Daily Mashriq

ضیاع آب بارے مئوثر قانون سازی اور نفاذ کی ضرورت

ضیاع آب بارے مئوثر قانون سازی اور نفاذ کی ضرورت

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے پائپ لگا کر گاڑیاں دھونے پر پابندی اور اس ضمن میں قانون سازی کی ہدایت صوبہ پنجاب کی حد تک ہی احسن حکم کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ اس طرح کی فوری قانون سازی کر کے ملک بھر میں اس کے مئوثر نفاذ کی ضرورت ہے ۔ اس حقیقت سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح بتدریج کم ہوتی جارہی ہے اور زیادہ مقدارمیں پانی کشید کرنے کے باعث نہ صرف زیر زمین پانی ختم ہونے کا خطرہ ہے بلکہ زمین کے اندر خلاپیدا ہونے کے باعث زمین کے دھنس جانے اور عمارتوں کا توازن بگڑنے کا خطرہ ہے قدرت کی طرف سے مہربانی ہو تو نہیں کہا جا سکتا علاوہ ازیں جس قسم کی صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے اس سے خدانخواستہ قحط اور خشک سالی کی صورتحال کا خطرہ ہے جو انسانوں سے لیکر حشرات الارض تک کی ہجرت کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں سات سال بعد آبی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے جس کیلئے منصوبہ بندی اور متبادل انتظامات پر زور دیا جارہا ہے لیکن وسائل اور منصوبہ بندی کی صورتحال اس درجے کی نظر نہیں آتی کہ ان سات سالوں کے دوران ہم خودکو متوقع صورتحال کیلئے تیار کر سکیں۔ یہ ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے پانی کے زیر زمین ذخائر کے تیزی سے ختم ہونے کی سب سے بڑی وجہ مشین لگا کرپانی نکالنے اور پانی کا بے دریغ استعمال اور ضیاع ہے جس پر جب تک ہر شہری توجہ نہ دے تو بہتری ممکن نہیں۔شہریوں کو اس امر پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیئے کہ وہ رقم خرچ کرنے اور دیگران معاملات میں جو ہماری انفرادی ضرورتوں سے متعلق ہیں ہم کفایت اور بچت دونوں ہی کی سعی میںہوتے ہیں مگر جہاں قدرتی وسائل کامعاملہ آئے خواہ وہ جنگلات ہوں یا پانی کی نعمت اور دولت ہم اسے جس بے دریغ طریقے سے بروئے کار لانے کے عادی بن چکے ہیں اگر اس عادت میں تبدیلی نہ لائی جائے تو بعید نہیں کہ یہ نعمتیں بھی ناپید ہوجائیں اور ان کا حصول مہنگے داموں ہو جائے ۔تب احساس تو ہوگا مگر اس وقت کا احساس لا حاصل اور غیر ضروری اور بے جا ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے گاڑیاں پائپ لگا کر دھونے کی بجائے بالٹی میں پانی ڈال کر دھونے کا حکمنامہ ایک علامتی ابتداء اور مسئلے کی سنگینی کا احساس دلانے کا حامل ہی معاملہ ہے وگرنہ دیکھا جائے تو ہم صرف گاڑیاں دھوتے ہوئے ہی پانی کا ضیاع نہیں کرتے بلکہ گھروں کے نلکے دن رات کھلے ہوتے ہیں پانی گلی اور سڑکوں پر بہہ رہا ہوتا ہے مگر متعلقہ شہری حکام جن کے پاس اس کی روک تھام کی ذمہ داری اور قوانین موجود ہیں اس کی روک تھام کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس ضمن میں جہاں سرکاری اہلکاروں کو پابندی سے اس عمل کی روک تھام کی ذمہ داری پوری کروانی چاہیئے وہاں پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ، پی ڈی اے اور بلدیہ ٹیوب ویل چلانے کے اوقات میں کمی لا کر بجلی کی بچت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پانی کے استعمال میںکفایت پر مجبور کرے ،پانی کے ضیاع کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جائے اور موجودقوانین کوبروئے کار لا کر پانی کا کنکشن کاٹنے اور جرمانہ عائد کرنے میں رعایت نہ برتی جائے۔ شہریوں کے گھروں میں پانی کا میٹر لگایا جائے اورپانی کے استعمال کے مطابق فی یونٹ کے حساب سے بل وصول کیا جائے۔ پانی کے یکساں اور مقررہ بل وصولی کے غیر منصفانہ نظام کا خاتمہ کیا جائے بغیر میٹر اور غیر قانونی کنکشن پانی کے حصول کو ناممکن بنایا جائے۔ اس سے ڈبلیو ایس ایس پی کو خاص طور پر اور پی ڈی اے کو ممکنہ حد تک خطیر رقم میسر آئے گی۔ پانی کے ضیاع کی ایک بڑی وجہ شکستہ اور زنگ آلود پائپ ہیں ان پائیپوں کی مرمت اور رسائو بند کرنے میں متعلقہ ادارے اپنے فرائض پر توجہ دیں۔ خیبر پختونخوا کے قانون ساز مجلس کے اراکین اور عوامی نمائندے پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے سخت سے سخت قوانین کا بل متفقہ طور پر منظور کرائیں اور اس کے مئوثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں میں پانی کفایت سے استعمال کرنے کی مہم چلائی جائے اور شعور اجا گر کیا جائے شہریوں کو احساس دلایا جائے جبکہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میںبچوں کو خاص طور پر پانی کی اہمیت، اس کے گھٹتے ذخائر اور اس کے کفایت سے استعمال میں ان کی ذمہ داریوں سے باقاعدہ آگاہ کیا جائے اور سکول میں ان کی باقاعدہ تربیت اس طرح سے کی جائے کہ وہ نہ صرف خود پانی کا باکفایت استعمال سیکھیں بلکہ اس کے ضیاع کی روک تھام کیلئے رضا کار بن کر کام کریں۔پانی کی بچت ایک قومی ضرورت بنتی جارہی ہے جس پر بروقت توجہ اور اقدامات کے ذریعے ہی اس مسئلے کو سنگین سے سنگین تر ہونے سے روکا جا سکتا ہے ۔ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ قدرت کی اس نعمت کا جس بے دردی کے ساتھ ہم ضیاع کرتے جارہے ہیں اس کا حساب اسی دنیا میں ہی دینے کی نوبت آگئی ہے اس دنیا میں تو ایک ایک نعمت کا حساب ہوگا۔کیا اس کے باوجود بھی ہم باز نہیں آئیں گے ؟۔

متعلقہ خبریں