لیکن رشوت، چور بازاری، ڈاکہ زنی اور منشیات فروشی کے بازار پھر بھی گرم رہے، عوام مہنگائی کا رونا روتے رہے، پٹرول اور اس کی مصنوعات آسمان سے باتیں کرنے لگیں، سبزی، دال اور روٹی تک کے نرخ بڑھا دئیے گئے، کل تک جو عمران اور اس کی پارٹی کی جھولی میں اپنے قیمتی ووٹ ڈال رہے تھے اسے سر عام گالیاں دینے لگے، وہ اتنا بھی نہ سوچ سکے کہ رشوت تو رشوت خور لے رہا ہے، مہنگائی تو مصنوعی گراں فروشی کا دھندہ کرنے والے بڑھا رہے ہیں لیکن جس بھٹی میں آگ جلتی ہے گرمی کا اندازہ اسے ہی ہوتا ہے، ہم نے اپنے گزشتہ کالموں میں سے کسی ایک کالم میں مہنگائی کے حوالہ سے تبدیلی سرکار کے ایک مخالف سے پوچھا تھا کہ تم کس رات بھوکے سوئے جو آئے روز مہنگائی کا رونا روتے رہتے ہو، ہمارے اس سچ کا انہوں نے بہت برا منایا، وقت گزرتا رہا، مہنگائی کا رونا رویا جاتا رہا، غریب ملک کے غریب عوام کی لمبی لمبی کاریں ٹریفک جام کرتی رہیں، حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے اسمبلیوں کے اندر اور اسمبلیوں سے باہر حکومت کو برا بھلا کہہ کر اپنی خفت مٹاتے رہے، ان کو یاد ہی نہ رہا ہم آزادی کا 72واں سال گزار رہے ہیں اور ہماری ہمسائیگی میں رہنے والے مظلوم کشمیری کم وبیش اتنے ہی سال غلامی کی زنجیریں پہن کر مر مر کر جینے کا قرض چکا رہے ہیں، وہ 72سال کے طولانی عرصہ میں آزادی تو حاصل نہ کرسکے، رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے کے مصداق، لیکر رہیں گے آزادی اور کشمیر بنے کا پاکستان کے دلخراش اور فلک شگاف نعرے ضرور لگاتے رہے اور پھر یوں ہوا کہ ان کو پا بہ جولاں رکھنے والے بھارت کے پردھان منتری نے ان کے جوش اور جذبہ کے آگے ہتھیار پھینکنے کے بجائے اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہی آئین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا، پاکستانیوں نے کشمیر کے حق میں آواز اُٹھائی لیکن جنگ وجدل یا تباہی وبربادی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مسئلہ کشمیر کو سفارتی سطح پر حل کرنے کیلئے دنیا والوں سے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا، اس وقت مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیرسماعت ہے، پی ٹی آئی کی حکومت اسے اپنی فتح قرار دے رہی ہے لیکن کشمیریوں کی حق خودارادی کی کھچڑی اب بھی گزرتے وقت کے پریشر ککر کے ڈھکن کے کھلنے کی منتظر ہے، بڑی جارحانہ بیٹنگ اور تباہ کن باؤلنگ کی پی ٹی آئی کی ٹیم کی اس ایک سال کے دوران ان کی کارکردگی کو ہر کوئی اپنی اپنی عینکوں سے دیکھ رہا ہے کہ یہ ان کی فطرت ہے

یہ مسلک اپنا اپنا ہے، یہ فطرت اپنی اپنی ہے

جلاؤ آشیاں تم، ہم کریں گے آشیاں پیدا

متعلقہ خبریں