آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

اس ہفتہ وار کالم کی تیاری اور ترتیب کے وقت بلکہ پورا ہفتہ صوبے کے کونے کونے سے ملنے والے ایس ایم ایس مجھے اس امر کا احساس دلاتے ہیں کہ میں اپنے قارئین سے کس قدر قریب اور میرے قارئین کا مجھ پر کس قدر اعتماد اور بھروسہ ہے۔ مجھے کسی اور بات کا ملال نہیں سوائے اس کے کہ میں قارئین کی شکایات اور مشکلات کو دور کرنے کی طاقت واختیار کی حامل نہیں لیکن ایک گونہ اطمینان اس بات کا ہے کہ ان کے دکھ درد سنتی اور ان کو اُجاگر کرنے کا فرض نبھاتی ہوں۔ کال اٹنڈ کرنے سے گریز میری مجبوری ہے لیکن گزشتہ روز وانا جنوبی وزیرستان کا کوڈ دیکھ کر میں کال سننے پر مجبور ہوئی۔ میرے ایک محترم قاری نے بہت مہذب انداز اور مناسب الفاظ میں اس امر کی جانب توجہ دلائی کہ ان کے علاقے میں تعلیم، صحت اور شہری سہولتوں کا فقدان ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ اس علاقے کے عوام کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ مجھے وہاں کے حالات سے آگاہی دینے کے بعد ان کا یہ حق جتانا اچھا لگا کہ میں اگر ان کے مسائل اُجا گر نہ کروں تو پھر کون کرے۔ مجھے اپنے قبائلی بھائی سے بات چیت میں کم ازکم یہ اطمینان ضرور ہوا کہ اب وانا اور جنوبی وزیرستان میں لوگوں کا رجحان کس جانب ہے وہ حکومت وقت سے اپنے مسائل کا حل اور میڈیا سے اس بارے تعاون کے خواہاں ہیں جو یقیناً ان کا بنیادی حق ہے۔ جنوبی وزیرستان میں سوچ اور انداز فکر کی یہ تبدیلی خوش آئند ہے مگر یہاں کے عوام جن مسائل کا شکار ہیں وہ کچھ کم سنگین نہیں، گوکہ پاک فوج بھی اس علاقے میں اپنے تئیں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہے لیکن بہرحال یہ بنیادی ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے کہ وہ وانا جنوبی وزیرستان سمیت پورے قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی اور سہولیات کا وہ معیار مہیا کرے کہ یہاں کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دنوں کی مشکلات بھول جائیں اور ان کو اس امر کا احساس تک نہ رہے کہ وہ پسماندہ اور نظر انداز شدہ حصے کے باسی ہیں۔ ملاکنڈ درگئی ہیروشاہ سے محمد احتشام نے ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے جو صرف ان کے علاقے کا نہیں بلکہ من حیث المجموع ملک بھر کے عوام کا مسئلہ ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ سڑکوں کی تعمیر کے وقت سارا علاقہ بے ہنگم طریقے سے کھود کر جس طرح مٹی اور گرد وغبار کا طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے اگر مناسب طریقے سے کھدائی کرتے ہوئے چھڑکاؤ کا بندوبست کیا جائے تو موزوں ہوگا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں رپیڈ بس منصوبے کیلئے کھدائی کرنے والے اگر چاہیں تو کام زیادہ بہتر طریقے اور عوام کو مٹی اور دھول چٹائے بغیر بھی انجام دے سکتے ہیں، خاص طور پر یونیورسٹی روڈ کے اطراف میں جو بے ہنگم اور بے موقع کھدائی کی گئی ہے اس سے ٹریفک اور بدترین آلودگی کے ہر دو مسائل سنگین سے سنگین تر صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ملک گل زمان ضلع ٹانک اس مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ان کے علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے لوگ بیس میل دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ جے یو آئی (ف) کے فضل الرحمن اور پی ٹی آئی کے داور کنڈی کے حلقوں میں آتا ہے۔ ایک مرکز کے حکمران کا منظور نظر اور دوسرا اب تک حکمران جماعت کا ایم این اے، اب اختلافات ہیں تو اپنی جگہ، وہ اگر چاہتے تو صوبائی حکومت سے مسئلہ حل کروا سکتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن جیسے ہر دور حکومت میں اقتدار کے ایوانوں سے چمٹے رہنے والے شخص کے حلقے میں اس طرح کی صورتحال بہت دکھ کی بات ہے۔ جو حکمران اور ان کے نمائندے وچہیتے اپنے علاقے کے عوام کو آبنوشی کی سہولت دینے کی سعی کی زحمت نہ کرتے ہوں ان سے بھلا کوئی توقع کیا رکھے۔ چارسدہ سے بی ایس کے طالب علم عبداللہ خان بی ایس کے طلبہ کو چوتھے سمسٹر کے بعد ایسوسی ایٹ ڈگری دینے کی تجویز دیتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کی تجویز اس لئے بھی مناسب ہے کہ اگر کوئی طالب علم کسی بھی وجہ سے آٹھ سمسٹرز مکمل نہ کر سکے تو کم ازکم ان کے پاس دوسالہ ایسوسی ایٹ کی سند تو ہوگی جو بی اے کے برابر گردانا جائے تاکہ ان کی محنت ضائع نہ ہو۔ اعلیٰ تعلیم کے حکام کو اس تجویز پر سنجید گی سے غور کرنا چاہئے شیرپاؤ سے مصطفی کمال کہتے ہیں کہ ان کے والد محکمہ صحت کے ذیلی ادارہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ PGMIحیات آباد پشاور میں بطور نائب قاصد کام کرتے تھے، ان کی وفات کے وقت میری عمر کم تھی اسلئے Employee son کوٹہ میں درخواست نہیں دے سکا۔ اب گریجویشن کرنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، وزیر صحت شہرام خان ترکئی اور شکایات سیل کو کئی درخواست دینے کے باوجود مجھے بطور جونیئر کلرک والد مرحوم کی جگہ نوکری نہیں مل سکی ہے۔قانونی اور اصولی طور پر ایک سال کے اندراس طرح کی تقرری ہونا ہوتی ہے بہر حال اپنی نوعیت کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس میں پہلے ہی تاخیر ہو چکی ہے بہتر ہوگا کہ متلعقہ حکام ہمدردانہ طرز عمل اپنائیں ۔ بنوں ٹاؤن ضلع بنوں سے ذیشان کو شکوہ ہے کہ مہینہ قبل ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہری لگائی تھی مگر کچہری میں بیان کردہ مسائل جوں کے توں ہیں۔ سرکاری کھلی کچہریوں کا انعقاد عوام کے مسائل کا حل کم اور دربار لگانا زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح شکایت سیل کا قیام بھی تکلفاً ہی عمل میں لایا جاتا ہے۔ سرکاری حکام اندھے بہرے نہیں کہ ان کو عوامی مسائل معلوم نہیں، میڈیا کو بھی خوش کرنے کیلئے مسائل کو اُجاگر کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ بصارت اور بصیرت رکھنے والوں کیلئے کسی آگاہی اور نشاندہی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ سرکاری عمال ایمانداری اور دیانتداری سے توجہ دیں تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں عوامی نمائندے مفاد پرستی سے ہاتھ کھینچ لیں تو سرکاری حکام کی مجال نہیں کہ وہ غفلت کا ارتکاب کریں اور بدعنوانی میں ملوث ہوں افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ وعدے اور دعوؤں میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوام چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کیلئے تڑپ رہے ہیں۔

اداریہ