Daily Mashriq


کیا بھروسہ ہے زندہ گانی کا

کیا بھروسہ ہے زندہ گانی کا

کل ایک بہت ہی پیارے دوست کے والد صاحب اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، شاندار انسان تھے محلے کی مسجد کا مکمل انتظام وانصرام ان کے ہاتھ میں تھا۔ ان کا دل ہر وقت مسجد میں اٹکا رہتا تھا سفر آخرت پر روانہ ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے بھی بیٹے سے کہتے رہے کہ میں نے نماز پڑھنی ہے! جب بھی ان سے ملاقات ہوتی بڑی محبت سے ملتے، خوبصورت باتیں کرتے۔ وہ92 برس اس جہان ناپائیدار میں رہے ان کی رخصتی پر خیال آتا ہے کہ زندگی کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ایک دن جانا ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست اکثر کہتے ہیں یار اس پتنگ نے ایک دن ضرور کٹنا ہے! زندگی گزرتی ہے اور گزر رہی ہے۔ یہ ریشم واطلس وکمخواب پر بھی گزاری جاتی ہے اور ٹاٹ کے بوریے پر بھی گزر جاتی ہے۔ یہ ایک مہلت ہے ایک انعام ہے اس کی قدر کی جانی چاہئے، دنیا کے چند روزہ قیام کی اہمیت اسلئے بھی بہت زیادہ ہے کہ آخرت کا دارومدار بھی اسی زندگی کے اعمال پر ہے۔ دنیا میںحضرت انسان کو جو وقت ملا ہے اس حوالے سے باتیں تو بہت ہیں حقوق اللہ بھی ہیں اور حقوق العباد بھی، سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ یہ تو پل صراط کا سفر ہے زرا سی نظر چوکی اور بندہ تحت الثریٰ میں پہنچ گیا، یہاں عمر بھر کی عبادتیں رائیگاں بھی چلی جاتی ہیں اور بظاہر چھوٹا نظر آنیوالا عمل انسان کی بخشش کا سامان بھی بن جاتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اخلاق کے اعلیٰ معیار کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، سینے پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے کو اعلیٰ اخلاق نہیں کہتے صرف مسکرانا بھی اعلیٰ اخلاق نہیں ہے، اعلیٰ اخلاق کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ اخلاق یہ ہے کہ وعدہ کرے تو وفا کرے، بات کرے تو سچ بولے، زبان کا استعمال احتیاط سے کرے، غرور سے بچے، ہر انسان کو اپنے سے بہتر سمجھے، اپنی سوچ کو مثبت رکھے، لوگوں کی اچھائیاں مدنظر رکھیں اور اپنی خامیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ جب اپنے آپ پر نظر نہیں پڑتی اور اپنے من میں غوطہ لگانے کا موقع نہیں ملتا تو دوسروں کے عیب خوب نظر آتے ہیں اور جب اپنی خامیوں پر دیانتداری سے نظر ڈال لی جائے، اپنے آپ کو پہچان لیا جائے تو پھر نگاہوں میں کوئی انسان بھی برا نہیں رہتا اسلئے اپنے گریبان میں بھی جھانکتے رہنا چاہئے۔ ایک دوست نے شہر کے پوش علاقے میں بڑا خوبصورت گھر تعمیر کیا، گھر کا نقشہ بھی خوبصورت تھا اور اسکی تعمیر میں بھی ہر پہلو سے خوبصورتی اور سہولتوں کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ جب نئے گھر کیلئے سامان باندھا جانے لگا تو ہمارے دوست کی والدہ محترمہ اچانک اُداس ہوگئیں، بیٹے نے دل گرفتگی کی وجہ پوچھی تو ماں جی کہنے لگیں بیٹا! میرے سب بچے بہن بھائی یہاں میرے قریب ہیں جس سے دل چاہتا ہے میں چند قدموں کا فاصلہ طے کرکے مل لیتی ہوں، اب آپ کا نیا گھر کافی دور ہے آپ کو نیا گھر مبارک ہو لیکن میں اپنے آبائی گھر کو نہیں چھوڑ سکتی، آپ میری فکر نہ کیجئے میں خوش ہوں آپ نئے گھر منتقل ہوجائیے۔ فرمانبردار بیٹا ماں کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا، ماں جی ہمیں نئے گھر سے پیار تو ہے لیکن آپ ہمیں زیادہ پیاری ہیں، ہم آپ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ بیٹے نے نئے گھر جانے کا خیال ترک کردیا۔ اب تک کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہومز میں منتقل کرچکے ہیں۔ انہوں نے جن بچوں کیلئے رات دن محنت کی، انہیں اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ہر نعمت مہیا کی،انہیں کمزور پودے سے ایک تناور درخت بنا دیا اور جب وہ بوڑھے والدین کو سایہ دینے کے قابل ہوئے، جب والدین کے اعضاء کمزور ہوگئے اور وہ زندگی کے تلخ حقائق کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے تو انہیں اولڈ ایج ہوم میں منتقل کر دیا گیا۔ گھر سے باہر آپ سب لوگوں سے ہنس ہنس کر خوش اخلاقی سے ملیں لیکن گھر میں بوڑھے والدین کیلئے آپ کے پاس دو منٹ بیٹھنے کا وقت بھی نہ ہو تو یہ اخلاق نہیں ہے! یہ کم ظرفی ہے، بد بختی ہے، گھٹیا پن ہے! سیانے کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کی اصلیت جاننے کا شوق ہو تو یہ دیکھئے کہ اس کا سلوک اپنے محسن کے ساتھ کیسا ہے جو اپنے محسن کے ساتھ اچھا سلوک روا نہیں رکھ سکتا اس نے کسی اور کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ افسران بالا کیساتھ تو سب ہی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ آپکا سلوک اپنے چپراسی کیساتھ کیسا ہے؟ جو آپ کے دست نگر ہیں ان کیساتھ آپکا رویہ کیسا ہے؟ غریب شخص اگر عاجزی اختیار کرتا ہے تو یہ اس کی ضرورت ہے اسکا مزاج ہے اچھا اخلاق تویہ ہے کہ امیر آدمی میں انکساری ہو وہ تکبر وغرور سے بہت دور ہو، اعلیٰ ظرفی یہی ہے کہ اپنے سے کم حیثیت کے شخص سے بھی جھک کر ملا جائے جس سے آپکی ذات کو فائدے کی امید ہو اس کیساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا آپکی ضرورت ہے اچھا اخلاق یہ ہے کہ ایک شخص سے آپکو کسی قسم کے فائدے کی کوئی اُمید نہ ہو اور آپکا رویہ اس کیساتھ شاندار ہو۔

متعلقہ خبریں