Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

سوات چھائونی

سوشل میڈیا پر جہاں بہت مفید معلوماتاور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے تجربات کانچوڑ اور بہت سارے قدرتی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیںوہاں اس کا منفی استعمال بھی کچھ کم نہیں ۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر سوات چھائونی کے حوالے سے یہ پروپیگنڈہ زیر گردش ہے کہ فوج بلامعاوضہ لوگوں کی اراضی پر قبضہ کر کے اسے کینٹ کا حصہ بنارہی ہے اس دور میں پولیس کسی کی زمین پر قبضہ کرنے سے ڈرتی ہے فوج تو اس قسم کی مبنی بر بدنامی کے حرکات میںملوث ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتی کینٹ کیلئے اراضی کا اس طرح سے حصول تو درکنار ذیلی ادارے ڈی ایچ نے بھی اراضی مالکان سے براہ راست زمین نہیں خریدی۔ ڈی ایچ اراضی کے حصول کیلئے ایک درمیانی کاروباری طبقے اور افراد کے ذریعے اراضی حاصل کرتی ہے ڈی ایچ اے حصول اراضی سے قبل اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اراضی ہر قسم کے تنازعات اور عدالتی معاملات سے پاک ہو۔ بہرحال فوج پر الزام لگ رہا ہے کہ جو کوئی کاروباری نہیں ملکی دفاع کا ادارہ ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے افسروں اور جوانوں کے لہو کی قیمت پر ارض پاک اور وطن عزیز کے لوگوں کی حفاظت کرے۔ اس پر انگشت نمائی غلط فہمی کا نتیجہ ہو تو نہیں سکتی لیکن پھر بھی ہم اس کی گنجائش رکھتے ہیں۔ یہ سراسر بہتان طرازی ہے کہ فوج کسی کی ذاتی ملکیت بلا معاوضہ لے سکتی ہے۔ اب تو خیر سے پنجاب میں مساجد جا کر پولیس لائوڈسپیکروں پر اعلان کرتی پھر رہی ہے کہ اگر کسی کی اراضی پر قبضہ کی کوشش کی جائے تو پولیس سے رابطہ کیا جائے ۔ بد قسمتی سے پاک فوج کے حوالے سے کبھی وزیرستان میں اور کبھی سوات میں ایسی کہانیاں گھڑی جارہی ہیں جس پر سادہ لوح لوگ یقین کرنے لگتے ہیں اور پردہ نشینوں کا دائو چل جاتا ہے ۔جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے فوج نے باقاعدہ ادائیگی کر کے اور عماید ین علاقہ کو اعتماد میں لے کر سوات میں چھائونی کی تعمیر اور رجمنٹ کی سطح کی چھوٹی کینٹ شانگلہ ، خوازہ خیلہ، مینگورہ گلی باغ، مٹہ اور ملاکنڈ ٹاپ پر بنارہی ہے۔جس کا بنیادی مقصد بوقت ضرورت فوری طور پر حرکت پذیری اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ ہے تاکہ پھر سوات آپریشن جیسے برے خواب کی نوبت نہ آئے اور لوگوں کو نہ صرف تحفظ حاصل ہو بلکہ ان کے علاقے کی ترقی وتعمیر میں بھی حصہ داری ہو سکے ۔چھائونی بننے کے فوائد کا جائزہ لیا جائے تو اولاً اس سے علاقے میں اراضی کی قیمت بڑھے گی سی ایم ایچ اور آرمی پبلک سکولز قائم ہوں گے تعلیم اور صحت کی سہو لتیں میسر ہوں گی اور سیاحت کو ترقی ملے گی۔ مواصلات کا نظام بہتر ہوگاان علاقوں کے نوجوانوں کو فوج میں شمولیت کے اضافی مواقع میسر آئیں گے وغیرہ وغیرہ۔قومی اداروں کے حوالے سے پروپیگنڈے کا جواب دینا ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں