مشرقیات

مشرقیات

شیخ عمر ؒ کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ کی کوئی مجلس وعظ ایسی نہ تھی کہ جس میں یہود ونصاریٰ اسلام قبول نہ کرتے ہوں ۔ ایک بار ایک عیسائی راہب جس کا نام سنان تھا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی مجلس میں حاضر ہوا اورمشرف بہ اسلام ہوگیا پھر اس نے مجمع عام میں کھڑے ہوکر کہا۔ میں یمن کا رہنے والا عیسائی ہوں ۔ اگر چہ مجھے اپنی قوم میں بلند درجہ حاصل تھا لیکن مذہب کے معاملے میں عجیب سی خلش محسوس ہوتی تھی ۔ پھر یہ ذہنی خلش بڑھتی چلی گئی اور میں نے چند مسلمان علماء سے رجوع کیا۔ مجھے ان کے عقائد درست معلوم ہوئے یہاں تک کہ میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میری خواہش تھی کہ میں اس شخص کے ہاتھ پر ایمان لائوں جو یمن میں سب سے زیادہ پرہیز گار اور شرع کا پابند ہو۔ ابھی میں ایسے شخص کو تلاش ہی کر رہا تھا کہ ایک رات مجھے نیند آگئی۔ میں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خواب میں دیکھاآپ فرمارہے تھے۔ سنان! تم بغداد جائو اور شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر و کیونکہ وہ اس وقت تمام لوگوں سے افضل ہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے دست مبارک پر پانچ ہزار سے زیادہ یہودی اور عیسائی مسلمان ہوئے ۔
ایاس بن معاویہ اپنے دور کے بہت بڑے عالم اور قاضی تھے۔ ایک آدمی نے ان کے ایک سیکرٹری (امین)کے پاس کچھ مال بطور امانت رکھا ۔ وہ آدمی امانت رکھوا کر مکہ روانہ ہوگیا ۔ کچھ دنوں بعد واپس آیا تو قاضی کے سیکرٹری سے اپنی رکھی ہوئی امانت طلب کی لیکن اس نے امانت واپس کرنے سے انکار کر دیا۔
وہ آدمی قاضی ایاس کی خدمت میں حاضر ہوا اورمعاملے کی نوعیت سے آگاہ کیا ۔ قاضی ایاس: میرے سیکرٹری کے پاس مال بطور امانت رکھتے ہوئے کسی کو بتایا تھا؟ اس نے جواب دیا : نہیں اس معاملے سے کوئی دوسرا واقف نہیں قاضی ایاس: واپس جائو اپنا معاملہ چھپائے رکھو، دودنوں کے بعد میرے پاس واپس آنا۔ وہ آدمی واپس چلا گیا تو قاضی ایاس نے اپنے سیکرٹری کو بلایا اور کہا: میرے پاس بہت سارا مال اکٹھا ہوگیا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تیرے پاس رکھ دوں، کیا تیر ا گھر محفوظ ہے ؟سیکرٹری نے عرض کیا : ہاں۔قاضی ایا س نے کہا : مال رکھنے کیلئے جگہ تیار کرو اور دو روز بعد چند آدمیوں کو لائو جو مال وہاں لے جا کر رکھیں۔ دو دن بعد وہ آدمی قاضی ایاس بن معاویہ کی خدمت میں حاضر ہواتو قاضی نے اس سے کہا : تم نے جس سیکرٹری کے پاس مال بطور امانت رکھا تھا اس کے پاس جائو اور اپنا مال طلب کر و، اگر وہ تمہاری امانت واپس کر دیتا ہے تو ٹھیک ورنہ اس سے کہنا کہ میں اس مقدمے کو قاضی تک پہنچائوں گا۔وہ آدمی اس سیکرٹری کے پاس آیا اور کہا: میرا مال واپس کر و ، ورنہ قاضی کے پاس جا کر شکایت کرونگا ، چنانچہ سیکرٹری نے اس کا مال واپس کر دیا۔ پھر وہ سیکرٹری قاضی ایاس کے فرمان کے مطابق اپنے گھرا ن کا مال رکھنے کیلئے حاضر ہوا تو قاضی ایاس نے اسے بری طرح جھڑ کا اور کہا:’’لا تقربنی یا خائنـ‘‘تم میرے قریب بھی مت آئو اے خائن!۔
(طرائف من التراث العربی)

اداریہ