Daily Mashriq

افغان امن مذاکرات

افغان امن مذاکرات

افغان امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے وزیراعظم عمران خان کی دعا میں سب کو شریک ہونا چاہئے۔ ابوظہبی میں جاری مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ممکن بنانے میں تعاون فراہم کیا ہے اور ان کو آگے بڑھانے میں جو بھی اختیار میں ہوگا پاکستان وہ کرتا رہے گا۔ سترہ سالہ جنگ آزمائی کے بعد آخرکار امریکہ اور طالبان براہ راست مذاکرات کی میز پر آئے ہیں۔ ان مذاکرات کو ممکن بنانے میں حالیہ پہل کاری امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آئی جب انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا اور طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے معاونت چاہی۔ لیکن پاکستان کیلئے یہ کام آسان ہرگز نہیں تھا۔ اس حوالے سے کس قدر کوشش کی گئی‘ کتنے مذاکرات کئے گئے یہ تفصیلات شاید تاریخ کے دفینے میں ہی رہیں گی۔ یہ کوششیں بارآور ہوئیں اور افغانستان میں قیام امن کیلئے باقاعدہ مذاکرات کے آغاز میں پاکستان کی ان کوششوں کا کردار مسلمہ ہے۔ تاہم امن مذاکرات ایک مشکل‘ دیر طلب اور اعصاب شکن کام ہے۔ مذاکرات میں شریک وفود کا اگرچہ قیام امن کے بنیادی نکتہ پر اتفاق ہے تاہم کوئی بھی وفد یہ نہیں چاہے گا کہ وہ سترہ سال کی خونریز جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دے۔ امریکہ اس بھاری اقتصادی اور انسانی نقصان کی متقاضی جنگ جاری رکھنا نہیں چاہے گا۔ لیکن نہ ہزیمت اپنے نام لینا چاہے گا اور نہ ہی علاقے میںموجودگی سے یکسر دستبردار ہونا چاہے گا۔ افغان طالبان کو اگرچہ جنگ میں فتح حاصل نہیں ہو رہی تاہم شکست بھی نہیںہو رہی لیکن گزشتہ سترہ سال کی جنگ میں جو کامیابیاں انہوں نے حاصل کی ہیں اور افغانستان کے جن عوام کا انہیں اعتماد حاصل ہے اس سے دستبردار نہیںہونا چاہیںگے۔ مذاکرات کا آغاز اس بات کی نشانی ہے کہ فریقین جنگ کے لاحاصل ہونے پر قائل ہو چکے ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر مکمل پسپائی کی طرف جانے کی توقع ان سے نہیںکی جا سکتی۔ تادم تحریر حاصل ہونے والی خبروں کے مطابق ابوظہبی میں امریکہ‘ طالبان‘ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب اور پاکستان کے وفود مذاکرات میں شامل ہیں۔ مذاکرات کے بارے میں اطلاع تھی کہ بدھ کے روز تک جاری رہیں گے تاہم کسی اہم پیش رفت کی بنا پر ‘شاید افغان حکومت کے مذاکرات میں شریک ہونے کے امکان پر‘ ممکن ہے اس مدت میں توسیع ہو جائے۔افغان حکومت کا وفد پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات میں شریک نہیںہوا کیونکہ طالبان انہیں امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دے رہے ہیں۔ (حالانکہ افغان امن طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی قابلِ قبول انتظام کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔) افغان حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر نے کابل میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے شرکت کی اور کہا گیا کہ اس اجلاس میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکان پر غور کیاگیا۔ بعد میںجاری ہونے والی خبروں کے مطابق طالبان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کر رہے ۔ اس کیساتھ ساتھ ان خبروں کی بھی تردید کی گئی ہے کہ طالبان چھ ماہ کی جنگ بندی اور اس دوران عارضی سیاسی انتظام پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز قابض فوجوں کا انخلا اور امریکی مظالم کا خاتمہ ہے۔بعد میں موصول ہونے والی خبروں کے مطابق افغان حکومت کا وفد کابل سے ابوظہبی روانہ ہو گیا ۔ جس کا مطلب ہے کہ کوئی ایسے امکانات موجود ہیں کہ مذاکرات قیام امن کی طرف آگے بڑھیں تاہم مختلف ذرائع ابلاغ سے جو خبریں فریقین کے مؤقف اور شرائط کے بارے میں آ رہی ہیں ان کی تو ثیق مذاکرات کے کسی مرحلے کی تکمیل کے بعد خود فریقین مذاکرات ہی کر سکیں گے۔ یہ خبر خوش آئند ہے کہ افغان حکومت کا وفد ابوظہبی روانہ ہو چکا ہے کیونکہ اصل فریقین افغان طالبان اور افغان حکومت ہی ہیں جنہیں افغانستان میں رہنا ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس جنگ سے باہر نکلنا چاہتا ہے لیکن افغانستان میں کسی سطح کی موجودگی کے انتظام پر رضامندی کے بعد لیکن افغانستان میں امن کی جتنی ضرورت خود افغانوں کو ہے جن کے ستر ہزار سے زیادہ لوگ اس سترہ سالہ جنگ میں جاںبحق ہو چکے ہیں ‘کتنے زخمی ہوئے ہیں اس کا اندازہ دستیاب نہیں۔ گزشتہ تیس سال سے معیشت برباد ہو رہی ہے ۔ تعلیمی ادارے کام نہیںکر رہے۔ یعنی آج کے افغانستان میں 35چالیس سال کے لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم نہیں پائی۔ طالبان تو کہا جاتا ہے کہ پچاس فیصد افغانستان پر قابض ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آبادی کا اعتماد طالبان کو حاصل ہے لیکن افغان حکومت کے زیرِ نگین جو علاقے ہیں اس کے عوام کی ذمہ داریوں سے یکایک دستبردار ہو جانا حکومت کے ارکان کیلئے محال ہے۔ پھر افغانستان میں جو آئین رائج ہے اس پر طالبان کے شدید تحفظات ہیں۔ افغان حکومت کے لیے مذاکرات کے عمل میںبھاری مشکلات ہیں۔ ان کی بغیر کسی قابلِ اعتماد انتظام کے پسپائی حکومت کے ارکان کے سیاسی مستقبل کا خاتمہ ہو سکتی ہے۔ اگر کسی معاہدے میں افغان عوام کے پرامن مستقبل کی ضمانت فراہم نہ کی جا سکی اور جلدبازی میں کوئی انتظام کر لیا گیا تو خدانخواستہ ایک بار پھر افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی صورتحال مذاکرات کی کامیابی کیلئے سازگار ہے۔ سعودی عرب اور عرب امارات کی مذاکرات میں شمولیت امید افزاء ہے کہ ان پر افغان طالبان اور حکومت دونوں کا اعتماد ہے اور امریکہ کے بھی ان کیساتھ نہایت اچھے تعلقات ہیں۔ تاہم افغانستان میں امن کی راہ طالبان اور افغان حکومت ہی تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ افغان عوام کی خاطر ایک دوسرے کو کتنی گنجائش دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں