Daily Mashriq

بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی یکجہتی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2005 میں منظور کی جانے والی ایک قرار داد کے مطابق یہ دن ہر سال دسمبر کے مہینے کی 20 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ جس میں اس موضوع پر دھواں دھار تقریریں کی جاتی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔ تصویریں کھنچوائی جاتی ہیں اور پھر

صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے

زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے

کے مصداق 20 دسمبر کا سورج یہ طرفہ تماشا دیکھ کر رات کے اندھیروں میں چھپ جاتاہے ۔ اور پھر اپنے ساتھ دوسرے دن کی صبح لیکر آتا ہے تو صبح کی روپہلی کرنوں کے سارے منظر نامے

قسمیں وعدے پیار وفا سب

باتیں ہیں باتوں کا کیا

کاسچ الاپ رہے ہوتے ہیں۔ دکھی انسانیت سے وابستہ لوگ حسب معمول دو گھونٹ پانی کے لئے کنواں کھودتے نظر آتے ہیں۔ جس طرح وہ20 دسمبر سے پہلے اپنا خون اور پسینہ ایک کرکے کھود رہے ہوتے ہیں۔ چیتھڑے پہنے بچے یوں ہی کچرے کے ڈھیر میں سے اپنا رزق تلاش کرتے نظر آتے ہیں ، جیب کترے اپنا دھندا شروع کردیتے ہیں اور بھک منگے گلیوں اوربازاروں میں اپنے بچوں کی بھوک کا واسطہ دے کر آپ سے بھتہ وصول کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ہر سال 20 دسمبر کو اقوام متحدہ انسانی یکجہتی کا عالمی دن اس لئے مناتی ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں دکھی انسانیت کے ساتھ ہمدردی کرنے کے احساس کو بیدار کیا جاسکے۔ غربت بھوک اور بیماریوں کے خلاف ایک اور صرف ایک ہوکر اس عزم کو تازہ کیا جائے جواقوام متحدہ کی قرار داد میں 2005 کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ہم نے سوچنا ہے کہ کیا یہ اہداف انسانی یکجہتی کا دن منا کر حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔اگر آپ کسی کی بھوک مٹانا چاہتے ہیں تو اس کو ایک وقت کا کھانا کھلا کر اس کا یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اگر وہ ایک وقت سیر ہوکر کھانا کھا بھی لے تو دوسرے وقت بھی تو اس نے کچھ کھانا ہے۔ نہ صرف اس نے بلکہ اس کے زیر کفالت لوگوں نے بھی۔ اور صرف کھانا کھانے ہی سے تو بھوک نہیں مٹتی۔ اگر آپ کو بھوک مٹانے کے حوالے سے انسانی یکجہتی کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس کو اس قابل بنادیں کہ وہ صبح کی معمولات کے دوران اسی قسم کا ناشتہ کرسکے جو ایک کھاتے پیتے خاندان کے افراد کرتے ہیں۔ دودھ ملائی مکھن جام جیلی آملیٹ فرائی اور جانے کیا کچھ چن دیا جاتا ہے کھاتے پیتے گھرانے کے افراد کے دستر خوان پر صرف صبح کے ناشتے میں۔ ناشتے کے بعد سپر لیا جاتا ہے اور پھر لنچ ٹائم ٹی بریک ڈنر۔ یہ سب چونچلے ہمارے ملک کے اسی فی صد لوگ کرتے ہیں ، یہاں بہت سے لوگ کھانے کے لئے جیتے ہیں اور بہت سے، بہت کچھ کھا لینے کے بعد زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں۔

ہمیں انسانی یکجہتی کا دن مناتے وقت بھوک اور بیماری کے خلاف آواز اٹھانے سے پہلے غربت کو ختم کرنا ہوگا، ایک اندازے کے مطابق ہمارے ہاں اسی فی صد لوگ ہاتھوں میں قیمتی موبائل سیٹ تھامے گھومتے پھرتے نظرآتے ہیں ، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں ، ہوٹلوں میں دعوتیں اڑاتے ہیں ، خوشی کے موقع پر تڑا تڑ گولیاں برسا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں ، شادی بیاہ یا اس قبیل کی کسی دوسری خوشی کی تقریب میں ناچنے گانے والوں پر نوٹوں کی بارش کردیتے ہیں ، سوشل سٹیٹس قائم کرنے کے لئے کرنسی نوٹوں بھرے ہار پہناتے ہیں ، جب ہم یہ صورت حال دیکھتے ہیں پکار اٹھتے ہیں کہ کہاں ہے ہمارے غریب ملک میں غربت نام کی کوئی شے ، لیکن اس کا جواب ہمیں فوری طور پر مل جاتا ہے جب ہم عزتیں اور عصمتیں نیلام ہوتی دیکھتے ہیں، جب آئے روزہم غربت کے ہاتھوں خود کشی کرنے والوں کی خبریں پڑ ھتے ہیں ، اگر ہم میں سے پر تعیش زندگی گزارنے والے 80فی صد لوگ خط غربت سے نیچے سسک سسک کر زندگی کی سانسیں گننے والوں کی بھوک اور پیاس کا خیال رکھنے لگیں ، ان کو بیماری سے بچانے کی تدبیر کرنے لگیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم وطن عزیز سے غربت نامی لعنت کو جڑ سے نہ اکھاڑ پھینک سکیںتعلیمات اسلام نے تو ہمیں اس بات کی بھی تنبیہہ کی ہے کہ اگر کسی رات کسی کا کوئی ہمسایہ بھوکا سو گیا تو اس کے بارے میں وہ جواب دہ ہوگا جو رات پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد نیند کی آغوش میں چلا گیا

رکھئے بہت خیال حقوق العباد کا

دینا پڑے گا حق وہاں سب حساب کا

میں موبائیل مارکیٹوں میں ہی نہیں ہر مارکیٹ میں خریداروں کی بھیڑ دیکھ کر سوچنے لگتا ہوں کہ کہاں ہے ہمارے اس دیس میں غربت اور اگر ہے تو ان ہی کی وجہ سے ہے جو مہنگائی کا رونا رونے کے باوجود ہر قیمت پر اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے علاوہ پر تعیش زندگی گزارنے کے لئے دھن دولت لٹانے کی تمام حدود پھلانگ جانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، اگر ان کے دل میں انسانی یکجہتی کے جذبات جاگ جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے معاشرے سے غربت اور غربت کی وجہ سے پیدا ہونے والے جرائم اور برائیوں کو ختم نہ کرسکیں ۔

بیچ سڑک اک لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھا

بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

متعلقہ خبریں