Daily Mashriq


سعودی امریکہ نیوکلیئر مذاکرات اور مشرق وسطیٰ کا امن

سعودی امریکہ نیوکلیئر مذاکرات اور مشرق وسطیٰ کا امن

امریکی ایٹمی ٹیکنالوجی کو سعودی عرب منتقل کرنے کیلئے کئے جانیوالے مذاکرات نہ صرف سعودی۔ایرانی دشمنی میں اضافے کا اشارہ ہیں بلکہ اس سے ایران کے خلاف سعودی۔اسرائیلی غیر رسمی اتحاد میں مضبوطی کا عندیہ بھی ملتا ہے۔ امریکی ایٹمی ٹیکنالوجی کی ممکنہ منتقلی سے مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی مجوزہ منتقلی اس بات کی وضاحت بھی کرتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد سعودی حکومت کا ردِ عمل اتنا شدید کیوں نہیں تھا۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان سعودی حکومت کو مشکل میں ڈالنے کا سبب بنا ہے کیونکہ سعودی عرب کی حکومت کو مسلم دنیا کے دو مقدس ترین شہروں کا نگران اور محافظ سمجھا جاتا ہے لیکن یہی سعودی حکومت مسلمانوں کی تیسری مقدس ترین جگہ کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جس کی وجہ سے مسلم دنیا میں سعودی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ گزشتہ دنوں ترکی میں ہونیوالے اسلامی ممالک سمٹ میں سعودیہ کی نمائندگی سعودی بادشاہ، ولی عہد یا کسی اور سینئر حکومتی عہدیدار کی بجائے وزیرِ خارجہ، عادل الجوبیر، کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ اس سمٹ میں مسلم ممالک کے سربراہان کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کی بجائے فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا ہے۔ سعودی حکومت کیلئے اسرائیل کیساتھ گرم جوش تعلقات ہی واحد مسئلہ نہیں ہیں بلکہ ان تعلقات کا منظر عام پر آنا اور مشرقِ وسطیٰ اور عرب دنیا میں سعودی عرب کو امریکہ کا قریب ترین دوست سمجھا جانا سعودی حکومت کی مشکلات میں روز افزوں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ دوسری جانب یمن میں سعودی حملوں پر سعودیہ کی مخالفت کے باوجود امریکہ بھی ایران دشمنی میں سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ واشنگٹن اور ریاض کے خطے میں مفادات مشترک ہیں جن میں سب سے بڑا مفاد ایران کے اثر ورسوخ کو کم کرنا ہے۔ ٹرمپ کی سعودی حکومت کی حمایت اور خارجہ پالیسی میں نئی تبدیلیاں مشرق وسطیٰ میں عسکری توازن کو سعودی عرب کے حق میں تبدیل کرنے کا باعث بنیں گے۔ امریکی صدر کی جانب سے سعودی عرب کیساتھ حالیہ ڈیل میں سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کا ٹھیکہ وسٹنگ ہائوس الیکٹرک کمپنی اور دیگر امریکی کمپنیوںکو دیا جائے گا جس سے امریکہ کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ حکومت سے پہلے والی امریکی حکومتوں نے سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی تھی جس کی وجہ سے امریکی نیوکلیئر ٹیکنالوجی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو نقصان ہوا تھا۔ 2008ء میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یورینیم کی افزودگی پر معاہدہ ہوگیا تھا لیکن بعد میں امریکہ اس ڈیل سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ رواں سال نومبر میں امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کے سینئر ڈائریکٹر کرسٹوفر فورڈ نے کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی پابندیوں پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے کیونکہ یہ پابندیاں کوئی قانون نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2015ء میں ایران کیساتھ ہونیوالے معاہدے کے بعد امریکہ کیلئے دنیا کے دیگر ممالک کو یورینیم افزودگی سے روکنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔ سعودی عرب2030ء تک ملک میں 100 بلین ڈالر کی لاگت سے16 نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ سرکاری سطح پر، سعودی عرب ملک میں نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرکے تیل کی بچت کرنا چاہ رہا ہے جسے برآمد کرکے مزید زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں سعودیہ میں تیل کی ڈومیسٹک سطح پرکھپت میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کیساتھ یورینیم کی افزدوگی کے معاہدے کے بعد سعودی عرب خطے میں ایران کے برابر ہوجائے گا۔ سعودی عرب کے پاس یورینیم کے اپنے ذخائر موجود ہیں اور اپنے نیوکلیئر پروگرام کے آغاز کی کوششوں میں سعودی حکومت نے اکتوبر میں امریکہ، فرانس، جنوبی کوریا، روس اور چین کو اس حوالے سے ابتدائی معلومات کے ٹھیکے کیلئے بولی مانگی تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے سعودی حکومت کو دی جانیوالی رعایت مشرق وسطیٰ کے علاوہ شمالی افریقہ میں بھی ہتھیاروں کی ایک نئی ریس شروع کرنے کا باعث بنے گی۔ حال ہی میں ٹرمپ نے کانگریس کے سامنے یہ تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ ایران 2015ء میں ہونیوالے ایٹمی معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔ سعودی عرب کیساتھ بڑھتے ہوئے امریکی تعلقات کے تناظر میں ٹرمپ کی جانب سے کیا جانیوالا یہ انکار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کیساتھ خصوصی سلوک کی وجہ سے امریکی نیوکلیئر ٹیکنالوجی لینے والے دیگر ممالک بھی امریکہ سے یورینیم کی افزدوگی کی اجازت کا مطالبہ کریں گے۔ متحدہ عرب امارات اور مصر نے امریکہ کیساتھ اپنے ایٹمی معاہدوں میں یورینیم افزدوگی پر پابندی کو اس شرط پر منظور کیا تھا کہ یہ شرط مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک پر عائد کی جائے گی۔ سعودی عرب کی یورینیم افزودگی کے حصول کی کوششیں نئی نہیں ہیں اس حوالے سے سعودی عرب اور پاکستان کے قریبی تعلقات کو بھی شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت اور ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گی جس کی وجہ سے ایران کیساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے اسلحے اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔ یہ وہ صورتحال ہے جوکہ مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ (ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں