Daily Mashriq

کشمیریوں کی نسل کشی پر اقوام عالم کی مجرمانہ خاموشی

کشمیریوں کی نسل کشی پر اقوام عالم کی مجرمانہ خاموشی

ریاست جموں وکشمیر کے بھارت کے زیرتسلط حصہ میں ریاستی دہشتگردی کی حالیہ لہر کے دوران پچھلے ایک ماہ میں 113افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق 284افراد کو بھارتی سیکورٹی فورسز نے ہراست میں لیا، ان میں 7خواتین اور 2بچے بھی شامل ہیں۔ سوموار کے روز بھارتی مظالم کیخلاف ریاست گیر ہڑتال کے دوسرے دن قابض فوج نے سری نگر سمیت متعدد علاقوں میں احتجاج کرنے والوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی آرمی چیف کہتے ہیں میں نے فوجیوں کو حکم دیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے پتھر کے جواب میں گولی چلائی جائے۔ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کی مذمت کی۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وحشیانہ تشدد اور گولیاں نہتے آزادی پسندوں کو کبھی نہیں جھکا سکیں گی۔ سوموار کو بھارتی آرمی چیف نے الزام لگایا کہ پاکستان کشمیریوں کو اُکسا رہا ہے۔ کشمیری حریت پسند مقبول بٹ کو 1984ء میں دی گئی پھانسی کے بعد شروع ہونے والی جدوجہد آزادی کے پچھلے 34سالوں کے دوران بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 80ہزار سے زائد کشمیری مرد وزن اور بچے حق خودارادیت پر قربان ہوئے۔ 50ہزار سے زیادہ شدید زخمی اور 7ہزار معذور ہوگئے۔ تقریباً ساڑھے تین دہائیوں کے دوران بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اجتماعی عصمت دری کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد 500 سے زیادہ ہے۔ ان میں سے 467کیس پولیس رپورٹ اور میڈیا کے ذریعہ منظرعام پر آئے جبکہ حریت کانفرنس کی رواں سال ستمبر میں جاری کی جانے والی جائزہ رپورٹ کے مطابق عصمت دری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے باسیوں کے حق خودارادیت کیلئے عالمی طاقتوں اور اداروں نے جس پُرجوش انداز میں بھرپور کردار ادا کیا اس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ اقوام عالم کی قیادت پر قابض سرمایہ دار ممالک ہوں یا نام نہاد عالمی ادارے ان کے نزدیک مسلمانوں کے شہری‘ انسانی حقوق ہوتے ہیں نا انہیں حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کا حق ہے۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی افسوسناک صورتحال اس کا زندہ ثبوت ہے۔ پچھلے دنوں امریکی حکام نے مذہبی آزادیوں میں عدم توازن اور اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ کے معاملے کو لیکر پاکستان کو بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس امریکی اقدام کے بعد مسلم دنیا کے اہل دانش نے یہ سوال اُٹھایا کہ امریکہ کو عدم مذہبی رواداری اور اقلیتوں سے نامناسب برتاؤ کے حوالے سے بھارت اور اسرائیل کا سامراجی طرزعمل کیوں دکھائی نہیں دیتا؟۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی حالیہ لہر پر اقوام عالم کی خاموشی ہمیشہ کی طرح سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ جوں جوں بھارت کی مرکزی اسمبلی کے چناؤ قریب آرہے ہیں مقبوضہ کشمیر میں بربریت اور بھارت کے اندر مذہبی اقلیتوں کیخلاف انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکار ماضی کی طرح اس بار بھی انتخابی عمل کو اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا کے نام پر یرغمال بنا کر من پسند نجات کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔ کشمیری ریاست کے بھارت کے زیرتسلط حصے میں بھارتی فورسز کی بربریت اور کشمیریوں کی نسل کشی سے ایسا لگتا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کا علاج آبادی میں عدم توازن سے کرنا چاہتی ہے۔ ان حالات میں عالمی طاقتوں اور اداروں سے کیا شکوہ کیا جائے خود مسلم دنیا بھی خواب غفلت کا شکار ہے۔ بھارت سے مستحکم تجارتی روابط نے مسلم دنیا کی زبان اور آنکھیں بند کروائی ہیں۔ یمن میں مسلم کشی کے ذمہ داروں سے گو کوئی توقع عبث ہے لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کشمیریوں کی تحریک حریت کے معاملے میں اسلامی دنیا کے مجرمانہ طرزعمل کا نقصان خود مسلم دنیا کو ہوگا۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران بھارت کے زیرقبضہ کشمیر میں جو حالات ہیں ان پر پاکستانی ریاست اور عوام کی تشویش فطری ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی قیادت کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ میں کئے جانے والے وعدوں کی پاسداری کی بجائے سامراجی ذہنیت اور ریاستی دہشتگردی کے مظاہرے میں کیوں مصروف ہے؟ بظاہر اس سوال کا جواب یہی ہے کہ تھانیدارانہ ذہنیت اور ہندوتوا کے تعصب کا شکار موجودہ بھارتی قیادت مسلمانوں کے خون کو اپنی سیاسی کامیابی اور اگلی مدت کی حکمرانی کی ضمانت سمجھتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ انسانی حقوق اور آزادیوں کے عالمی ٹھیکیداروں کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں عالمی طاقتوں اور اداروں کی بجائے شرف انسانیت کی علمبردار انسان دوست قوتوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ریاستوں کے سیاسی ومعاشی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی پر آواز بلند کریں تاکہ بھارتی بربریت ختم ہو اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کا موقع ملے۔

متعلقہ خبریں