Daily Mashriq


پشاور کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کی سفارشات

پشاور کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کی سفارشات

خیبر پختونخوا حکومت نے نئے بلدیاتی نظام میں پشاور کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارشات مرتب کر لی ہیں جس کے تحت شہری علاقے کیلئے علیحدہ جبکہ دیہی علاقے کیلئے علیحدہ ناظم ہوگا اسی طرح دیہی اور شہری کونسل کے ارکان کیلئے الگ انتخابی عمل ہوگامحکمہ بلدیات نے نئے قانون کیلئے ترامیم کو بھی حتمی شکل دے دی سفارشات کے مطابق میٹروپولیٹن سٹی کے ناظم کے ماتحت دیگر ناظمین سے زیادہ محکمے ہوں گے اور وہ صوبے کا سب سے طاقت ور ناظم تصور ہوگا ۔ ٹریفک وارڈن پولیس، پولیس، واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی اور آثار قدیمہ بھی پشاور کے شہری ناظم کو جواب دہ ہوں گے۔ صوبائی دارالحکومت کا پھیلائو اور اس کے مسائل کی پیچیدگی اس امر کے متقاضی ہیں کہ اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کی وکالت کی جائے لیکن اگر دوسری جانب ہم سب سے بڑے شہر کراچی سے موازانہ کریں تو پشاور اس کے ایک چوتھائی حصے کے برابر بھی نہیں جبکہ آبادی کے لحاظ سے بھی اسی طرح کی صورتحال بنتی ہے ۔ شہری اور دیہی کی تقسیم سے محصولات وآمدن اور وسائل کی بھی تقسیم ہوگی جو الگ ایک مسئلہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی تقسیم کے فوائد ونقصانات کا ایک سرکاری وعوامی تجزیہ کرنے کے بعد حتمی فیصلہ مناسب ہوگا جہاں تک شہری اداروں کے عمال کو اس نظام میں جوابدہ بنانے کا سوال ہے اگر پولیس پی ڈی اے یا پھر اس جیسے دیگر بڑے ادارے حقیقی معنوں میں مقامی حکومت کو جوابدہ بنائے جائیں اور اس کے معاملات شہری حکومت چلانے کی مئو ثر طور پر نگرانی اور کارروائی کا حامل بنادیا جائے تو پھر اس سے بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا اور بعض اداروں کو اس کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا جاتا ہے تو پھر یہ ایک تقسیم سے زیادہ اہمیت اور حیثیت کا حامل نہ ہوگا۔ اگر ہم کراچی جیسے بڑے شہر کی شہری حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیں تو کراچی کے میئر عبدالستار افغانی تو بابائے کراچی قرار پائے ۔ نعمت اللہ خان کی کارکردگی کو لوگوں نے سراہا مصطفیٰ کمال کی کارکردگی سے لوگ مطمئن پائے گئے علاوہ ازیں جتنے بھی میئر اور ناظمین آئے ان کی کارکردگی قابل تذکرہ نہیں رہی ۔ خیبر پختونخوامیں بھی بعض علاقوں کے ناظمین نیک نام رہے آج تک چا چا یونس کانام لوگ احترام سے کیوں لیتے ہیں ان ساری مثالوں کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو صرف عہدوں کی تقسیم اور عہدوں کی نوعیت اور نظام ہی اہم نہیں بلکہ افراد کی بھی اہمیت وانفرادیت قابل ذکر بن کر سامنے آتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت جو بھی فیصلہ کرے اس میں نظام کے مئوثر اور عہدیداروں کے بااختیار ہونے کے عمل کو اولیت دے گی جبکہ عوام باکردار اور مخلص نمائندوں کے انتخات کے ذریعے اپنا فیصلہ دیں گے تب جا کر اصلاح احوال اور بہتری ممکن ہوگی۔

بلین ٹری سونامی کی پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات، مثبت تجویز

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کے مطالبے پر صوبائی حکومت کا بلین ٹری سونامی منصوبے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان احسن اقدام ضرور ہے لیکن اگر اسے روایتی انداز کی بجائے حقیقی معنوں میں کمیٹی ثابت کیاجائے۔ بلین سونامی ٹری منصوبہ جہاں تحسین کا باعث ہے وہاں اس پر بعض ایسے اعتراضات بھی سامنے آتے رہتے ہیں جو سابق اور موجودہ حکومتوں کیلئے نیک نامی کا باعث نہیں ۔ اس پر سب سے بڑا الزام پودوں کے حصول وفراہمی میں بدعنوانی اور اقرباء پروری کا ہے جو تحقیقات کے بعد ہی درست یا غلط ثابت ہوسکتا ہے اس منصوبے کے تحت لگائے گئے پودوں کے ماحولیاتی اور علاقائی عدم موافقت اور اس کے فوائد کی بجائے نقصانات زیادہ ہونے کا اعتراض بھی نہایت سنگین اور توجہ طلب معاملہ ہے جس کا اگر پارلیمانی کمیٹی جائزہ لیکر متعلقہ ماہرین اور منصوبہ بندی کرنے والوں کا موقف سنے اور اس پر اپنی رائے دے تو ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے گا اور اگر ان اعتراضات کی حقیقت وزنی ہو تو پھر کم از کم اس غلطی کے آئندہ اعادے کی گنجائش محدودہوگی یا پھر اس کا امکان ختم ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے گوگل پر سرچ اور سیٹلائیٹ کے ذریعے لگائے گئے پودوں کا جائزہ لینے کا مشورہ فرار کا راستہ ڈھونڈنے کے مترادف ہے حکومت کے پاس اتنے وسائل اور سہولیات ہیں کہ وہ پارلیمانی کمیٹی اور میڈیاکے نمائندوں کو مختلف علاقوں کا دورہ کر کے حقیقت حال بچشم خود ملا حظہ کرواکر غلط فہمی دور کرواسکتی ہے جس سے احتراز شکوک وشبہات کا باعث ہے ۔ پارلیمانی کمیٹی جلد تشکیل دی جانی چاہیئے اور اس میں معترضیں وناقدین کے ساتھ ساتھ ایسے ارکان اسمبلی جو اس شعبے سے واقفیت رکھتے ہوں ان کو شامل کیا جائے اور تحقیقاتی رپورٹ جلد سے جلد ایوان میں پیش کر کے اصل صورتحال عوام کے سامنے لائی جائے ۔

متعلقہ خبریں