Daily Mashriq


حسرتِ تعمیر

حسرتِ تعمیر

دسمبر2017کے دوران دلیپ کمار95 برس کے ہوگئے اور 79برس کے ششی کپور اس دنیا سے چل بسے۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے ان ہر دو لیجنڈری اداکاروں کے متعلق یہ دونوں خبریں قدیم پشاور کے شہریوں کیلئے بڑی اہمیت کی حامل تھیں۔ اسی لئے اہلیان پشاور نے ڈھکی منور شاہ اندر شہر میں واقع کپور فیملی کی آبائی حویلی پہنچ کر ششی کپور کے انتقال پرملال کے سوگ میں شمعیں روشن کیں اور پریس کلب پشاور میں یوسف خان دلیپ کمار کی 95 ویں سالگرہ کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے ان کو دلیپ کمار کی سالگرہ کی مبارک باد دی۔ اللہ رکھے دلیپ کمار کو۔ اہلیان پشاور سالہا سال سے دسمبر کے مہینے کی11 تاریخ کو ان کی سالگرہ کی خوشی میں کیک کاٹتے ہیں اور تالیاں بجا کر ’’ہیپی برتھ ڈے ٹو یو‘‘ کے طربیہ بول گنگناتے ہیں۔ پشاور میں یہ روایت جانے کب سے چل رہی ہے۔ سال کے آخری مہینے کی گیارہ تاریخ کو یہ سب کچھ ہوتا ہے اور پھر پورا سال خاموشی چیختی رہتی ہے اور کوئی بھی سن نہیں پاتا اس کی آواز اور سنے تو کسی کی سمجھ ہی میں نہیں آتی خاموشیوں کی یہ زبان۔ جب تک دلیپ کمار زندہ ہیں، پشاور والے ان کی سالگرہ منانے کی روایت جاری رکھیں گے اسلئے کہ وہ پشاوری ہونے کے ناتے پشاوریوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔ دلیپ قصہ خوانی بازار سے منسلک محلہ خداداد پشاور میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی مکان اب بھی موجود ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے پریس کلب پشاور میں منعقد ہونیوالی دلیپ کمار کی90 ویں سالگرہ کی وہ تقریب جس میں اس وقت کے صوبائی وزیر اطلاعات سید افتخار حسین شاہ مہمان خصوصی تھے جن کی موجودگی میں دلیپ کمار کے آبائی مکان کو پشاوریوں کا اثاثہ گردانتے ہوئے اس کی حفاظت اور پشاور کی سیر کیلئے آنیوالوں کیلئے قابل دید اور پرکشش بنانے کی تجویز زیر غور آئی تھی۔ کم وبیش پانچ برس بیت گئے۔ کیا پیش رفت ہوئی؟ کیا دلیپ کمار کا مکان اس آدرش کو حاصل کرسکا جس کے خواب بن رہے تھے دلیپ کی سالگرہ منانے والے۔ جب ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی غرض سے پشاور شہر کے محلہ خداداد میں دلیپ کمار کے آبائی مکان کی جانب دیکھتے ہیں تو وہ ہمارے سوال کا جواب دینے کی بجائے اپنے روٹھے لہجے میں ہم سے بہت کچھ پوچھتا نظر آتا ہے۔ اپنی ناگفتہ بہ خستہ حالی کا شکوہ کرتے ہوئے کہتا نظر آتا ہے کہ ’’کدھر گئے وعدے وہ قسمیں وہ باتیں جو آپ کرتے رہے ہیں اپنی لمبی لمبی دھواں دھار تقریروں میں‘‘۔ محکمہ آثار قدیمہ اور پشاور کے عجائب گھر والوں نے محلہ خداداد پشاور کی گلیوں میں ایستادہ اس خستہ حال مکان کو اک اہم یادگار قرار دیا تھا۔ اس مکان کی چھت اور اس کی گرتی دیواریں زبان حال سے اپنی بے بسی اور خستہ حالی کا رونا رو رہی ہیں لیکن کوئی بھی نہیں ان کی داد رسی کرنیوالا۔ آج سے پچانوے برس پہلے11 دسمبر 1922کو خوشیوں کے کتنے رنگ جگمگائے ہونگے نومولود یوسف خان کے اس مکان کے در ودیوار پر۔ پشاور کی قدیم ثقافت کے مطابق گلی گلی پھر کر نومولود کے سون سہرے گانے والے ڈھول تماشے لیکر محلہ خداداد میں ایستادہ اس مکان کے سامنے شہنائیاں بجا بجا کر ودھائیاں اور ویلیں بٹورنے آئے ہونگے کتنے خوش کن منظر ہونگے ان دنوں جب یوسفِ پشاور نے اس گھر میں آنکھ کھولی ہوگی اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کتنا افسردہ لگ رہا ہے یہ بوڑھا مکان، کاش دلیپ کمار سے محبت کرنے والے پشاوری اس کی پچانویں سالگرہ اس مکان میں مناسکتے لیکن سردست ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اس مکان کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر اس کو دلیپ جیسی شخصیت کے شایان شان بنانے کے تمام دعوے سوڈے کی بوتل کی ’شوں شاں‘ سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئے، منہدم ہوگئے وہ سارے خواب اس بوسیدہ مکان کے در وبام بن کر۔ بالی وڈ فلم انڈسٹری میں پشاور کا نام روشن کرنے والوں میں صرف یوسف خان، دلیپ کمار کا نام شامل نہیں۔ پرتھوی راج کپور، شاہ رخ خان کے والد تاج محمد، عدنان سمیع خان اور شوبز کے دیگر بہت سے جگمگاتے ستاروں کا آبائی تعلق پشاور سے رہا ہے۔ پشاور کی ڈھکی منور شاہ میں ایستادہ بالی وڈ فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی کپور فیملی کی حویلی آج بھی اپنے آغوش میں پلنے والے نامور پشاوریوں کی یاد تازہ کر رہی ہے۔ اس حویلی میں پرتھوی راج کپور نے آنکھ کھولی تھی۔ بالی وڈ فلم انڈسٹری کے لیجنڈ ششی کپور اپنے پرکھوں کی اس نشانی کو دیکھنے پشاور آئے تھے۔ اہلیان پشاور نے اپنی روایتی مہمان نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کا والہانہ استقبال کیا تھا۔ دلیپ کے آبائی مکان کی طرح اس حویلی کو بھی آثار قدیمہ کے ارباب بست و کشاد نے قومی ورثہ قرار دیا تھا، لیکن ہم گاہے بگاہے اس یادگار حویلی کو مسمار کرنے کی کوشش پر مبنی خبریں سنتے آئے ہیں۔ ششی کپور کے اس دنیا سے چل بسنے کے بعد کپور فیملی سے محبت رکھنے والے اہلیان پشاور نے اپنی بے پناہ محبتوں اور بے بدل وفاؤں کے تقاضے نبھاتے ہوئے اس حویلی کی چوکھٹ پر محبتوں کی شمعیں روشن کیں لیکن اس کے چند ہی دن بعد ہی ہم نے روزنامہ مشرق پشاور میں اہلیان پشاور کے اس قومی ورثے کو مسمار کرنے کی کوشش کے متعلق خبر پڑھی اور ساتھ ہی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے یہ طفل تسلی بھی پڑھنے کو ملی مارچ 2018ء سے ان دو یادگار عمارتوں کی بحالی کا کام شروع ہوجائیگا۔

گھر میں تھا کیا، ترا غم اسے غارت کرتا

وہ جو رکھتے تھے ہم حسرتِ تعمیر، سو ہے

متعلقہ خبریں