Daily Mashriq


سیاست میں خوب اور ناخوب کے بدلتے معیار

سیاست میں خوب اور ناخوب کے بدلتے معیار

پاکستان کی سیاست میں مروج زبانوں میں ایک اشاروں کی زبان ہے۔ اشاروں کی زبان میں فیصلے ہوتے ہیں اور اشاروں ہی اشاروں میں تخت بچھتے بھی ہیں اور اُلٹ بھی جاتے ہیں۔ اشارہ ملتے ہی مخاطب متحرک ہوکر اپنا کام کرجاتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔ سابق صدر آصف زرداری نے اشاروں کی بات کرکے ایک بار پھر اشاروں کی زبان کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ آصف زرداری بے نامی اکاؤنٹس کیس میں اس وقت شدید مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں وعدہ معاف گواہ بن کر سارے راز اُگل چکے ہیں۔ اسی کا اثر ہے کہ اینٹ سے اینٹ بجانے کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ ایک بار پھر اشاروں کی زبان میں گرجے برسے ہیں۔ انہوں نے کہا تین سال والے ہمارا کیا احتساب کریں گے۔ تین سال والوں میں آرمی چیف اور چیف جسٹس شامل ہیں۔ ہو نہ ہو ان کا مخاطب یہ دونوں ہیں یا پھر کوئی ایک۔ تین سال والے تو اس ملک میں اور بھی بے شمار ہوں گے مگر کوئی تیسرا شخص قطعی طور پر ان کا مخاطب نہیں ہو سکتا۔ اس بیان کی گونج ابھی فضاؤں میں موجود ہی تھی کہ آصف زرداری نے یہ ذومعنی جملہ ادا کیا کہ انہیں قبل ازوقت انتخابات کا اشارہ ملا ہے۔ وہ موجودہ حکومت کو رخصت کرکے ملک بھر میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے۔ ماضی میں تین سال والا کوئی شخص ہی اشارے کنائے کرنے کیلئے مشہور ہوتا تھا مگر اس بار ایسے حالات موجود نہیں۔ ابھی تو حکومت کو قائم ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں کہ اشاروں تک بات پہنچ جائے۔ آصف زرداری کی اشارے کی بات عمران خان کے امپائر کی اُنگلی سے ملتی جلتی ہے۔ امپائر کی اُنگلی کو اشارے کے معنوں میں ہی لیا گیا تھا اور اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں اسے غیر جمہوری جملہ کہہ کر مذمت کر رہے تھے۔ اب یہی جملہ آصف زرداری نے دوسرے انداز سے دہرایا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آصف زرداری ’’پوچھنے میں کیا حرج ہے‘‘ کے انداز میں تین سال والوں کو پیشکش کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ عمران خان سے مایوس ہو چکے ہیں تو ہمیں آزما لیں۔ حد تو یہ کہ ابھی ملک جنرل مشرف، آصف زرداری اور نوازشریف کی آزمائشی تجربوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ ایسی کون سی اُفتاد آن پڑی ہے کہ انہی کی آزمائشوں کا ملبہ اُٹھانے کیلئے پھر انہی کی خدمات حاصل کی جائیں۔ آصف زرداری کے اشاروں والی بات سے کچھ ہی عرصہ پہلے مسلم لیگ کے راہنما رانا ثناء اللہ نے ملک میں قومی حکومت کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ موجودہ حکومت ملکی حالات کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے اسلئے مسائل کے حل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا کہ حکومت کے ناکام ہو جانے کی باتیں عام ہونے لگی تھیں۔ اس دوران مڈٹرم انتخابات کی باتیںبھی ہونے لگیں۔ مڈٹرم انتخابات بلکہ اس اصطلاح کے استعمال کیلئے مدت کا وسط ہونا بھی ضروری تھا ۔یہاں مدت کی وسط کا مرحلہ تو ڈھائی سال بعد آئے گا مگر باتیں پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں ۔اس سلسلے میں ایک نیا اضافہ رانا ثناء اللہ کی قومی حکومت کی تجویز تھی ۔ابھی تک یہ انداز ہ نہیں کہ یہ ان کی پارٹی کی تجویز ہے یا رانا ثناء اللہ کی ذاتی خواہش اور فرمائش ہے۔قومی حکومت کی باتیں پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ چمٹاہوا وہ بھوت ہے جو ماضی کی سیاسی حکومتوں کو ڈراتا رہا ہے یا ڈرانے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔آج ملک میں ایک جمہوری حکومت ہے اور رانا ثناء اللہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کر رہے ہیں اور یوں وہ اور ان کی جماعت راولپنڈی سے ایک فاصلے ہی نہیں مخاصمت کے ماحول میں کھڑی ہے ،ایسے میں قومی حکومت کی تجویز کے ڈانڈے اس کے روایتی ماخذ اور منبع سے جوڑے نہیں جاسکتے ۔بس یوں لگتا ہے کہ یہ رانا ثناء اللہ کی اپنی تجویز ہے جو چل گئی تو ٹھیک وگرنہ تجویز پیش کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟۔دلچسپ بات یہ کہ جس دور میں قومی حکومت کی تجویز سامنے آتی تھی تو حکومت کا موقف ہوتا کہ حکومت وقت چونکہ عوام کی منتخب کردہ ہے اس لئے وہی قومی حکومت کے معیار اور تعریف پر پورا اترتی ہے اور وہی عوام اور قوم کے اجماع اور اعتماد کی مظہر ہے ۔اس کے سوا حکومت کا کوئی دوسرا انداز قطعی قومی کہلانے کا مستحق نہیں کہلا سکتا ۔خدا جانے اب معیار کیسے بدل گیا کہ اپنی حکومتوں کو قومی کہنے اور قومی حکومت کی تجویز پیش کرنے والوں کو کسی کا ایجنٹ کہنے والے خود قومی حکومت کی باتیں کرنے لگے ہیں ۔ امپائر کی اُنگلی کو غیر جمہوری جملہ کہنے والے برسرعام اشارے ملنے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔اسی کو کہتے ہیں ’’تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا‘‘۔اگر ماضی قریب کی دو حکومتوں کے دوران قومی حکومت کا قیام ناجائز تھا تو اب یہ کس طرح جائز ہوگیا۔حقیقت میں ملک کے حالات پہلے بھی ایسے تھے جیسے آج ہیں ۔آج کم ازکم اتناتو ہے اسلام آباد اور راولپنڈی میں کشمکش نہیں اس وقت تو ملک کے اداروں کی سمت اور راستے الگ ہوتے تھے جس سے سیکورٹی کی خطرناک صورت حال بھی پیدا ہو رہی تھی ۔بیرونی طاقتوں کو اس کشمکش میں اپنا کھیل کھیلنے کا موقع بھی ملتا تھا ۔جمہوری حکومتوں کی اصلاح کرکے ہی ان کو بہتر بنانا جمہوریت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے ۔اس درخت کو محض اس بنا پر کاٹ پھینکنا قرین انصاف نہیں ہوتا کہ یہ اس بار کسی اور کے صحن میں سایہ دیتا اور پھل گراتا ہے۔

متعلقہ خبریں