اصلاح معاشرہ، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے

اصلاح معاشرہ، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے

محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے سماجی ومعاشرتی اخلاقیات کے موضوعات نصاب تعلیم میںشامل کرنے کا فیصلہ احسن ہوگا۔ ہمارے تئیں اس طرح کے امور کی تعلیم دینا صرف سکول ومدارس ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی بنیادی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ان موضوعات کو پڑھانے کیساتھ ساتھ عملی طور پر اس کی تربیت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گھروں میں والدین اور بڑے بہن بھائی اور سکولوں میں اساتذہ کرام کو ان اخلاقی اقدار اور محاسن کا عملی نمونہ ہونا چاہئے، اس کے بعد من حیث المجموع معاشرے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی پیروی کرتے ہوئے ایک احسن اور مہذب معاشرہ تشکیل دے۔ جن موضوعات کو شامل نصاب کرنے کی تجویز ہے یہ ہمارے دین کی بھی تعلیمات کا لازمی جزو ہیں۔ ان معاملات سے ہم لاعلم نہیں بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم شعور وآگہی رکھنے کے باوجود عملی طور پر ان کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ اخلاقی اقدار کے منافی امور کا ہماری عادت ثانیہ بن جانا المیہ ہے، زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے جو مقتدر بن جائے وہ اپنی جگہ خود کو اخلاقیات واقدار کی پابند ی سے مبرا سمجھنے لگتا ہے۔ گھر میں والدین اور بڑے بہن بھائی بجائے خود کہ چھوٹوں کیلئے اچھی مثال پیش کریں اپنی حیثیت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایسے کردار وعمل کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں جن کی دیکھا دیکھی بچے بگڑنے لگتے ہیں۔ بچوں کا اپنے بڑوں سے اثر لینا فطری امر ہے، دفتر میں حاکم کیلئے جو قوانین ہیں وہ ماتحت کیلئے نہیں، ہر جگہ ایک تفاوت اور تضاد پر مبنی صورتحال ہے جس سے معاشرہ بگڑ رہا ہے۔ حکومت کے پاس ہر مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی حکومت ہر شخص کو گلی میں کوڑا کرکٹ پھینکتے ہوئے روک سکتی ہے، بطور شہری اور خاص طور پر بطور مسلمان ہمیں اپنے دین ومذہب اور اپنے معاشرے کے اقدار کے تحفظ اور بہتری کیلئے از خود توجہ دینی ہوگی تبھی جا کر اصلاح معاشرہ ممکن ہوگا۔
نوٹسز کا اجراء کافی نہیں، عملی روک تھام کی ضرورت
پی ڈی اے کی جانب سے کنٹینر سٹینڈ اور اڈوں کے مالکان کو بڑی گاڑیوں کے اڈے سے نکلتے ہوئے ٹائیروں پر مٹی اور کیچڑ لگائے نکلنے اور اس سے پیدا شدہ آلودگی، دھول اور سڑکوں کی گندگی وٹوٹ پھوٹ اور اس کے ماحول پر اثرات بارے ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے اور مناسب کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ماحول کی صفائی اور شہری املاک کے تحفظ کی ذمہ داری کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے اور ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس معاشرے میں توجہ دلانے تنبیہہ اور کبھی کبھار کارروائی سے صورتحال میں بہتری لانے کا امکان کم ہی ہے۔ ہمارے تئیں اس کا بہتر طریقہ نشاندہی ہونیوالے مسائل کی وجوہات کی روک تھام ہے اور ان وجوہات کی روک تھام بھی موقع پر جاکر قوانین پر عمل عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ پی ڈی اے کی جانب سے صرف اڈہ مالکان ہی کو پابند بنانا کافی نہ ہوگا بلکہ سروس سٹیشنز اور خاص طور پر کار شو رومز میں گاڑیاں سڑک کے کنارے دھونے اور مستری خانوی میں کچے فرش اور اس سے پھیلنے والے کیچڑ اور آلودگی جیسے امور کی بھی روک تھام ضروری ہوگی، صرف یہی کافی نہیں شہریوں کا سڑکوں پر گاڑیاں دھونے اور سڑک پر پانی کے بے دریغ بہانے کے عمل کا بھی سختی سے روک تھام کرنا ہوگا۔ پی ڈی اے کی اپنے عملے کو پوری طرح متحرک کئے بغیر محض انتہائی نوٹسز کا اجراء لاحاصل ہی ہوگا۔

اداریہ