Daily Mashriq

 پناہ گزینوں کو قبول کیجئے

پناہ گزینوں کو قبول کیجئے

دنیا بھر میں تقریباً اڑھائی کروڑ افراد ایسے ہیں جو اپنے وطنِ پیدائش سے دوردوسرے ممالک میں زندگی گزاررہے ہیں۔ اس تعداد کا تقریباً دس فیصد حصہ اُن تارکینِ وطن پر مشتمل ہے جو جنگ اور موت کے خطرات کے باعث دوسرے ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ عالمی قوانین کے مطابق ایسے تارکین وطن کو زبردستی ان کے وطن واپس بھیجناایک جُرم ہے۔ ان پناہ گزین افراد میں سے تقریباً چودہ لاکھ افغانی ہیں جو ایک طویل عرصے سے پاکستان میں پناہ گزین ہیں جبکہ پاکستان میں موجود افغان شہریوں کی کُل تعداد تیس لاکھ کے قریب ہے۔ عالمی سطح پر ایک اس بڑھتی نقل مکانی کے پیشِ نظر حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک معاہدہ ترتیب دیا گیا۔ یہ معاہدہ اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ عالمی سطح پر حکومتوں کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ تارکینِ وطن کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے کام کریں اور انہیں باحفاظت ان کے ممالک میں واپس بھجوانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کے قیام کے دوران ان کے حقوق کا تحفظ کو یقینی بنائیں ۔یہ معاہدہ ایسے افراد کی بہتر میزبانی،انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقلِ مکانی کی رو ک تھام پر زور دیتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور چند ایک مشرقی یورپی ممالک نے اس معاہدے میں شریک ہونے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ یہ معاہدہ ان کی ملکی خود مختاری پر قدغن لگانے کے مترادف ہے اور وہ اپنی سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی بیرونی ہدایات قبول نہیں کر سکتے جبکہ یہ وہی ممالک ہیں جنہوں نے اندرونی طور پر ان تارکینِ وطن کو ایک خطرے کی علامت کے طور پر پیش کر کے کئی سیاسی فائدے حاصل کیے ہیں۔ اس معاہدے کا ایک بنیادی مقصد تارکینِ وطن کی اپنے بچوں سے جدائی جیسی مشکلات اور غموں کو کم کرنا ہے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں موجود تارکینِ وطن کا تقریباً پچاسی فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں مقیم ہے اور ان ممالک میں ترکی،پاکستان لبنان اور اُردن صفِ اول میں شامل ہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں پر مقیم تارکینِ وطن اپنے گھروں سے دور ایک طویل عرصہ گزار چکے ہیں۔ پاکستان اس کی موزوں ترین مثال ہے جہاں پر افغان مہاجرین کو رہتے چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔وقت آچکا ہے کہ اب عالمی برادری اس سنگین تر ہوتے مسئلے پر غفلت کی نیند ترک کر کے ان لوگوں کے لیے آسان اور قانونی ذرائع کے مطابق ان کی محفوظ واپسی کی راہیں ہموار کرے۔ماضی میں کئی سالوں تک دنیا میں سب سے زیادہ تارکینِ وطن کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعثِ افتخار رہا ہے البتہ گزشتہ چند سالوں میں یہ اعزاز بھی دہشت گردی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کی بھینٹ چڑھ گیا اور سیاسی مفادات کی خاطِر افغان مہاجرین کو ملک ْمیں جرائم اور داخلی انتہا پسندی کا سبب گردانا جانے لگا۔پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی جانب سے پاکستان میں مقیم تقریباً پندرہ لاکھ افغان مہا جرین کو شہریت دینے کی تجویز نہایت خوش آئند ہے۔ یہ فیصلہ اس مسئلے سے متعلق عالمی سطح پر اپنائی گئی مجرمانہ خاموشی اوربرتی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک مثبت قدم ہے ، یہ اُن افراد کی داد رسی کا سبب ہو سکتا ہے جو بدقسمتی سے اپنے گھروں کو لوٹ نہیں پاتے اور ان کے لیے یہ میزبان ممالک ہی گھر کی سی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔پاکستان کے چند داخلی سیاسی عناصر افغان مہاجرین کو فوری طور پر شہریت دینے کی حمایت نہیں کرتے اور اس تجویز کو بھی سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس تجویز کے مخالفین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ ان افغان پناہ گزین جو بنیادی طور پر پختون ہی ہیں کو شہریت دے دینے سے کراچی اور کوئٹہ جیسے شہروں میںسیاسی طور پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جہاں پر پہلے ہی پختون قومیت لسانی اور نسلی طور پر مختلف تنازعات کا شکار ہے۔ مزید برآں خیبر پختونخوا جیسے صوبے جہاں افغان مہاجرین کی اکثریت قیام پذیر ہے کو اس فیصلے کے بعد وسائل کی تقسیم کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہی خدشات کے باعث یہ مسئلہ اب تک جوں کا توں ہے البتہ وزیرِ اعظم عمران خان اس مسئلے کو عمدگی سے حل کر کے اقوامِ عالم میں ایک اعلیٰ مثال قائم کر سکتے ہیں۔یہ اقدام پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی اہداف کے حصول کے قریب تر لے جائے گا مگر اس مسئلے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو افغان مسئلے کے حل کے لیے بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔ان تمام باتوں سے قطع نظر پاکستان کو یہ بات بھی سمجھنا ہوگی کہ افغانستان میں امن آئے یا نہ آئے، افغانیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں ہی رہے گی، یہ افغان مہاجرین کی وہ نسل ہے جس نے یہیں آنکھیں کھولیں، یہیں پلی بڑھیں اور جنہیں دری یا پشتو کی بجائے اُردو اور انگریزی میں تعلیم دی گئی۔ یہ نسل پاکستان کی معیشت میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ البتہ پاکستان کے اپنے مفاد کی خاطر ہم اُمید کرتے ہیں کہ اب کی بار وزیرِ اعظم کا وعدہ ایفا ہو پائے گا۔

(بشکریہ: ڈان، تر جمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں