صرف قانون سازی کافی نہیں

صرف قانون سازی کافی نہیں

سینئر وزیر بلدیات ودیہی ترقی خیبرپختونخوا وپارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان کی صدارت میں صوبائی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی برائے شادی بیاہ، جہیز اور عروسی تقریبات میں بے جا نمود ونمائش کے خاتمے کیلئے منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی معاشرتی اصلاح اور بے جا رسوم کی روک تھام کیلئے مئوثر حکمت عملی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ اجلاس میں شادی بیاہ کی تقریبات، جہیز، شادی تحفے تحائف، ون ڈش اور دیگر امور پر تفصیلی غور وخوض کے بعد اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شادیوں میں ون ڈش پالیسی اپنائی جائے گی۔ رات گیارہ بجے تک شادی کی تقریبات ختم کی جائیں گی اور اونچی آواز میں رہائشی علاقوں میں میوزک اور لائوڈ سپیکر پر پانبدی ہوگی۔ اجلاس میںفیصلہ کیا گیا کہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا تین ماہ قید یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ معاشی اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کیلئے جدوجہد جاری رکھنی چاہئے اور شادی بیاہ میںنمود ونمائش کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اگرچہ محولہ اجلاس کے فیصلے اور تجاویز بظاہر ایک عام نوعیت کے اجلاس کا فیصلہ اور تجاویز ہیں لیکن اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو یہ نہ صرف ہماری معاشرتی اصلاح کیلئے ضروری فیصلے ہیں بلکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے معاشرے کے اکثریتی طبقے کو بڑا فائدہ ہوگا جو معاشرے میں اس طرح کے رواج اور رسوم پر بادل نخواستہ عملدرآمد کرتے ہوئے بڑی مشکلات بلکہ عذاب کا شکار ہیں۔ مستزاد اس طرح کے حالات کے باعث معاشرے میں بگاڑ کی صورت میں بڑی تباہی چھپی ہوتی ہے، جس کے باعث نہ صرف معاشرے میں منکرات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان قبائح کے باعث معاشرے میں رشوت وبدعنوانی اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کے باعث لوگ قرضوں میں بری طرح جکڑے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں جہیز پر پابندی کے حوالے سے بھی اس قسم کا عندیہ دیا گیا تھا مگر اس حوالے سے قانون سازی اور اس کے عملی نفاذ میں کوئی عملی پیشرفت نظر نہیں آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرتی معاملات کی اصلاح قانون سازی کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ ترغیب اور معاشرتی اصلاح کا طریقہ کار اپنانا ٹھیک ہوگا لیکن جب اس قسم کی رسومات اور اس سے پیدا ہونیوالے حالات ایک خاص حد سے آگے بڑھ جائیں اور معاشرے کا بگاڑ دوسروں کیلئے مشکلات کا باعث بنے تو اس حوالے سے صرف سخت قوانین بنانا کافی نہ ہوگا بلکہ اس کے عملی نفاذ کی حکومت کو ہمت بھی کرنا پڑے گی۔ شادی بیاہ کی تقریبات اگرچہ افراد کے ذاتی معاملات ہیں اور ہر کسی کو ایک خاص دائرے میں رہ کر اس کی آزادی ہونی چاہئے۔ اس قسم کی تقریبات کو محدود کرنا شخص اور افراد کی آزادی پر قد غن کے زمرے میں بھی آتا ہے لیکن ہمارے تئیں اب محض اس دلیل کا سہارا لیکر معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے ان عوامل پر مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ شادی کی معمول کی تقریبات میں سادگی اور کفایت شعاری اب طعنہ بن گیا ہے۔ شادی کی تقریبات کے نام پر ڈانس پارٹیوں، گانے بجانے والیوں اور خواجہ سراؤں کی جو محفلیں سجائی جاتی ہیں اس سے فحاشی کو فروغ مل رہا ہے جبکہ ان محافل میں پیسہ پھینکنے اور ہوائی فائرنگ کے واقعات، لڑائی جھگڑے انسانی جانوں کا ضیاع کا بھی باعث بن رہے ہیں، جس محلے میں شادی بیاہ کی تقریبات ہو رہی ہوتی ہیں وہاں کے مکینوں کا سکون ہفتہ بھر غارت رہتا ہے۔ اونچی آواز میں گانا بجانا، ہوائی فائرنگ اور شور وغوغا سے پورا محلہ متاثر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض افراد اذان ونماز کے اوقات میں بھی شغل میلہ مؤخر کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ اس ساری صورتحال میں علاقہ پولیس کا ان عناصر کیساتھ برابر کا شریک ہونا اور چشم پوشی کا رویہ مزید تکلیف کا باعث امر ہوتا ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر تو پابندی عائد ہے مگر جہاں شادی بیاہ کی رسومات میں پوری آواز سپیکروں سے برآمد ہوتی ہے اور بہت دور تک جاتی ہے یہ شاید پولیس کی نظر میں ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی کے ضمن میں نہیں آتا۔ اگرچہ مجموعی معاشرتی ومعاشی حالات کا پاس نہ ہوتا تو ون ڈش کی مخالفت کی گنجائش تھی کیونکہ خوشی کے اس موقع پر اگر کسی جائز خواہش کی گنجائش نکلتی ہے تو وہ مہمانوں کا تواضع ہے مگر چونکہ معاشرے کا ہر فرد اس کا متحمل نہیں ہو سکتا اسلئے اصلاح معاشرہ اور معاشرے کے عام افراد کا بوجھ کم کرنے کیلئے ون ڈش کے قانون کی حمایت ضروری ہے۔ اس طرح کی مساعی قبل ازیں بھی ہوتی رہی ہیں جبکہ صوبہ پنجاب میں بطور قانون اس کا اجراء بھی ہے مگر اس پر عملدرآمد تقریباً ناممکن امر ہے، اس ضمن میں صوبائی حکومت کو مشکلات کا سامنا ضرور ہوگا۔ اب جبکہ شادی بیاہ کی زیادہ تر تقریبات شادی ہالوں میں ہونے لگی ہیں لہٰذا اگر قانون میں اس امر کی گنجائش رکھی جائے کہ جن جن ہوٹلوں اور شادی ہالز میں ون ڈش کی خلاف ورزی ہو پولیس اس ہوٹل یا شادی ہال کے مالک ومنیجر کو بھی متعلقہ خاندان کیساتھ شریک ملزم ٹھہرائے گی اور ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی تو یہ خاص مؤثر ہوگا۔ شادی ہالز اور ہوٹلز میں شادی کی تقریبات کی مانیٹرنگ مشکل نہیں، رات گیارہ بجے تک تقریبات ختم کرنے کی تجویز بھی مناسب ہے اگر غیر ضروری امور میں نہ پڑا جائے تو مقررہ وقت کے اندر تقریبات کا خاتمہ ناممکن نہیں۔ جہاں تک جہیز کا تعلق ہے ماں باپ کو اپنی استطاعت کے مطابق جہاں اپنی بیٹی کی مدد کرنی چاہئے وہاں اگر اس کا طریقہ کار بصورت جہیز سے تبدیل کر کے وراثت میں ان کو شرعی اصولوں کے عین مطابق حصہ دینے کا طریقہ کار اپنایا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا، البتہ دولہا اور اس کے خاندان کی طرف سے معمولی سے معمولی مطالبے کیخلاف سخت قانون بنانے اور اس پر سختی سے عملدرآمد ضرور ہونا چاہئے۔ محولہ اقدامات قانونی طور پر ممکن بنانے کے علاوہ علمائے کرام، اساتذہ کرام اور عمائدین کو ان معاشرتی منکرات کے مقابلے کیلئے آگے لایا جائے۔ کالجوں اور جامعات میں جہیز کی لعنت کے حوالے سے خاص طور پر شعور وآگہی دی جائے اور نوجوانوں کی ایسی ذہنی تربیت کی جائے کہ وہ اسے باعث عار قرار دے کر اس سے انکار کریں۔

اداریہ